اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

راشد عباسی کی اردو نظموں کا مجموعہ "جہانِ ابد”

Picsart 25 09 28 16 35 17 777

راشد عباسی کی کتاب "جہانِ ابد”

IMG 20250922 WA0167 1
راشد عباسی کی شاعری کا یہ مجموعہ "جہانِ ابد” اپنے اسلوب اور موضوعات کے اعتبار سے ایک منفرد پہچان رکھتا ہے۔ شاعر نے بجا طور پر اسے "عام آدمی کے لیے نظمیں” کہا ہے، کیونکہ یہ کلام براہِ راست اسی دل کی دھڑکن اور اسی روح کے اضطراب کو چھوتا ہے جو عام انسان کے اندر موجزن ہے۔
راشد عباسی کی کتاب "جہانِ ابد” کی نظمیں بظاہر سادہ اسلوب میں ہیں مگر اپنے اندر گہری معنویت رکھتی ہیں۔
ان نظموں میں ایک طرف دکھ، جبر اور ناانصافی کے خلاف احتجاج کی صدا سنائی دیتی ہے تو دوسری جانب اُمید، روشنی اور خواب کی کرنیں جھلملاتی ہیں۔ کہیں ہجرت، تنہائی اور بے سمتی کا نوحہ ہے، اور کہیں آگہی، بیداری اور تعمیرِ نو کی پکار۔ "عہدِ زوال” اور "انکار” جیسی نظموں میں ظلم و جبر کے اندھیروں کے خلاف مزاحمت کا جذبہ ہے، جبکہ "کرب فراق ذات” اور "ہم کہاں آ گئے” میں فرد کی داخلی ٹوٹ پھوٹ اور وجودی سوالات نمایاں ہیں۔ دوسری طرف "عزمِ مصمم”، "آگہی کے دیے” اور "خواب” روشنی، اُمید اور خواب کی صورت قاری کے دل میں نیا حوصلہ جگاتی ہیں۔
یہ نظمیں نہ صرف شاعر کی داخلی کیفیات کا بیان ہیں بلکہ عہدِ حاضر کی اجتماعی روح کی بھی آئینہ دار ہیں۔ راشد عباسی نے بڑی سادگی مگر بھرپور تاثیر کے ساتھ عام آدمی کے دکھ، سوال اور اُمید کو ایسے لفظوں میں ڈھالا ہے جو براہِ راست دل پر اثر کرتے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ "جہانِ ابد” درد اور روشنی کا حسین امتزاج ہے ۔۔۔ جہاں زخم بھی ہیں اور مرہم بھی، جہاں سوال بھی ہیں اور جواب بھی۔
نظموں میں فرد اور معاشرے دونوں کا دکھ جھلکتا ہے۔ "درد بے درماں” اور "کرب فراق ذات” میں ذاتی دکھ کے ساتھ اجتماعی مایوسی بھی ہے۔ شاعر سوال کرتا ہے کہ ظلمت کب ختم ہوگی اور سحر کب نمودار ہوگی۔ "انکار” اور "جہان ابد” جیسی نظموں میں ظلم و جبر کے خلاف ایک مزاحمتی رویہ ملتا ہے۔ شاعر اندھیروں اور جابرانہ قوتوں کے مقابلے میں چراغ جلانے اور امید کو زندہ رکھنے کا ذکر کرتا ہے۔
"اسرار حیات” اور "خدا محبت ہے” جیسی نظموں میں ایک صوفیانہ اور فکری رنگ نمایاں ہے۔ شاعر کائنات کے اسرار، وقت و مکاں کے معمہ، اور خدا کی صفتِ محبت پر غور کرتا ہے۔ راشد انسان دوستی اور اُمید کا شاعر ہے۔ "عزم مصمم” اور "عزم نو” میں امید اور تعمیرِ نو کا پیغام ہے۔ شاعر شکست کو عارضی اور فتح کو حتمی قرار دیتا ہے۔ یہ نظمیں عام آدمی کے خواب اور جدوجہد کی ترجمانی کرتی ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ راشد عباسی نے "جہان ابد” میں عام انسان کی اُس داخلی دنیا کو لفظوں میں ڈھالا ہے جس میں درد بھی ہے، سوال بھی اور امید بھی۔
چند نظموں پر بات ہو جائے۔

"درد بے درماں”

اپنے خوابوں کی راکھ پر بیٹھے
عمر ہی رائگاں گزرنے پر
اک تہی دست ہجومِ دل زدگاں
سوچتا ہے مآل رنجِ سفر

مالکِ دو جہاں! شہِ شاہاں!
کب تلک تیرگی رہے گی یہاں؟
بجھ رہے ہیں چراغِ فکر و نظر
کیا کبھی بھی یہاں نہ ہو گی سحر؟

