اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

امجد بٹ : زبان ، تارِیخ اور شعُور کی دریافت

Picsart 25 10 15 00 05 26 634

امجد بٹ : زُبان ، تارِیخ اور شعُور کی دریافت

تحرِیر محض الفاظ کا مُعاملہ نہِیں ؛ یہ اُس روشنی کی تلاش ہے جو اِنسان کے اندر جلتی اور بُجھتی رہتی ہے ۔ کُچھ لوگ کِتابوں ہی میں نہِیں بلکہ خیالات کے اندر سانس لیتے ہیں۔ اُن کے لیے لِکھنا عِلم کا دعویٰ نہِیں بلکہ دریافت کا سفر ہے۔ ایسا سفر جِس میں ہر جُملہ ایک چراغ اور ہر خیال کِسی نئی سمت کا اِشارہ بن جاتا ہے ۔ امجد بٹ اُنہی مسافروں میں سے ہیں جو زبان ، تارِیخ اور شعُور کے پُراسرار راستوں پر اُتر کر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اِنسان آخر کہاں چھُپا ہے؟ اور جواب اُنھیں اپنی ہی زبان کے آئینے میں مِلا۔ مری کے پہاڑوں میں جنم لینے والا یہ شخص خُود ایک بُلندی ہے، جِس پر خاموشی بھی بولتی ہے اور فضا میں فِکر کی بازگشت گُونجتی ہے۔ اِن کی تحرِیر میں پہاڑوں کی وقار بھری تنہائی، ہوا کی شفاف گہرائی اور اندر کی دُنیا سے ہونے والا وہ نِجّی مکالمہ ہے جو کِسی بھی سچّے تخلِیق کار کی پہچان ہوتا ہے۔ شاید یہی امجد بٹ کا جوہر ہے کہ وہ لفظ نہِیں لِکھتے بلکہ اپنے باطن کی خاموش روشنی کو قِرطاس پر اُتارتے ہیں ۔

IMG 20251014 WA0082
امجد بٹ کی عِلمی زِندگی ایک مُسلسل دریافت کا سفر ہے۔ وہ لِسانیات کے ماہر ہیں لیکِن اُن کے نزدِیک زبان محض صوتی نِظام نہِیں بلکہ اِنسانی تجربے کی جڑ ہے۔ وہ عربی، اُردُو، کشمِیری، ڈوگری، پہاڑی اور اسپرانتو میں صرف قواعد ہی نہیں ڈھونڈتے، اِنسان بھی ڈھُونڈتے ہیں۔ اُن کے نزدِیک ہر زبان اپنے بولنے والے کا شعُور، اُس کا دُکھ اور اُس کی دُعا ساتھ لیے پھِرتی ہے۔ جب اُنھوں نے قرآنِ حکیم کے اسپرانتو ترجمے پر نظر ثانی کی اور اُس کی اشاعت کا بِیڑا اُٹھایا تو یہ محض ایک عِلمی کاوش نہیں تھی بلکہ ایک فِکری عہد کی علامت تھی ۔ اِس یقین کے ساتھ کہ اگر قُرآن کا پیغام عالمگیر ہے تو زبان بھی کِسی ایک قوم کی قید میں کیوں رہے؟ شاید یہی اُن کے کام کی اصل معنوِیَت ہے کہ زبان اُن کے ہاتھ میں محض الفاظ کا وسِیلہ نہِیں رہتی بلکہ احساسات کو جوڑنے والی قُوّت بن جاتی ہے ۔

