اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

10ویں قسط ۔۔ میں نے دکھ کو طاقت کیسے بنایا؟

IMG 20250721 WA0150

محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی۔ میں نے دکھ کو طاقت کیسے بنایا؟

(دسویں قسط)

کسی عہد یا اس کی تاریخ کا تنقیدی جائزہ لیتے وقت اکثر ایک بنیادی غلطی یہ کی جاتی ہے کہ اس وقت کے معروضی حالات کو پیش نظر رکھ کر تحقیقی کام کرنے اور سیاق و سباق کو سامنے رکھنے کے بجائے موجودہ وقت، صورت حال اور حالات کے منظر نامے میں یہ فیصلہ صادر فرما دیا جاتا ہے کہ فلاں رہنما، شخصیت یا بزرگ کو فلاں غلطی کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یا اگر کسی گاؤں میں تعلیم کی سہولیات میسر نہیں تھیں تو لوگ بڑے شہروں میں جا کر پڑھ لیتے۔ ہم لوگوں کی معاشی حالت، شعور و آگہی کی مجموعی صورت حال اور اس وقت کے سماجی رویوں اور انداز فکر کو یکسر نظر انداز کر کے فیصلہ صادر نہیں کر سکتے۔ اسی طرح اس کے برعکس وقت کے ساتھ وقوع پذیر ہونے والی کسی تبدیلی یا عام ہونے والی کسی عمومی سہولت کو کسی شخصیت کا کارنامہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مثلا اوسیاہ، دیول، روات اور دیگر کئی علاقوں میں بجلی اور سڑک جیسی سہولیات بہت پہلے سے موجود تھیں۔ لڑکیوں، لڑکوں کے لیے ہائی سکول بھی تھے۔ ہسپتال کی سہولت ذرا فاصلے پر مری میں میسر تھی لیکن آمد و رفت کے ذرائع موجود تھے۔ جب لوگ ذوالفقار علی بھٹو کی مہربانی سے خلیجی ممالک میں ملازمت کے لیے جانا شروع ہوئے تو ان کی مالی حالت بہتر نیز شعور عام ہوا۔ جن علاقوں میں بنیادی سہولیات موجود نہیں تھیں، حکومت کی مجبوری تھی کی وہاں ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز مہیا کرے۔ لہذا ایک عمومی پالیسی کے تحت سڑکوں، بجلی، پانی اور تعلیم کے لیے بجٹ میں رقوم رکھی گئیں۔ لہذا کسی بھی سیاسی شخصیت نے اگر اپنے علاقے میں کوئی ترقیاتی کام سرکاری پیسے سے کروایا تو یہ اس کا فرض تھا، عوام پر اس نے کوئی احسان نہیں کیا۔ ہاں اگر کسی بھی سماجی یا سیاسی رہنما نے ذاتی سرمایہ سے سماجی خدمات سرانجام دیں تو علاقے کے لوگوں کو اس کا ممنون احسان ہونا چاہیے۔

اوسیاہ سے ملکوٹ جانے والی سڑک کا آغاز ملکوٹ کے ایک سماجی رہنما حاجی سرفراز صاحب مرحوم کی ذاتی کاوشوں اور سرمائے سے ہوا۔ ہم اس وقت گورنمنٹ ہائی سکول اوسیاہ کے طالب علم تھے۔ حاجی صاحب سڑک پر کام کرنے والوں کے لیے کھانے کا بھی اہتمام کرتے۔ انھوں نے اس منصوبے کے لیے ایک عرصے تک خود کو وقف کیے رکھا۔ ملکوٹ کی تاریخ میں منشی نبی صاحب مرحوم کے تعلیمی انقلاب کے بعد یہ دوسرا بڑا کارنامہ تھا جو حاجی سرفراز صاحب نے سرانجام دیا۔ اللّٰہ پاک حاجی سرفراز صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کے اس صدقہ جاریہ کو ان کے لیے توشہ آخرت بنائے۔ (ہاں، نالہ کنیر پر تعمیر ہونے والا پل سردار مہتاب صاحب کی کوششوں سے سرکاری فنڈ سے تعمیر ہوا۔ اس کے لیے ان کی تحسین و پذیرائی ہونی چاہیے). اہل ملکوٹ کا فرض ہے کہ اوسیاہ سے ملکوٹ جانے والی سڑک کا نام "حاجی سرفراز روڈ” رکھیں اور ملکوٹ میں منشی نبی مرحوم کی کوئی یادگار تعمیر کریں۔ کیوں کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کے احسانات کو فراموش نہیں کرتیں۔