یہ نظم دکھ اور ناامیدی کی گہری فضا سے شروع ہوتی ہے۔ شاعر سوال اٹھاتا ہے کہ تاریکی کب ختم ہوگی اور صبح کب نمودار ہوگی۔ چراغِ فکر و نظر کے بجھنے کا استعارہ ذہنی اور فکری جمود کی علامت ہے۔ اس نظم میں اجتماعی کرب اور سحر کی آرزو دونوں کا حسین امتزاج ہے۔

” انکار”

عمل داری جبر و تیرگی میں
روشنی سے عشق پر تعزیر لازم ہے
سزا کا تذکرہ کیا ہو
مگر ، یوں ہے
دیوں کے قتل پر ہم نے
لہو سے جب چراغوں کو جلایا ہے
زمانے کو سکھایا ہے
اندھیرے حکمراں بھی ہوں
تو ان کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتے

یہ نظم مزاحمت اور جبر کے خلاف انسان کی آواز ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ظلم کے حکمراں اگر چراغ بجھائیں بھی تو ہم اپنے لہو سے دیے جلائیں گے۔ یہاں روشنی سے عشق کی سزا قبول کرنے کا جذبہ نظر آتا ہے۔ یہ نظم عام آدمی کے دل میں بغاوت اور حوصلے کی جھلک پیدا کرتی ہے۔

"عزم مصمم”

یہ نظم امید اور تعمیرِ نو کا استعارہ ہے۔ شاعر عہد کرتا ہے کہ وہ انسانیت کے درد کا درماں بنائے گا اور قلیل عمر سے صدیوں کا کام لے گا۔ "مسمار کر کے خود کو جہانِ نو بنانا” جدوجہد اور قربانی کی علامت ہے۔ اس نظم میں انقلابی اُمید کی روشن جھلک ہے۔

"جہانِ ابد”

اب کے یورش ظلمت
بے حساب ٹھہری ہے
سازش شب تیرہ
کامیاب ٹھہری ہے

صبح کے تمنائی
سج گئے صلیبوں پر
کتنے خوں میں لتھڑے ہیں
کتنے سر ہیں نیزوں پر

یوں ہی ہوتا آیا ہے
لشکر شب تیرہ
شمعیں قتل کرتا ہے
اور دیے بجھاتا ہے
پر یہ بھول جاتا ہے
چاہے طول ہو کتنا
رات کو تو ڈھلنا ہے
صبح کو نکلنا ہے

یہی کتاب کا نام ہے اور یہ نظم سب سے زیادہ مؤثر معلوم ہوتی ہے۔ شاعر ظلمت کی یورش، خون میں لتھڑے خواب، اور نیزوں پر سجے سروں کا ذکر کرتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ امید بھی دیتا ہے کہ اندھیری رات کتنی ہی طویل ہو، آخرکار صبح ضرور طلوع ہوگی۔ یہ نظم ظلم کے خلاف تسلسلِ مزاحمت اور اُمید کی حتمی فتح کا استعارہ ہے۔

"خدا محبت ہے”

لطیف جذبوں کا خالق شعور و فکر کا رب
سراپا جُود و کرم ہے، عطا، عنایت ہے

وہی ہے خالق و خَلّاق، احسن و اعلٰی
جہانِ کُن تو فقط اک مثالِ قدرت ہے

وہ تم سے عشق کرے گا تم اُس سے پیار کرو
خدا کرم ہی کرم ہے، خدا محبّت ہے

یہ نظم صوفیانہ رنگ رکھتی ہے۔ خدا کو صرف جلال یا قہر کے بجائے محبت اور عطا کا سرچشمہ بتایا گیا ہے۔ شاعر کا پیغام ہے کہ خدا سے رشتہ محبت کا ہونا چاہیے، اور یہی انسانی رشتوں کو بھی پاکیزگی عطا کرتا ہے۔ یہ نظم قاری کو روحانی سکون اور قربت کا احساس دیتی ہے۔

"نفرتوں کی دلدل میں”

نفرتوں کی دلدل میں
کھو گئے سبھی رستے
اہل دل ! کدھر جائیں؟
یہ نظم ہمارے عہد کے اجتماعی دکھوں کی عکاسی کرتی ہے۔ خوف، بے یقینی اور ملال کی کیفیت ہر طرف چھائی ہے۔ شاعر دعا کرتا ہے کہ خدائے رحیم اپنی کرم نوازی سے ان غموں کو دور کرے۔ یہ نظم اجتماعی اذیت اور خدا کی رحمت پر امید کی ایک پراثر مثال ہے۔

راشد عباسی کی یہ نظمیں عام قاری کے دل کے قریب ہیں۔ وہ دکھ کو بیان کرتے ہیں مگر اُمید کی شمع بھی روشن رکھتے ہیں۔ ان نظموں میں مزاحمت، محبت، دعا، عقیدت اور انسان دوستی ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ چند اور نظمیں دیکھتے ہیں۔

