اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

آٹھویں قسط۔۔ میں نے دکھ کو طاقت کیسے بنایا؟

IMG 20250721 WA0150

محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی۔ میں نے دکھ کو طاقت کیسے بنایا؟

(آٹھویں قسط)

ہمارے دور میں گورنمنٹ ہائی سکول اوسیاہ میں غیر نصابی سرگرمیوں کی سب سے زیادہ حوصلہ افزائی استاد محترم قاری غلام مصطفیٰ فیصل فرماتے تھے۔ کیا اعلی ادبی ذوق پایا تھا۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں۔ میں نے تجوید بھی انھی سے سیکھی۔ دیگر دوستوں کے بارے میں تو مجھے علم نہیں لیکن میں اکثر ان سے اپنے ذاتی مسائل کے حوالے سے بھی مشورہ کر لیا کرتا تھا۔ ساتویں جماعت تک تو وہ مجھے تقریر لکھ کر دے دیتے تھے لیکن آٹھویں میں انھوں نے حکم دیا کہ خود تقریر لکھ کر لائیں۔ انھوں دو تین فقرے تبدیل کیے اور کچھ لفظ بدل دیے۔ تقریر شاندار ہو گئی۔ میٹرک تک آتے آتے یہ صورت حال ہو گئی تھی کہ وہ ایک آدھ تبدیلی کر کے فرماتے کہ بہت اچھی ہے یا اقبال کے فلاں مجموعے سے فلاں موضوع پر شعر بھی شامل کر لیں۔

غلام مصطفیٰ فیصل صاحب (اللّٰہ پاک صحت و سلامتی دے) کا تعلق پنجاڑ، کہوٹہ سے ہے۔ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کا کھوج لگا کر ان کو فروغ دینے میں ان کا ثانی نہیں تھا۔ اگر کوئی بچہ جانوروں اور پرندوں کی آواز نکال لیتا تھا تو اس کی بھی بزم ادب کے پلیٹ فارم سے پذیرائی فرمائی۔ میں کیونکہ میٹرک میں نظم و نثر دونوں لکھتا تھا اس لیے ان کی رہنمائی سے مجھے تلفظ کی کئی غلطیاں سدھارنے کا موقع ملا۔

ماسٹر باغ صاحب (دیول) ہمیں اردو پڑھاتے تھے۔ آٹھویں تک ریاضی ماسٹر ظہراب صاحب پڑھاتے رہے۔ کمال کے استاد اور صاحب کردار انسان تھے۔ انگریزی ماسٹر اسم داد صاحب (روات) پڑھاتے تھے۔ ان کے بیٹے شکیل ہمارے ہم جماعت اور میرے گہرے دوست تھے۔ اسم داد صاحب سے بھی میری خاصی بے تکلفی تھی۔ ان سے کسی قسم کا ڈر، خوف یا جھجک محسوس نہیں ہوتی تھی۔

ماسٹر مسکین صاحب ہمیں ڈرائنگ سکھاتے تھے۔ گورنمنٹ ہائی سکول اوسیاہ سے میٹرک اور محکمانہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہیں استاد تعینات ہوئے۔ ان کا تعلق بیروٹ سے تھا۔ بہت قابل اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل اساتذہ میں سے ایک تھے۔ ڈرائنگ کے علاوہ سائنس اور ریاضی کی تدریس میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ ہمارے میٹرک کرنے تک ان کی صلاحیتوں سے (شاید ان کی کم عمری کی وجہ سے) مکمل استفادہ نہیں کیا جاتا تھا لیکن بعد میں انھوں نے نہ صرف سکول میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ ذاتی اکیڈمی کے ذریعے بھی طلبہ کی تعلیم و تربیت کا بہترین بندوبست کیا۔

ماسٹر مسعود صاحب اور ماسٹر رشید صاحب (اوسیاہ) نے ہمیں چھٹی، ساتویں میں ایک آدھ مضمون پڑھایا۔ ماسٹر ظہیر الدین صاحب کچھ عرصہ علالت کے بعد اللّٰہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ بہت پیارے انسان تھے۔ اللّٰہ پاک غریق رحمت فرمائے۔

