اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

راشد عباسی کی نظمیں: ناسٹیلجیائی پڑھت

Picsart 25 11 26 10 06 08 406

راشد عباسی کی نظمیں: ناسٹیلجیائی پڑھت

وقت ایک ندی کی طرح بہتا چلا جاتا ہے، لیکن اس کے کناروں پر ٹھہرے ہوئے نقوش اپنی چمک طویل عرصے تک برقرار رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ ان نقوش کو محض یاد کے عکس کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ ان میں اپنی اصل اور وجود کی تلاش کرتے ہیں۔ راشد عباسی بھی انہی شعرا میں سے ہیں جن کے لیے ماضی محض جمالیاتی یا رومانی کیفیت نہیں بلکہ ایک گہرا روحانی مکالمہ ہے۔ ان کی نظموں میں یادیں دُھند کی مانند پھیلتی ہیں لیکن اس دُھند میں ایک ٹھہری ہوئی لطیف روشنی موجود رہتی ہے جو انسان کو اپنے باطن کی طرف واپس لے جاتی ہے۔

IMG 20250922 WA0167 4 1
راشد عباسی کی شاعری میں لطافت، خودکلامی اور تہذیبی اداسی کی ایک مستقل لَے سنائی دیتی ہے۔ وہ بلند آواز میں نہیں بولتے بلکہ خاموشی کے اندر اپنی بات رکھ دیتے ہیں۔ ان کے ہاں الفاظ شور کیے بغیر سانس لیتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ یہی سانس ان کی نظموں کو داخلی زندگی عطا کرتے ہیں۔ ان کے نظمیہ مجموعے ”جہانِ ابد“ میں شامل تین نظمیں ”یادیں، خواب، خیال“، ”انقلابِ زمانہ“ اور ”مہلت“ اسی خاموش لیکن گہرے مکالمے کی تین مختلف جہتیں آشکار کرتی ہیں:

راشد عباسی کی نظم ”یادیں، خواب، خیال“ ملاحظہ ہو:

گاؤں سے ذرا باہر
سائے میں درختوں کے
سبزے کا حسیں مخمل
چڑیوں کی وہ چہکاریں
پھولوں کی وہ مہکاریں
کچھ گیت تھے ساحر کے
کچھ فیض کی نظمیں تھیں
اقبال کی، غالب کی
جادو بھری غزلیں تھیں
پھر ایسی فضا میں یوں
اک دن کا گزرنا کیا
اک عمر گزر جائے
یاد آتے ہیں اب ہم کو
سب یار پرانے بھی
بے فکر زمانے بھی
خاموش فضاؤں میں
بجتی ہوئی بانسریا
وہ راستے، وہ پنگھٹ
اک نار، وہ گاگریا
اب خود سے جدا ہو کر
ہم سوچتے ہیں اکثر
کیا کھویا ہے، کیا پایا
بس یادیں ہیں سرمایہ
اب شہر کے میلے میں
بے درد جھمیلے میں
ہم بھیڑ کا حصہ ہیں
بے نام سا قصہ ہیں

یہ نظم محض منظر نگاری کا عمل نہیں بلکہ دل کی ایک مضمحل خاموشی اور سکون کی جستجو کا بیان ہے۔ راشد عباسی کے لیے گاؤں کوئی جغرافیائی وجود نہیں بلکہ داخلی ہم آہنگی (Inner Harmony) کی علامت ہے۔ اس نظم میں سبزہ، پھول اور چڑیوں کی صدائیں اس ازلی توازن کی یاد دلاتی ہیں جسے انسان نے فطرت کے ساتھ کسی زمانے میں محسوس کیا تھا۔ مارٹن ہائیڈیگر(Martin Heidegger) کے نزدیک انسان ”Being in time“ یعنی وقت کے بہاؤ میں موجود ایک وجود ہے۔ ایک ایسا وجود جو اپنی شناخت اسی وقت دریافت کرتا ہے جب وہ اپنے تجربات کے تسلسل کو سمجھنے لگتا ہے۔ راشد عباسی کے لیے گاؤں اور بچپن کی یادیں صرف بیتے ہوئے دنوں کا حوالہ نہیں بلکہ وجود کی وہ پہلی بنیاد ہیں جہاں انسان نے پہلی بار اپنے ”ہونے“ کا یقین محسوس کیا۔
اس پس منظر میں ناسٹیلجیا ماضی کی طرف فرار کا عمل نہیں بنتا بلکہ خود شناسی کی طرف واپسی کا راستہ بن جاتا ہے۔ راشد عباسی گاؤں کی یاد کو صرف ایک دور کی تصویر کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ اسے اپنے باطن تک رسائی کا زینہ بناتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یاد، خواب اور خیال ایک داخلی وحدت میں ڈھل کر شعور کے اندر ایک نئے انکشاف کو جنم دیتے ہیں۔

راشد عباسی کی نظم ”انقلابِ زمانہ“ وقت کے بدلتے ہوئے رجحانات کی المیہ داستان پیش کرتی ہے:

