اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

جہلم ادبی فورم۔۔ "نگار خانہ من” کی تقریب پذیرائی

Picsart 25 09 28 21 36 01 296

جہلم ادبی فورم کے زیر اہتمام
"نگار خانہءِ من” کی تقریبِ رونمائی اور مشاعرہ

جہلم (رپورٹ) 27 ستمبر 2025
جہلم کی علمی و ادبی فضا ایک بار پھر خوشبوؤں سے معطر ہو گئی، جب "جہلم ادبی فورم” کے زیر اہتمام مری سے تعلق رکھنے والے شعر اشفاق کلیم عباسی کے شعری مجموعے "نگار خانہ من” کی شاندار تقریبِ رونمائی اور مشاعرہ کا انعقاد جہلم پریس کلب میں کیا گیا۔ تقریب میں جہلم اور گرد و نواح کے اہلِ علم و ادب نے بھرپور شرکت کی۔  تقریب کی صدارت کہنہ مشق شاعر جناب سید انصر نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض عمدگی سے جہلم ادبی فورم کے صدر جناب اقبال قمر نے انجام دیے۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت جناب طیب صدیقی نے حاصل کی، جبکہ راشد عباسی کی لکھی ہوئی نعتِ رسولِ مقبول ﷺ جناب تنویر طاہر کیانی نے انتہائی خوبصورت انداز میں پیش کی۔۔
تقریب کے پہلے حصے میں معزز مقررین نے پروفیسر اشفاق کلیم عباسی کی شاعری، شخصیت اور ادبی خدمات پر مدلل گفتگو کی۔ خطاب کرنے والوں میں
پروفیسر بو علی منور، پروفیسر کامران خان ستی، جناب راشد عباسی اور صدرِ محفل جناب سید انصر شامل تھے۔ تمام مقررین نے متفقہ طور پر اس بات کا اعتراف کیا کہ "نگار خانہءِ من” ایک فکری، فنی اور تخلیقی سطح پر بلند پایہ مجموعہ ہے، جو قاری کو ایک نئی جہت سے روشناس کراتا ہے۔

IMG 20250928 WA0090 scaled
کتاب کی رونمائی کے ساتھ ساتھ، جہلم ادبی فورم کی جانب سے پروفیسر اشفاق کلیم عباسی کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئی۔

IMG 20250928 WA0219
تقریب کا دوسرا حصہ مشاعرہ پر مشتمل تھا، جس میں شریک ضلع جہلم، گجرات، پھالیہ، میرپور اور مری سے آئے ہوئے ملک کے معروف اور ابھرتے ہوئے شعراء نے اہلِ ذوق کو اپنے کلام سے مسحور کر دیا۔
مشاعرہ کی صدارت جناب سید انصر نے کی، جبکہ پروفیسر اشفاق کلیم عباسی مہمانِ اعزاز تھے۔ مہمانانِ خصوصی میں جناب ذوالفقار اسد اور جناب راشد عباسی شامل تھے۔
اس خوبصورت مشاعرے میں جن شعرائے کرام نے اپنا کلام پیش کیا، ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:

جناب سید انصر،جناب پروفیسر اشفاق کلیم عباسی، جناب ذوالفقار اسد، جناب راشد عباسی، جناب اقبال قمر، جناب اقبال ناظر، جناب اشفاق شاہین، جناب بوعلی منور، جناب عتیق الرحمن صفی، جناب امجد میر،
جناب سعید میر، جناب امجد مرید حیدری، جناب منور چشتی، جناب علی مختار مرزا، جناب عامر حبیب، جناب تنویر طاہر کیانی، جناب حفیظ احمد، جناب شکیل کاسبی، جناب احسان شاکر، جناب تیمور بزمی، جناب سید شاہجہان احمد، جناب طیب صدیقی اور محترمہ ثوبیہ سلیم۔

تقریب میں پیش کیے گئے چند منتخب اشعار حاضرین کے دلوں پر نقش چھوڑ گئے:

سید انصر:
دیکھ ہم خاک نشینوں سے زمانے کا سلوک
جیسے سوکھے ہوئے پتوں سے ہوا بات کرے

اشفاق کلیم عباسی ( مری)
ایسا میثاق بھی تحریر میں لایا جائے
جس میں کردار کو عنوان بنایا جائے

ذوالفقار اسد ( میرپور)
خود کو کرتا ہوں بدگماں خود سے
اپنے ہی کان بھرتا رہتا ہوں

راشد عباسی ( راولپنڈی)
چمکا ہے جب سے خاک میں مہتابِ آگہی
تقدیر کا ستارہ مری جستجو میں ہے