ملکوٹ سے ہمارے ساتھ اوسیاہ آنے والے لڑکوں میں زاہد جنجوعہ (پاسپورٹ آفس میں ملازمت کر کے ریٹائرڈ ہوئے)، ضمیر اذان، زہید، وحید، ندیم (مرحوم)، سجاد، ضابر، شاہد، شکیل، احسان، قمر حیات (مرحوم)، خضر حیات (لوئر ملکوٹ) سے جب کہ مظفر عبدالغنی (زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے فارغ التحصیل)، امجد مٹھو، رشید "شیدو”، خالد ایوب "پپو”، ایاز صابر (ماسٹر)، امجد ڈھاکہ، سعید (اپر ملکوٹ) (اور دیگر بہت سے) شامل تھے۔

جب ہماری فوج ملکوٹ سے روانہ ہوتی تو تعداد پوری ہوتی لیکن نمب تک پہنچتے پہنچتے کچھ لوگوں کی سانس پھول جاتی اور وہ کنیر یا کسی "کس” میں تین چار گھنٹے کے لیے آرام فرمانے رک جاتے۔ کچھ احباب سکول کا رستہ بھول کر دیول، بیروٹ کی طرف بھی نکل جاتے اور رستہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے چھٹی کا وقت ہو جاتا۔ دن کو سٹرابیری، بلیک بیری، بلیو بیری کے پودوں کی تو شامت آنی ناگزیر تھی لیکن اگر ان کی رسائی میں کسی کے ذاتی باغ بھی آ جاتے تو من و سلویٰ سمجھ کے ان کے ساتھ بھی انصاف کرتے۔ کئی بار سکول تک اس ضمن میں شکایات بھی پہنچیں اور علی الصبح اسمبلی میں ایسے جیالوں کی ملک صاحب پورے سکول کے سامنے عزت افزائی بھی فرماتے۔

صبح صبح سکول حاضر ہو کر ہم اسمبلی میں شرکت کرتے۔ مختلف کلاسوں میں گزشتہ دن کا تفویض کیا گیا کام اساتذہ کی خدمت میں پیش کرتے اور نیا سبق سیکھتے۔ چھٹی ہونے تک ہم نصابی کتب کی ثقالت اور اساتذہ کے بھاری بھرکم پند و نصائح کا بوجھ برداشت کرتے لیکن ہمارے کچھ "ترقی پسند” ساتھی ایسے بھی تھے جو ان چند گھنٹوں میں مری کی رونقوں سے حظ و نشاط حاصل کر کے لوٹ آتے اور سکول سے واپسی کے سفر میں ہمارے ہم سفر بن جاتے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ فرضی واقعات نمک مصالحہ چھڑک کے اس پیرائے میں بیان کرتے کہ دو چار بار چند "معصوموں” کو بھی بہلا یا بہکا کر رفاقت پر راضی کر لیتے۔  لیکن ان کی خوش نصیبی تھی کہ ان کے اہل خانہ کو ان کے اس ایڈونچر کا علم ہو گیا اور وہ توبتہ النصوح کر کے ان کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

پیدل سفر، مشکلات، پڑھائی کا بوجھ اور پھر اکثر لڑکوں کو ملکوٹ چوک یا دیول سے واپسی پر گھر کا سامان بھی لانا ہوتا تھا۔ اگرچہ سارے ساتھی سامان اٹھانے میں مدد کرتے تھے لیکن بہرحال یہ کوئی کار سہل نہ تھا۔ اہل ملکوٹ ٹٹھا (ملکوٹ چوک، اوسیاہ) سے پیدل ملکوٹ آتے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں سبزی یا پھل ہوتے، کسی نے بیگ اٹھایا ہوتا، کئی عورتیں سر پر کوئی پوٹلی اٹھائے ہوتیں۔ اگر سکول سے واپسی پر ہمیں کوئی فیملی یا اکیلا شخص مل جاتا، جس نے سامان اٹھایا ہوتا تو ہم اس کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ عمر میں بڑا کوئی بھی ہو اس کا احترام کیا جاتا تھا۔ بڑوں کی نصیحتوں کو عمل کی نیت سے پوری توجہ سے سنا جاتا۔ اساتذہ اور والدین عملی زندگی کے بارے بچوں کو تربیت فراہم کرتے تھے۔ سماجی زندگی کے معمولات ایسے تھے کہ پرائمری کے بعد لڑکے گھر کے بہت سے کاموں میں شامل ہوتے تھے۔ اس طرح وہ کتابیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ سماج کا حصہ بھی بنتے تھے اور زندگی کا علم بھی حاصل کرتے تھے۔