حاجی سرفراز صاحب سے میری دوستی اوسیاہ ٹو ملکوٹ روڈ کی تعمیر کے دوران ہوئی۔ سکول سے واپسی پر وہ طالب علموں کو زبردستی کھانا کھلاتے تھے۔ مجھے بھی روزانہ اصرار کرتے لیکن میں نے معذرت کر لی اور عرض کیا کہ علاقے کے ہر فرد کو سڑک کے کام میں ان کا ہاتھ بٹانا چاہیے نہ کہ پلاؤ اور بریانی کی دیگ خالی کرنے میں۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ بعد میں انھوں نے ہی سردار مہتاب صاحب سے میرا تعارف کروایا۔ اور امید دلائی کہ ایک پڑھا لکھا، خدمت کا جذبہ رکھنے والا اور باشعور سیاسی نمائندہ سیاست کو عبادت سمجھتا ہے۔ وہ نہ صرف علاقے کی پسماندگی دور کرے گا بلکہ اس علاقے میں سیاسی تربیت کے ذریعے عالمی معیار کی لیڈرشپ پیدا کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔ پورے علاقے کو متحد کیا جائے گا اور ذات، برادری، قبیلے کی بنیاد پر ہونے والے تقسیم در تقسیم کی روش کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیا جائے گا۔

لونگال سے نعیم عباسی اس وقت ہمارے علاقے کے بہت اچھے شاعر تھے۔ نیز ملکوٹ میں ہمارے پڑوسی اور بہت ہی عزیز دوست حاجی سرور صاحب مرحوم (حافظ رشید صاحب، بابر، حبیب اللہ، صفی اللہ کے والد محترم) بھی سردار مہتاب صاحب کی توصیف میں نظمیں لکھتے تھے۔ (راقم الحروف نے بھی شاعری میں تک بندی کا آغاز کر دیا تھا لیکن شاعری کو ہمیشہ آمد تک ہی محدود رکھا اور کبھی کسی کی مدح سرائی نہیں کی)۔ پورے حلقے کے بھرپور تعاون سے سردار مہتاب صاحب اپنا پہلا انتخاب جیت گئے۔ ہم جیسے لوگوں کو مسرت کے ساتھ ساتھ طمانیت بھی محسوس ہوئی کہ ہمارے علاقائی مسائل (تعلیم، صحت، ذرائع نقل و حمل، مقامی روزگار) کے حوالے سے روڈ میپ تیار ہو گا اور بہ تدریج یہ مسائل حل ہوتے جائیں گے۔ سٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی والے دفتر میں احباب کی تجمیع ہوتی۔ سب پر جوش کے ساتھ ساتھ پر امید بھی تھے کہ وہ دن دور نہیں جب علاقے کی برسوں کی محرومیاں دور ہو جائیں گی۔

وقت کا کام گزرتے رہنا ہے، سو دن مہینوں کا روپ دھارتے رہے اور کیلنڈر کے صفحات تبدیل ہوتے گئے۔ جب حالات بدلے تو سیاست کو عبادت سمجھنے والوں سے بے اعتنائی کا رویہ برتا جانے لگا اور سیاست کو تجارت سمجھنے والے سردار صاحب کے قریب ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ (پاکستان جیسے ملک میں سیاسی نمائندوں کے رستے میں بیوروکریسی عموما سپیڈ بریکر بھی تعمیر کرتی رہتی ہے۔ نیز ان کی بہت ساری مجبوریاں بھی ہوتی ہیں لیکن جب لوگ کسی کو لیڈر سمجھیں اور وہ سیاست دان بننے کا فیصلہ کر لے تو لوگوں کے خواب چکناچور ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے). ان خود غرض عناصر نے حاجی سرفراز صاحب کو شاید قائل کر لیا تھا کہ نئی نسلوں اور علاقے کے درخشاں مستقبل کی فکر کو پس پشت ڈال کر اور علاقائی مسائل کے حل کا روڈ میپ تیار کرنے کے بجائے اگلے (یا شاید مستقبل کے سارے) انتخابات جیتنے کو اپنی یک نکاتی ترجیح بنایا جائے۔ ان کی ایماء پر کئی سلسلے شروع ہوئے جن کی تفاصیل ان لوگوں کے علم میں ہے جو اس وقت سردار مہتاب صاحب کی مصاحبت میں تھے۔ وہی مخصوص لوگ منظور نظر بنتے گئے، جب کہ علاقے کی ترقی کے خواب دیکھنے والوں کی قدر و تکریم بہ تدریج کم ہوتی گئی۔ یوں ایک امید نے دم توڑ دیا، ایک خوب صورت خواب جو تعبیر آشنا ہو سکتا تھا چکنا چور ہو گیا، ایک انقلاب جو برپا ہو سکتا تھا اس سے منہ موڑ لیا گیا اور ایک تاریخ جو سنہری الفاظ میں لکھی جا سکتی تھی وہ مدتوں منتظر رہنے کے بعد آج ایسے سوال اٹھا رہی ہے جن کے جواب نہ تو آسان ہیں اور نہ ہی خوش کن۔