بطور کالم نِگار اُن کی شناخت محض تحقِیق نہِیں، بیداری کی دریافت ہے۔ ”پہاڑ جاگ رہا ہے“ کے عُنوان سے لِکھے گئے اُن کے کالم مری کی فضا میں صِرف احتجاج ہی نہِیں، ایک فِکری اِرتعاش بھی پیدا کرتے ہیں۔ وہ لِکھتے ہیں تو محسُوس ہوتا ہے جیسے کوئی مُعلّم نہِیں، ایک گواہ بول رہا ہو جو برسوں سے پہاڑ کی خاموشی میں چھُپی سچائیوں کو سُنے جا رہا ہے۔ اُن کی نثر میں تحقِیق کی سنجِیدگی کے ساتھ ساتھ جذبے کی حرارت بھی قابلِ مُشاہدہ ہے۔ یہ ایسا اِمتزاج ہے جو اُن کی تحرِیر کو فِکر سے احساس تک لے جاتا ہے۔ امجد بٹ کے نزدِیک تارِیخ بھی دریافت کا مضمُون ہے۔ تارِیخ کے حوالے سے اُن کے مضامِین پڑھتے ہوئے لگتا ہے جیسے وہ محض واقعات نہیں لِکھ رہے بلکہ وقت کے پردے ہٹا کر شناخت کو دیکھنے کی کوشِش کر رہے ہیں۔ اُن کے نزدِیک ماضی کوئی گُزرا ہوا لمحہ نہِیں ہے بلکہ ایک خُود آگہی کی شکل ہے ۔
بطور مُعلّم، امجد بٹ کی حیثِیت ایک فِکری رابطے کی سی ہے۔ پنجاب کے سکُولوں کالجوں اور دُوسرے صُوبوں کی جامعات میں اُن کے لیکچرز محض تدرِیسی سرگرمیاں نہِیں، ذہنی دریافت کی دعوتیں ہیں۔ وہ زبان کو نِصاب کے جُملوں سے نکال کر شعُور کے اُفق تک پہنچاتے ہیں۔ عِلمی مکالموں میں جب وہ اسپرانتو یا قُرآنی تراجم کی بات کرتے ہیں تو گویا عِلم کو حدُود سے آزاد کر دیتے ہیں۔ اُن کی عِلمی تحرِیروں میں”زبانوں کی دُنیا“، ”قرآنِ کریم کی سہ لسانی لغت“ ، ” اِسلام کی اِنقلابی مُعاشیات “ اور ”اُردو، اسپرانتو۔ اسپرانتو، اُردو لُغت“ جیسے موضُوعات دراصل اِنسانی شعُور کی پرتیں کھولتے ہیں۔ وہ زبانوں کے فرق میں نہِیں، اُن کے باہمی مکالمے میں دِلچسپی رکھتے ہیں۔ اُن کے نزدِیک عِلم کی اصل رُوح تواصل اور تفہِیم ہے۔ یعنی وہ لمحہ جب مُختلِف زبانیں اور ذہن ایک دوسرے کو سمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں ۔
ادبی شخصیات پر اُن کے مقالے جیسے ”علامہ مُضطَر عباسی : نادرۂ رُوزگار عالم“ یا ”جمیل یوسف: شہنشاہِ غزل“ صِرف سوانح نہیں بلکہ فِکری مُطالعے ہیں ۔ وہ شخصِیات کو اُن کی تحرِیروں کے پِیچھے چھُپے اِنسانی تجربے کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ اُن کے ہاں تنقِید تاثر سے جنم لیتی ہے، اور تاثر احترام میں ڈھل کر اِظہار پاتا ہے۔ اِس لیے اُن کے جُملوں میں فیصلے کی بجائے احساس بولتا ہے۔ امجد بٹ کی پُوری فِکری کائنات ایک بڑی دریافت کے گِرد گھُومتی ہے اور وہ ہے اِنسان کی لِسانی اصل کی دریافت۔ وہ جہاں کہِیں بھی ہوں، اسپرانتو کی عالمگِیر تحرِیک میں ہوں یا پہاڑی زبان کی تروِیج کے سفر میں ہوں، ایک سوال اُن کے اندر مُسلسل سانس لیتا رہتا ہے ” کیا زبان اِنسان کو ایک دُوسرے سے جُدا کرتی ہے یا اُن کے دِلوں کے درمیان کوئی نادِیدہ رِشتہ بُن دیتی ہے؟ “اور شاید یہی سوال اُن کی زِندگی کی اصل معنوِیَت ہے کہ زبان صرف اِظہار کا وسِیلہ نہِیں، اِنسان کی باطنی پہچان کی صُورت ہے ۔
امجد بٹ کی تحرِیروں میں پہاڑوں کی خاموشی ہے لیکِن وہ خاموشی جو اندر سے روشن ہے ۔ مری کی فضا ، زبانوں کے لہجے اور تارِیخ کے دھُندلے صفحے ؛ سب مِل کر اُن کی نثر میں ایک فِکری منظر بناتے ہیں ۔ وہ لِکھتے ہیں تو یُوں لگتا ہے جیسے روشنی دھِیرے دھِیرے قِرطاس پر اُتر رہی ہو ۔ اُن کے نزدِیک لِکھنا ریاضت ہے ۔ وہ ریاضت جو لفظوں سے نہِیں، یقِین سے جنم لیتی ہے۔ شاید یقین کا یہی لمحہ اُن کی سب سے بڑی دریافت ہے جہاں الفاظ خود معانی بن جاتے ہیں ۔