موسم گرما کے دوران سکول سے واپسی پر کنیر میں تھوڑی دیر نہانے کے بعد کرکٹ کھیلی جاتی تھی۔ پل کی تعمیر سے پہلے راستہ دائیں طرف پل کی طرف جانے کے بجائے سیدھا نیچے کنیر میں آتا تھا اور اسی کی سیدھ میں ملکوٹ والی طرف ہمارا کرکٹ گراؤنڈ تھا۔ آدھی چھٹی والے دن اکثر نمب کی ٹیم بھی آ جاتی اور یوں مقابلوں کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہتا۔ کیونکہ کنیر کے قریب کوئی دکان موجود نہیں تھی اس لیے پیٹ میں چوہے دوڑیں یا ہاتھی، اللّٰہ پاک کی بے مول اور انمول نعمت پانی سے ہی کام چلایا جاتا تھا۔ میچ کے دوران تو کھیل کی دل چسپی اور مقابلے کا جنون بھاگ دوڑ میں مصروف رکھتا لیکن جب گھر کی طرف روانہ ہوتے تو پہلا گھمبیر مسئلہ یہ آن کھڑا ہوتا کہ کنیر سے لے کر گھر تک سارا رستہ چڑھائی تھی۔ گھر پہنچتے تو ماؤں نے دیسی گھی یا مکھن کے پراٹھے پکا کر رکھے ہوتے۔ منہ ہاتھ دھو کر ان سے دو دو ہاتھ کیے جاتے تب جا کر اوسان بحال ہوتے۔ میرے گھر والے گرمیوں میں بہکاں والے گھر منتقل ہو جاتے تھے اس لیے میں اکثر گھر میں اکیلا رہتا تھا۔ اس لیے قمر حیات یا امجد کے ساتھ ان کے گھر چلا جاتا کیونکہ ان کے گھر کو بھی میں اپنا ہی گھر سمجھتا تھا اور ان کے گھر والے بھی مجھے اپنے گھر کا ہی فرد سمجھتے تھے۔

شام کو اکثر دوست میری طرف آ جاتے۔ کیونکہ ملکوٹ میں بجلی نہیں تھی اس لیے میں پیٹرومیکس کا گیس جلاتا تھا۔ ہم دوست بیٹھ کر مطالعہ کرتے، گپیں لگاتے اور ساتھ میں کھانے پکانے کے نئے نئے تجربات کرتے۔ ایک دن سکول کا کام کچھ زیادہ تھا اس لیے فیصلہ ہوا کہ کام ختم کر کے چاول ابالے جائیں اور مکھن اور شکر کے ساتھ کھائے جائیں۔ ابھی چاول ابالنے کا عمل جاری تھا کہ قمر حیات (مرحوم) کی والدہ آن وارد ہوئیں۔ ہمارے کان کھینچے اور فورا گھر کو تالے لگانے اور ساتھ چلنے کا حکم صادر کیا۔ بڑی مشکل سے ان کو راضی کیا اور ابلے ہوئے چاول ساتھ لے جانے کی اجازت ملی، جنھیں ہمشیران نے مکھن اور چینی شامل کر کے سویٹ ڈش میں تبدیل کیا۔ ایک وضاحت کر دوں کہ قمر حیات اور میرے گھر کے درمیان کافی فاصلہ تھا۔ لیکن ہم لوگ پیدل چلنے کے بھی عادی تھے اور دوستوں میں محبت کا رشتہ بھی تھا، اس لیے آنا جانا لگا رہتا تھا۔ اب سفری سہولیات کی فراوانی کے باوجود سال سال بھر دوستوں کو ایک دوسرے سے ملنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔

(جاری ہے)

*راشد عباسی ۔۔ راولپنڈی*


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481