اگر کوئی یہ کہے کہ سردار مہتاب صاحب نے اپنے علاقے کے لیے کوئی کام نہیں کیا تو یہ غلط بیانی ہو گی۔ واحد کنیر پل منصوبہ ہی کسی ایم این اے یا ایم پی اے کے لیے ایک بہت بڑا کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ سردار صاحب چونکہ وزیر اعلی اور گورنر رہے اس لیے ان سے علاقے کی توقعات بہت بڑھ گئیں اور بدقسمتی سے وہ ان توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔

سردار صاحب کے اپنے گاؤں ملکوٹ کی اگر بات کی جائے تو وہاں آج بھی صحت اور تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گاؤں کی 80 فی صد آبادی شہروں کی طرف نقل مکانی کر گئی ہے۔ لیکن سردار مہتاب صاحب کے سیاسی کارکن ان کے وہ کارنامے گنوا کر ان کی کارکردگی کو گھٹانے میں مصروف ہیں جو درحقیقت بلدیاتی نمائندوں کے کام ہیں۔ خصوصی طور پر ملکوٹ میں ویسے بھی کوئی بڑا ترقیاتی کام نہیں ہوا۔ لیکن یہاں ایک خاص پہلو کا ذکر بھی ناگزیر ہے کہ کیا ملکوٹ کے لوگوں نے اپنے علاقے کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے کوئی کوشش کی؟ کیا لوگ اتنے باشعور ہیں کہ ذاتی مفاد سے نکل کر اجتماعی مفاد کے لیے جدوجہد کر سکیں؟ کیا ذات ، برادری اور قبیلہ سے نکل کر لوگ ملکوٹ کو اپنی ترجیح بنا سکتے ہیں؟ اگر سردار مہتاب صاحب وزیر اعلی یا گورنر تھے تو ان کے اپنے گاؤں میں کتنے لوگ تھے جو اتنے بڑے عہدوں کے مسائل اور چیلنجز کا ادراک رکھتے تھے؟ ان کے ان عہدوں پر براجمان ہونے کے دور میں ملکوٹ کے لوگ کتنی بار وفود کی صورت میں ان سے ملے اور کون کون سے قابل عمل گرینڈ منصوبوں کی درخواستیں پیش کیں؟ اس بارے میں سردار مہتاب صاحب بہتر بتا سکتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ ایسی مثال شاید ہی کوئی پیش کر سکے۔

سوار گلی ٹو بوئی روڈ بڑا اور اہم منصوبہ ہے لیکن بہ وجوہ اس کی تکمیل نہیں ہو سکی۔ شاید یہی وہ منصوبہ ہے جس پر مستقبل کے سیاست دان بھی علاقے کے ووٹ حاصل کریں گے۔

تاریخ کے فیصلے بڑے بے رحم ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ "ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں”۔ عروج ہو یا زوال، کامیابی ہو یا نامرادی، خوشی ہو یا غم دائمی کچھ نہیں ہوتا۔ خوشی، خوشحالی اور کامیابی حاصل کر لینے کے بعد اپنے جاہ و منصب پر غرور و تکبر زوال کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے اور تکبر صرف کسی کو حقیر اور کمتر سمجھنا نہیں بلکہ حقیقت اور سچائی جان کر بھی اسے تسلیم نہ کرنا اصل تکبر ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

(جاری ہے)

راشد عباسی ۔۔ راولپنڈی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481