ہائے کیا زمانہ تھا
وقت کے دریچوں میں
آ کے زندگی اکثر
خواہشوں کے، خوابوں کے
وصل کی نویدوں کے
پھول چھوڑ جاتی تھی
اپنے اک اشارے پر
وقت، زندگی، موسم
سجدہ ریز ہوتے تھے
اب مگر یہ عالم ہے
فالتو سی شے ہیں ہم
وقت جب بھی کہتا ہے
اُس کے اک اشارے پر
زندگی کہیں رکھ کر
ہم کو، بھول جاتی ہے۔۔۔۔

یہ نظم ماضی کے سکون اور حال کی بے چینی کے درمیان فاصلے کو نمایاں کرتی ہے۔ راشد عباسی کے لہجے میں ناسٹیلجیائی کسک تو ہے لیکن اس میں ہزیمت یا بے بسی نہیں بلکہ شعور اور ادراک نمایاں ہے۔ وہ اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ کہ وقت صرف گزرتا نہیں بلکہ انسان پر اپنی بالادستی بھی قائم کرتا ہے۔ والٹر بینجمن (Walter Benjamin) کے نزدیک جدید انسان کا المیہ یہی ہے کہ وقت آگے بڑھتا ہے لیکن معنی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یعنی انسانی تجربے وقت کی رفتار کے ساتھ نہیں چل پاتے۔ راشد عباسی کے ہاں یہی احساس پوری شدت سے ابھر کر سامنے آتا ہے۔ وقت اور تاریخ کی یہ خود مختاری دراصل اسی وجودی اضطراب (Existential Anxiety) کا نچوڑ ہے جو جدید انسان کو اپنے وجود میں ایک خالی پن اور بے محل ہونے کا احساس دلاتی ہے۔
یہاں یاد ایک خاموش لیکن بھرپور احتجاج کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ احتجاج ایک ایسی باطنی فریاد ہے جو جدید زندگی کے شور کے اندر سے اُبھرتی ہے لیکن بہ ظاہر ہنگامہ پیدا نہیں کرتی۔ راشد عباسی نے اس احساس کو اس طرح بیان کیا ہے کہ دنیا کی تیز رفتاری نے انسان کو رشتوں سے، جذبات سے اور آخرکار خود اپنی ذات سے جدا کر دیا ہے۔ یہ نظم اجتماعی المیہ کی عکاس ہے۔ وہ المیہ جو ہر اُس انسان پر گزرتا ہے جو اپنی روحانی اصل سے کٹ گیا ہو۔

راشد عباسی کی تیسری نظم ”مہلت“ لمحے کی بازیافت کا خواب پیش کرتی ہے:

وحشتِ دل فقط ایک لمحہ ٹھہر
میں ٹٹولوں ذرا دل کی زنبیل کو
اس میں رکھے تھے میں نے گئے دن کہیں
قرب کے، سرخوشی، شادمانی کے دن
وہ جوانی کے دن
کچھ تمنائیں، کچھ حسرتیں، خواب بھی
اُس کی تصویریں، جن میں تھیں نایاب بھی
کتنی یادیں تھیں ہم نے سنبھالی کہیں
اُس کے ہاتھوں کے لکھے ہوئے خط بھی تھے
اور ورق، وہ جو بھیجے تھے خالی، کہیں
وحشت دل ذرا ایک لمحہ ٹھہر
چشم نم سے ہٹے پردۂ اشک تو
پھر تسلی سے وہ خال و خد دیکھ لوں
ایک پل میں ازل اور ابد دیکھ لوں۔۔۔

یہ نظم وقت کے سامنے ایک التماس ہے۔ راشد عباسی وقت کے خلاف جدوجہد نہیں کرتے بلکہ اس سے صرف تھوڑے سے توقف کی التجا کرتے ہیں۔ ہنری برگساں (Henri Bergson) کے نزدیک وقت کوئی جامد یا خارجی اکائی نہیں بلکہ شعور کے اندر جاری ایک داخلی بہاؤ (Duration) ہے۔ اسی نظریے کے شاعر ہونے کے ناطے، راشد عباسی کے ہاں وقت بیرونی شے نہیں بلکہ انسانی شعور کا تسلسل ہے۔ انھیں ادراک ہے کہ لمحے واپس نہیں آ سکتے لیکن ان کی بازگشت دل میں زندہ رہتی ہے اور یہی بازگشت ان کی شاعری کو گہرائی اور معنویت عطا کرتی ہے۔
”مہلت“ میں یاد کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک تخلیقی عمل ہے۔ راشد عباسی لمحے کو یاد کے اندر محفوظ کرتے ہیں جیسے کوئی خوشبو آہستہ آہستہ کپڑے میں جذب ہو جائے۔ اس نظم کا لہجہ مکمل طور پر داخلی ہے لیکن اس کی معنویت عالمی ہے۔ یعنی یہ وسیع انسانی تجربے کی بازگشت ہے۔ ہر انسان کے اندر یہی خواہش زندہ رہتی ہے کہ لمحہ تھم جائے تاکہ احساس برقرار رہے اور جو محسوس ہو رہا ہے وہ تحلیل نہ ہو۔ یہ نظم اسی خواہش کی فکری جذباتی صورت گری ہے۔