جناب اقبال قمر
غرور حسن گیا ذوق آئینہ بھی گیا
وہ خود سے راز و روایت کا سلسلہ بھی گیا

جناب اقبال ناظر
زندگی کے پاؤں میں کیسا سفر رکھا گیا
دائروں کا سلسلہ ہر اک ڈگر رکھا گیا

جناب اشفاق شاہین (گجرات)
سیراب یوں کیا کسی دریا نے کل مجھے
سیل رواں اٹھا کے مرے پاس آ گیا

جناب بو علی منور ( گجرات)
دل میں دھڑکی تھی مگر زیب تمنا نہ ہوئی
کسی بزدل کی محبت تھی تماشا نہ ہوئی

جناب عتیق الرحمن صفی ( گجرات)
کیوں بلندی سے خوف ہے اتنا
چوٹ زینے سے لگ گئی ہے کیا

جناب امجد میر
مہرباں وقت کا دھارا بھی تو ہو سکتا ہے
ایک ہی عشق دوبارہ بھی تو ہو سکتا ہے

جناب سعید میر
یہ رت جگا ہے رات کو سونا تو ہے نہیں
آنکھوں میں کوئی خواب پرونا تو ہے نہیں

جناب امجد مرید حیدری ( پھالیہ)
اب میکدے رہے ہیں نہ وہ بادہ مست لوگ
آخر کدھر کو جائیں گے کاسہ بدست لوگ

جناب منور چشتی
محمد مصطفیٰ کا جو گدا ہے
اسے منگتا نہ سمجھو بادشہ ہے

جناب علی مختار مرزا (گجرات)
ہر زاویے سے دیکھوں گا آتا ہوا تجھے
میں آئنے لگاؤں گا سارے مکان میں

جناب عامر حبیب (سوہاوہ)
بہت سکون سے ہوتے، امان میں رہتے
جو اپنے گاؤں کے کچے مکان میں رہتے

جناب تنویر طاہر کیانی
دام رنگوں کے بڑھ گئے اتنے
اک مصور نے خود کشی کر لی

جناب حفیظ احمد
خوش ہوں کہ آخرش مجھے عرفان غم ہوا
یعنی ترا ستم مرے حق میں کرم ہوا

جناب شکیل کاسبی
تم بھی پہلے سے نہیں ہو، میں بھی پہلا سا نہیں
گرد سی جمنے لگی ہے اب ہمارے پیار پر

جناب احسان شاکر
چلو ہم بھی محبت کا تقاضا چھوڑ دیتے ہیں
جہاں تم چاہو ہم جیون کا رخ ہی موڑ دیتے ہیں

جناب تیمور بزمی
ہم پہ لازم ہے باخدا ہونا
ان کی چاہت میں مبتلا ہونا

جناب سید شاہجہان احمد
عالم خشک و تر نہیں باقی
ان کی جانب سفر نہیں باقی

جناب طیب صدیقی
کبھی دیکھی کسی نے ہے پلٹتے وقت کی گردش
یہی جنبشِ دکھاتی ہے تماشا زندگانی کا

ثوبیہ سلیم:
سج گئیں محفلیں مصطفی کے لیے
ہر طرف مدحتیں مصطفی کے لیے

یہ تقریب نہ صرف ایک کتاب کی رونمائی تھی بلکہ ایک عہد کی تجدید بھی تھی کہ ادب زندہ ہے، جذبے سلامت ہیں اور شاعری آج بھی دلوں کو جوڑنے کی طاقت رکھتی ہے۔ جہلم ادبی فورم نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ شہر کی ادبی روایتوں کو نہ صرف زندہ رکھے ہوئے ہے بلکہ اسے نئی نسل تک منتقل کرنے کا فرض بھی احسن انداز میں ادا کر رہا ہے۔
تقریب کے اختتام پر جہلم ادبی فورم کے صدر جناب اقبال قمر نے تمام مہمانوں، شعرائے کرام اور حاضرین محفل کے ساتھ ساتھ پریس کلب جہلم کا شکریہ ادا کیا اور مہمانوں اور حاضرین محفل کو عشائیے کی دعوت دی ۔۔

IMG 20250928 WA0157IMG 20250928 WA0183IMG 20250928 WA0148IMG 20250928 WA0213IMG 20250928 WA0098 scaled
رپورٹ امجد میر
سکریٹری جنرل
جہلم ادبی فورم


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (1) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481

Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (1) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481