IMG 20251014 WA0081
امجد بٹ کی کِتاب ”ملکۂ کوہسار مری کے اہلِ قلم“ اُن کی اِسی فِکری روشنی کا عملی اِستعارہ ہے ۔ یہ کِتاب مری کے اہلِ قلم کے تعارُفی مضامِین اور خاکوں پر مُشتمِل ہے ۔ مُحمّد آصِف مِرزا اور شازیہ شاہِین جیسے اہلِ قلم نے اس کِتاب کے دیباچے تحرِیر کِیے ، جو خُود مری کے فِکری منظرنامے کا روشن حِصّہ ہیں ۔ یہ کِتاب تِین حِصّوں پر مُشتمِل ہے ۔ پہلا حِصّہ ”رفتگاں“ اُن اہلِ قلم کو خراجِ تحسِین ہے جو اِس دُنیا سے رُخصت ہو چُکے ہیں ۔ اِس حِصّے میں شامِل ؛ علامہ مُضطَر عباسی ، کرم حیدری ، حمِید کاشمِیری ، لطیف کاشمِیری ، سلِیمی شوالوی ، سیّد صادق حسین بُخاری ، نسِیم شمائل پُوری ، احمد حسین غنی ، رضیہ شفِیع رضی ، احمد زمان لون اور نُور الٰہی عباسی جیسے نام مری کے ادبی حافظے کی بُنیاد ہیں ۔
دُوسرا حِصّہ ”موجُودگان“ ان معاصر قلم کاروں پر مُشتمِل ہے جو آج بھی مری کی ادبی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔ اِس حِصّے میں مُحمّد آصِف مِرزا، نسِیم عباسی، اشفاق کلِیم عباسی، ڈاکٹر شکِیل کاسیروی، راشد عباسی، مسعُود احمد آکاش، رعنا تنوِیر، کبِیر عباسی، شازیہ شاہِین، عُمر حفِیظ اور عبدالحمِید عباسی جیسی عِلمی و ادبی شخصِیات شامِل ہیں۔ اِس کِتاب کے تِیسرے حِصّے کو ”مہمان اہلِ قلم“ کا نام دِیا گیا ہے ۔ یہ حِصّہ اُن شخصِیات کے لیے وقف ہے جِنھوں نے مری سے باہر رہ کر بھی اِس کے فِکری ماحول میں اپنا اثر چھوڑا ہے۔ اِس حِصّے میں سیّد بشِیر حسین جعفری مرحُوم ، ڈاکٹر شیخ محمد اقبال، شاہد بُخاری اور سعُود عُثمانی جیسی نامور ادبی شخصِیات کو موضُوع بنایا گیا ہے ۔ یہ کِتاب صِرف تعارُف نہِیں ، تسلسل کی دریافت ہے ۔ اُن مضامِین میں امجد بٹ نے شخصِیات کے ساتھ اُن کے عہد کی فِکری رُوح کو بھی قلم بند کِیا ہے ۔ وہ ہر تعارُفی مضمُون میں یہ دِکھاتے ہیں کہ ادب محض لفظوں کا ریکارڈ نہِیں بلکہ ایک جِیتی جاگتی روایت ہے ۔ یُوں یہ کِتاب اُن کی اِس وسیع تر فِکری کاوش کا مظہر بن جاتی ہے جِس میں زُبان ، تارِیخ اور شعُور ؛ تِینوں اپنی اپنی سمت سے آ کر ایک نقطے پر مِلتے ہیں ۔
امجد بٹ کی عِلمی وادبی کاوشیں ، قاری کو حیرت ، احترام اور بیداری کی طرف لے جاتی ہیں ۔ وہ ہمیں یاد دِلاتے ہیں کہ عِلم اگر صِرف معلُومات بن جائے تو مُردہ ہے اور ادب اگر صِرف اِظہار تک محدُود رہے تو ادھُورا ہے ۔ اُن کے یہاں عِلم ، اِظہار اور احساس ایک دُوسرے میں یُوں مدغم ہو جاتے ہیں جیسے روشنی اور سایہ کِسی پہاڑی دوپہر میں دھِیرے دھِیرے زمِین کی سطح پر اپنی کہانی رقم کرتے ہیں ۔ امجد بٹ مری کی فضا کے باسی ضرُور ہیں لیکِن اُن کا فِکری اُفق اُن پہاڑوں سے کہیں بُلند ہے ۔ اُن کے لیے زُبان ، مذہب اور تارِیخ سب ایک ہی مکالمے کے مُختلِف لہجے ہیں ۔ امجد بٹ اپنے عہد کے اُن نایاب لِکھاریوں میں سے ہیں جِن کے قلم سے محض الفاظ ہی نہیں نِکلتے بلکہ احساسات کی آوازیں بھی سُنائی دیتی ہیں ۔ اُن کی تحرِیروں میں یہ پیغام بڑی شدّومد سے گُونجتا ہے کہ عِلم اگر دریافت نہ بنے تو باقی سب محض بیان ہی رہ جاتا ہے ۔

ڈاکٹر حسنین ساحر


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (1) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481

Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (1) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481