اردو شاعری میں یاد کے موضوع کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی اور ہر شاعر نے اسے اپنی دنیا کے مطابق محسوس کیا ہے۔ میر تقی میرؔ کے ہاں یاد ایک ذاتی کرب کی صورت اختیار کرتی ہے۔ غالبؔ کے ہاں یہ ایک فلسفیانہ تجسس میں ڈھل جاتی ہے۔ ناصر کاظمیؔ کے ہاں یاد جدید انسان کی تنہائی اور خلوت کا استعارہ بن جاتی ہے۔ راشد عباسی ان تمام روایتوں کا تسلسل بھی ہیں اور ان سے انحراف بھی رکھتے ہیں۔ میرؔ کے برعکس وہ ماضی میں قید نہیں رہتے بلکہ اس سے مکالمہ کرتے ہیں۔ غالبؔ کے برعکس، ان کے ہاں فلسفہ مجرد نہیں بلکہ محسوس اور جیتی جاگتی حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ ناصر کاظمیؔ کے برعکس، راشد عباسی کے ہاں یاد میں امید کی مدھم روشنی باقی رہتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ راشد عباسی کے ہاں ناسٹیلجیا صرف تجربے کا جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ وجود کی اخلاقی اور فکری جستجو بھی ہے۔

راشد عباسی کی نظموں میں زبان ایک لطافت اور تہذیبی لطافت کے ساتھ بہتی ہے۔ چھوٹے مصرعے ہونے کے باوجود ان میں سانس کی پُرسکون لَے موجود رہتی ہے جو نظموں کو داخلی روانی عطا کرتی ہے۔ سبز مخمل، درختوں کی چھاؤں، بانسری کی بازگشت، چڑیوں کی چہکار، گاؤں کا راستہ اور میلے کی بھیڑ؛ یہ سب تصویری عناصر مل کر ایک ایسا متضاد منظرنامہ تخلیق کرتے ہیں جس میں ماضی کا سکون اور حال کی بے چینی آمنے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ راشد عباسی کے ہاں تصویریں محض مناظر کی تفصیل نہیں بلکہ گہری وجودی علامتیں ہیں جو انسان کی داخلی تاریخ کو منوّر کرتی ہیں اور قاری کو یاد اور وقت کے درمیان غیر محسوس کشمکش میں شریک کر دیتی ہیں۔ یہی شعوری کشمکش ان کی نظموں کو محض یاد کی جذباتی بازگشت نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے تجربے کی سطح تک پہنچا دیتی ہے۔

مارسل پروست (Marcel Proust) کے نزدیک یاد ماضی کی بازیافت نہیں بلکہ احساس کی از سرِ نو بیداری ہے۔ یہی تصور راشد عباسی کی شعری کائنات میں فکری بنیاد کے طور پر جلوہ گر ہوتا ہے۔ ان کے ہاں یاد کسی جامد نقش کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک تجربہ ہےجو وقت کے بہاؤ میں نئی معنوی تہیں پیدا کرتا ہے۔ راشد عباسی کے ہاں ماضی کوئی پناہ گاہ نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جس میں ذات اپنی اصل کو پہچانتی اور شناخت کے خدوخال دریافت کرتی ہے۔ ان کے ہاں ناسٹیلجیائی اداسی ضرور ہے لیکن شکست یا گریز نہیں ہے۔ اس کے پیچھے وہ شعوری یقین کارفرما ہے کہ وقت کا بہاؤ جاری رہتا ہے لیکن احساس ٹھہرا رہتا ہے۔ یعنی وقت بدل جاتا ہے لیکن اپنی معنویت برقرار رکھتا ہے۔ راشد عباسی کی نظموں میں یاد ایک وجودی استعارہ (Existential Metaphor) بن کر سامنے آتی ہے جو انسان کو اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ شناخت محض حال کی عطا نہیں بلکہ گزرے ہوئے لمحات کی تہہ در تہہ پرتوں میں بھی محفوظ رہتی ہے۔ یوں ان کی نظمیں یہ مفہوم آشکار کرتی ہیں کہ یاد ماضی کی اسیری نہیں بلکہ روح کی بازیافت ہے اور شاید یہی بازیافت وہ ”مہلت“ ہے جس کی آرزو ہر دل میں خاموشی سے سانس لیتی رہتی ہے۔

راشد عباسی کی شاعری میں وقت، یاد اور خودی؛ تینوں ایک مثلث کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کی نظمیں یہ باور کراتی ہیں کہ ماضی محض گزرا ہوا زمانہ نہیں بلکہ وجود کی زبان ہے جسے سمجھنا دراصل خود کو سمجھنے کے مترادف ہے۔ جب کوئی شاعر اس سطح پر اپنے ماضی سے مکالمہ کرتا ہے تو اس کی نظم صرف ادبی اظہار نہیں رہتی بلکہ وجدان اور شعوری تجربے کی عکاس بن جاتی ہے جو قاری کو بھی اپنی داخلی تاریخ کے شعور سے روشناس کراتی ہے۔

ڈاکٹر حسنین ساحر
بھارہ کہو، اسلام آباد


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (1) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481

Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (1) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481