اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

12ویں قسط، میں نے دکھ کو طاقت کیسے بنایا؟

IMG 20250721 WA0150

محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی۔ میں نے دکھ کو طاقت کیسے بنایا؟

(بارہویں قسط)

ہمارے سکول کے دور میں اخبارات، رسائل اور ہفتہ وار میگزین کے علاوہ ڈائجسٹ بھی بڑی تعداد میں چھپتے اور شوق سے پڑھے جاتے تھے۔ ان میں سسپنس، جاسوسی، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سب رنگ، شعاع، خواتین، پاکیزہ، آداب عرض، وغیرہ اپنے معیار کی وجہ سے مقبول و معروف تھے۔ اکثر اخبار فروش سائیکل پر اخبار کی ترسیل کرتے تھے۔ صبح کی نماز پڑھ کر جب ہم مسجد سے نکلتے تو اخبار فروشوں کی سائیکلوں کی گھنٹیاں تقریبا ہر گلی میں سنائی دیتیں۔ دراصل اخبار فروش گھروں میں اخبار پھینک کر گھر کی گھنٹی بجانے کے بجائے سائیکل کی گھنٹی بجا کر مطلع کرتے تھے کہ اخبار کی ترسیل ہو چکی ہے۔ بچوں کے رسائل بھی کافی تعداد میں چھپتے تھے جنھیں اخبار فروش مہینے کے آغاز میں بڑے سلیقے سے سائیکل کے آگے سجاتے تھے تاکہ بچوں کی ان پر آسانی سے نظر پڑے اور وہ والدین سے ان کے خریدنے پر اصرار کریں۔ رسائل کے ساتھ ساتھ ڈائجسٹ بھی سائیکل پر سجے ہوتے اور گھروں میں اخبار کی ترسیل کے بعد اخبار فروش کسی چوک یا مرکزی جگہ پر سائیکل کھڑی کر دیتا تاکہ آتے جاتے لوگ اپنی مرضی کا اخبار، ڈائجسٹ یا رسالہ خرید لیں۔ کئی جگہوں پر تو اخبار فروش پورا بک سینٹر سڑک کنارے سجا دیتے، جہاں خریداروں کے علاوہ ونڈو شاپنگ کرنے والوں کا بھی رش لگا رہتا۔

ہم لوگ آٹھویں جماعت میں تھے جب موسم سرما کی تعطیلات کے لیے سکول بند ہوئے اور ہم راولپنڈی آ گئے۔ والد صاحب کا صادق آباد چوک (چراہ چوک)، راولپنڈی میں کریانہ سٹور تھا، جس کے بالکل سامنے لکی بک سینٹر تھا۔ تھوڑے ہی عرصے میں یوسف بھائی سے دوستی ہو گئی۔ میں اکثر شاعری کی کتابیں خریدتا تھا لیکن کبھی یوں بھی ہوتا کہ کوئی کتاب یا ڈائجسٹ اپنی دکان پر لے جاتا اور تھوڑی دیر پڑھ کر واپس کر دیتا۔ ایک دن مجھے آداب عرض کے ٹائٹل پر درج شعر پسند آیا تو میں ڈائجسٹ خرید کر لے گیا۔ شاعری کافی معیاری تھی۔ کہانیوں کے علاوہ بھی کئی سلسلے تھے۔ ایک سلسلہ "سوچ نگر” بھی تھا، جس میں لکھنے والے اپنے خیالات اور واردات قلبی لکھ بھیجتے۔ میں نے بھی اللہ کا نام لیا اور اپنی سوچیں قرطاس پر بکھیریں اور ڈاک کے ذریعے خالد بن حامد صاحب کو بھیج دیں۔ اب انتظار شروع ہو گیا کہ کب مہینے کا اختتام ہو اور ڈائجسٹ کا نیا شمارہ شائع ہو۔ ہر ماہ کی بیس یا بائیس کو سسپنس، جاسوسی اور دیگر کچھ ڈائجسٹوں کے نئے شمارے آ جاتے تھے۔ کچھ کہانیاں قسط وار شائع ہوتی تھیں اس لیے ڈائجسٹوں کے قارئین کی نیا شمارہ آنے پر لکی بک سینٹر پر قطاریں لگ جاتی تھیں۔ اخبار کے ہاکر بھی درجنوں ڈائجسٹ روزانہ بیچ دیتے تھے۔ اور یہی حال اشرف بک ایجنسی پر ہول سیل کے خریداروں کا ہوتا تھا۔ آداب عرض اگلے مہینے کی پہلی تاریخوں میں آتا تھا۔ کیونکہ سکول کھل رہے تھے اس لیے مجھے واپس گاؤں جانا تھا۔ جانے سے پہلے میں نے اشرف بک ایجنسی سے آداب عرض کے نئے شمارے کے بارے میں دریافت کیا لیکن نفی میں جواب پا کر مایوسی ہوئی۔ اگلے دن میں واپس گاؤں آ گیا۔ پھر سکول کھل گئے اور پڑھائی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ دو ہفتے بعد پنڈی سے ماموں گاؤں آئے تو میری کچھ چیزیں لے کر آئے جن میں پیلے لفافے میں ملفوف ایک کتاب بھی تھی۔ یہ آداب عرض کا اعزازی شمارہ تھا، جو محترم خالد بن حامد نے عنایت کیا تھا۔ میری تحریر شائع ہو گئی تھی۔ میں نے دوسرے دن ساتھ سکول جانے والے رفقاء کو فردا فردا تحریر دکھائی۔ میری خوشی بیان سے باہر تھی۔ ہم سے اگلی جماعتوں میں پڑھنے والے عزیز دوستوں میں سے مظفر بھائی (المعروف صوفی جی) نے مشورہ دیا کہ اساتذہ کو علم نہ ہو کہ آپ کے پاس ڈائجسٹ ہے کیونکہ ان دنوں ڈائجسٹ اور رسالے پڑھنے کو ہمارے علاقے میں (نہ جانے کیوں) اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ بہرحال میں نے پھر بھی غلام مصطفی فیصل صاحب کو تحریر دکھائی تو خلاف توقع وہ بہت خوش ہوئے اور انھوں نے بہت حوصلہ افزائی کی ۔