"عہد زوال”

چپ کرا دیے گئے ہیں سب ہی بولنے والے
خود ہی راز ٹھہرے ہیں، راز کھولنے والے
رل گئے ہیں مٹی میں، اہل صدق بستی کے
مسندوں پہ بیٹھے ہیں زہر گھولنے والے
یہ نظم ہمارے معاشرتی اور سیاسی زوال کی ترجمانی کرتی ہے۔ بولنے والوں کو خاموش کرا دیا گیا ہے، اہلِ صدق مٹی میں مل گئے، اور زہر گھولنے والے مسندوں پر براجمان ہیں۔ یہ ایک تلخ سماجی حقیقت کا نوحہ ہے۔

"ہم کہاں آ گئے”

جبر کے مستقل سلسلے، اور ہم
آندھیوں کے مقابل دیے، اور ہم
اک سفر خواب کے اک نگر کی طرف
اور بڑھتے ہوئے فاصلے، اور ہم

اے دل بے خبر، ہم کہاں آ گئے؟
اے مرے ہم سفر، ہم کہاں آ گئے ؟
خواب کے اے نگر، ہم کہاں آ گئے؟
ہم کہاں آ گئے ؟

یہ نظم وجودی سوال ہے۔ سفر ہے، خواب ہے، مگر فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ شاعر حیران ہے کہ ہم اپنی تلاش اور خوابوں کے بیچ بھٹک کر کہاں جا نکلے۔ اس نظم میں بے سمتی اور بے یقینی کا شدید احساس ہے۔

 

"کم نصیبی”

مہربان گاؤں کے
لوگ اور گھر سارے
جھیل، راستے، جھرنے
سائباں شجر سارے
منتظر ہی رہتے ہیں
ہم مگر نہیں جاتے

خود سے دور رہ کر ہم
کس قدر ہیں بے مایہ
قدردان گاؤں کو
لوٹ کر نہیں جاتے
کیسی بدنصیبی ہے
در بدر ہیں شہروں میں
اپنے گھر نہیں جاتے !

یہ ہجرت اور جڑوں سے کٹنے کی کیفیت ہے۔ شاعر اپنے گاؤں، درختوں اور جھرنوں کو یاد کرتا ہے مگر شہر کی زندگی میں دربدر ہے۔ یہ نظم دیہات کی یاد، اپنوں سے دوری اور روحانی محرومی کا نقشہ ہے۔

 

"انقلابِ زمانہ”

ہائے کیا زمانہ تھا
وقت کے دریچوں میں
آ کے زندگی اکثر
خواہشوں کے ، خوابوں کے
وصل کی نویدوں کے
پھول رکھ کے جاتی تھی
اپنے اک اشارے پر
وقت، زندگی ، موسم
سجدہ ریز ہوتے تھے

اب مگر یہ عالم ہے
فالتو سی شے ہیں ہم
وقت جب بھی کہتا ہے
اس کے اک اشارے پر
زندگی کہیں رکھ کر
ہم کو، بھول جاتی ہے

یہ نظم وقت کی بے رحم رفتار اور زندگی کی بے وفائی کا بیان ہے۔ پہلے وقت اشارہ کرتا تو زندگی جھک جاتی، مگر اب وقت ہمیں بھلا دیتا ہے۔ یہ تبدیلی انسانی بے بسی اور تغیر کے کرب کو ظاہر کرتی ہے۔

"انتباہ”

ساری سچی آوازوں کو مار کے تم
اپنے دل کی دھڑکن سے ڈر جاؤ گے
سناٹوں کے شور سے خود مر جاؤ گے

یہ انتباہ ہے کہ اگر سچی آوازوں کو دبایا گیا تو انسان اپنے دل کی دھڑکن اور سناٹوں کے شور سے بھی ڈرنے لگے گا۔ یہ نظم آزادیِ فکر اور اظہار کی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔

"استعفیٰ”

عشق ! یہ لے ہمارا استعفیٰ
اب تری نوکری نہیں کرنی
یہ نظم طنزیہ اور انقلابی ہے۔ شاعر عشق سے استعفیٰ دیتا ہے، جیسے عشق ایک نوکری ہو گئی ہو۔ اس میں رومانوی نہیں بلکہ وجودی اور تلخ تجربے کا اظہار ہے۔

"اور تعبیر کیا رائگانی ہے بس”

درد بڑھتا ہُوا
سانس رُکتی ہُوئی
کرب ایسا کہ خُوں پی کے پَلنے لگا
کوئی ڈر اپنی نَس نَس میں چلنے لگا

رات ایسی کہ جیسے ابد تاب ہے
کوئی جُگنو، دِیا، کوئی تارا کہاں
روشنی کا یہاں استعارہ کہاں

جیسے تکرارِ ساعت ہے عمرِ رواں
صبح ہونے پہ بھی دن بدلتے نہیں
جبر اور ظلم کی حکمرانی ہے بس
خلق کی بے بسی، بے زبانی ہے بس
اپنے خوابوں کی دنیا کہیں کھو گئی
اور تعبیر کیا رائیگانی ہے بس؟

یہ ایک بھرپور کرب اور ناامیدی کی تصویر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ تعبیر بس رائیگانی ہے۔ ظلم، جبر، دائمی رات اور بے بسی کا ذکر ہے۔ یہ نظم سب سے زیادہ یاسیت اور شکستگی کا احساس دیتی ہے۔

"آگہی کے دیے”

مہلت عمر ہے مختصر کس قدر
کار ہائے جہاں کا جو انبار ہے
ایک آزار ہے

ٹوٹ جائے نہ سانسوں کی ڈوری کہیں
آؤ روشن کریں آگہی کے دیے
ہر کسی کے لیے.

یہ نظم امید کا پیغام ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ زندگی مختصر ہے، لیکن ہمیں آگہی کے دیے جلانے ہیں تاکہ ہر کسی کو روشنی مل سکے۔ یہ فکری بیداری اور اجتماعی ذمہ داری کی نظم ہے۔

"وصیت”

مَرتے ہُوئے چراغ نے کس دُکھ سے یہ کہا
ہم تو شہیدِ راہِ سحر ہیں ہمارا کیا
لیکن شبِ سیاہ کی بیعت نہ کیجیے
روشن ہیں جو دِیے اُنھیں بُجھنے نہ دیجیے

یہ بہت طاقتور نظم ہے۔ بجھتے چراغ کی وصیت ہے کہ شبِ سیاہ کی بیعت نہ کرنا، اور روشن دیوں کو بجھنے نہ دینا۔ یہ مزاحمتی اور عزم سے بھرپور پیغام ہے، جو قاری کے دل میں ہمت جگاتا ہے۔

"تفسیرِ حیات”

اک ادق مضمون ہے یہ زندگی
اور نامانوس ہے اس کی زباں
ان گنت ہیں باب اس مضمون کے
عقل کوئی جزو بھی سمجھی کہاں
بول، ہو سکتی ہے تفسیر حیات ؟
اے دل صد پارہ، یار مہرباں!

یہ فلسفیانہ نظم ہے۔ شاعر کہتا ہے زندگی ایک ادق مضمون ہے جسے عقل نہیں سمجھ سکتی۔ کیا زندگی کی تفسیر ممکن ہے؟ یہ سوالی انداز نظم کو گہرائی بخشتا ہے۔

"خواب”

اپنی متاع عمر کوئی ہے تو خواب ہیں
اک خواب، معرفت سے بھری اک نظر کا خواب
اک خواب، بے گھروں کے لیے اپنے گھر کا خواب
جن میں نہ ڈر ہو کوئی انھی بام و در کا خواب
اک خواب، تیرہ شب کو نگلتی سحر کا خواب
آزادیوں کا، جُرأتوں کا، بال و پر کا خواب
اپنی متاع عمر یہی چند خواب ہیں!

یہ نظم خوابوں کی عظمت اور ان کی معنویت پر ہے۔ خواب ہی عمر کا سرمایہ ہیں ۔۔۔ معرفت کے، سحر کے، آزادی کے اور محبت کے خواب۔ یہ نظم مجموعے کی سب سے زیادہ پرامید اور مثبت نظموں میں سے ہے۔

"مختصر نظمیں”
یہ چھوٹی چھوٹی جھلکیاں بڑے کرب اور حقیقت کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ ایک میں امید ہے کہ اپنے ہاتھ اپنے ساتھ ہیں، مگر اگلی میں زر پرستی اور روح کی موت کا ذکر ہے۔ یہ مختصر نظمیں قاری پر بجلی کی طرح گرتی ہیں اور فوری اثر چھوڑتی ہیں۔

مجموعی طور پر کہوں گا کہ راشد عباسی کی شاعری میں تین بنیادی دھارے نمایاں ہیں:
سماجی و سیاسی شعور (عہد زوال، انکار، وصیت، اور تعبیر کیا؟)
وجودی اور ذاتی کرب (کرب فراق ذات، ہم کہاں آ گئے، کم نصیبی)
امید، روشنی اور خواب (عزم مصمم، جہان ابد، آگہی کے دیے، خواب)

یہ نظمیں عام آدمی کے دکھوں اور خوابوں کا سچا بیان ہیں۔ ان میں کرب بھی ہے، سوال بھی، مگر روشنی اور امید بھی موجود ہے۔ شاعر کا انداز سادہ ہے مگر اثر آفرین ہے۔

طارق بٹ۔۔۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (1) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481

Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (1) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481