آج کے تخلیق کار اس خوشی کا اندازہ نہیں لگا سکتے جو کسی رسالے میں اپنی تحریر دیکھ کر ہوتا تھا۔ ان دنوں "سوشل میڈیا” کے تصور سے بھی کم ہی لوگ آشنا تھے۔ اس لیے ادبی ابلاغ کا ذریعہ رسائل ہی تھے۔ آداب عرض میں ڈائجسٹ ہونے کے باوجود معیاری شاعری شائع ہوتی تھی۔ خالد بن حامد خود بھی ایک تخلیق کار تھے اور آداب عرض کے علاوہ "ماہنامہ چاند” بھی شائع کرتے تھے۔ملک بھر سے طنز و مزاح لکھنے والے چاند کے لیے لکھتے تھے۔

میٹرک کے بعد ہم گورنمنٹ ڈگری کالج مری آ گئے۔ اب آداب عرض میں ہماری شاعری بھی چھپنے لگی اور یہ سلسلہ قائداعظم یونیورسٹی کے دنوں تک جاری رہا۔ پھر بہ سلسلہ ملازمت سعودی عرب جانے کی وجہ سے یہ سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری نہ رہ سکا لیکن کبھی کبھار وہاں سے بھی کوئی تحریر بھیج دیا کرتا تھا۔

پرنٹ میڈیا کے زوال کے اس عہد میں رسائل اور ڈائجسٹ قارئین کی عدم توجہی کے باعث چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار کے مصداق ایک ایک کر کے مرتے رہے اور اب یہاں ہو کا عالم ہے۔

اگر کتاب اور لائبریری کی بات کی جائے تو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بھرمار کے اس دور میں اس ضمن میں دلچسپی رکھنے والے اب نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہو گئے ہیں۔ دیہی علاقے جہاں انٹرنیٹ کے مسائل کی وجہ سے سوشل میڈیا کے استعمال میں مشکلات پیش آتی ہیں وہاں مجبورا لوگ کتاب پڑھ لیتے ہیں ورنہ بدقسمتی سے اب لکھنے والے بھی پڑھنے کا تردد نہیں کرتے۔ اسی لیے اکثر معروف قلم کاروں کی کئی تحریریں زبان حال سے ببانگ دھل کہہ رہی ہوتی ہیں۔۔۔۔۔ "میاں! لکھنے کے بجائے ابھی پڑھنے کی طرف توجہ دیں”۔

(جاری ہے)

راشد عباسی ۔۔ راولپنڈی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (1) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481

Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (1) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481