اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

راشد عباسی کا صحِیفہ رنتن اور پہاڑی ادب

راشد عباسی کا صحِیفہ رنتن اور پہاڑی ادب

راشد عباسی کا صحِیفہ رنتن اور پہاڑی ادب

 

مُشترِک زبان کے بغیر کِسی سرزمِین پر بسنے والے افراد کو ایک قوم نہِیں کہا جا سکتا ، کِیُونکہ زبان ہی وہ واحد قُدرتی ذریعہ ہے جو کِسی خِطّے میں بسنے والے افراد کی مُشترِک تارِیخ ، تہذِیب ، ثقافت اور عُلُوم کو محفُوظ کر کے اُسے قوم کے مرتبے پر فائز کرتی ہے ۔ سینکڑوں برس کی تارِیخ کی حامِل کِسی ایسی زبان میں صحائف و کُتب شائع کرنا جِس نے ابھی رِینگنا بھی نہ سِیکھا ہو ، کِسی بے جان قوم میں رُوح ڈالنے سے کِسی طور کم نہِیں۔ راشد عباسی جیسے فرہادِ کوہسار نے اپنی نوکِ قلم سے فِکری اور تحرِیری طور پر بنجر زمِین سے نظم و نثر کی گویا نہریں کھود نِکالی ہیں۔
"1880ء میں لِتھوانیہ کی سرزمِین سے لازار بِن یہُودا نام کا صِرف ایک بائیس برس کا نوجوان ڈاکٹر عِبرانی زبان جاننے والا رہ گیا تھا ، اُس کی کوشِشوں اور قُربانیوں سے آج اِسرائیل کی قومی زُبان عِبرانی (جِس کی جدِید شکل "یِدِش” کہلاتی ہے) زِندگی کے ہر شعبے پر حُکمرانی کر رہی ہے ۔” (بحوالہ اُردُو ڈائجسٹ ۔ جِلد اوّل ، شُمارہ دوم)
دو ہزار سال تک مُردہ رہنے والی تورات کی زبان یقیناً مروّج عِبرانی نہِیں تھی لیکِن اِنجِیل کی زبان ” آرامی” تھی جبکہ حضرت عِیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں فلسطِین کی سرکاری زبان یُونانی تھی۔ جِس طرح یُونانی نے آرامی زبان کو پھلنے پھُولنے نہِیں دِیا اِسی طرح دو سو برس پہلے تک لاطِینی نے یورپ کی زبانوں پر اپنا تَسلّط جمائے رکھا، لیکِن یورپی اقوام یعنی انگریز، جرمن، فرانسِیسی، ولندیزی و ہسپانوی اور دِیگر اقوام نے اپنی اپنی زبانوں میں تحقِیقی اور سائنسی میدانوں میں کام کر کے خُود کو لاطِینی کے چُنگل سے آزاد کروا کے دم لِیا۔ لیکِن آج وہی یُونانی اور لاطِینی والا غاصبانہ کِردار انگریزی ادا کر رہی ہے، جِس کے تَسلّط سے آزادی کے لیے تحقِیقی اور سائنسی میدانوں میں کام کر کے ہمیں اپنی زبانوں کو خُود مُختار بنانا پڑے گا ۔
اللّٰہ کرِیم کا لاکھ لاکھ شُکر ہے کہ پہاڑی زبان بولنے والوں کی نُمائندہ اقلِیّت، انگریزی اور اُردُو کے احساسِ برتری سے نِکل کر اب پہاڑی بولنے اور لِکھنے میں شرمِندہ ہونے کے احساسِ کمتری سے بھی چھُٹکارا پا رہی ہے۔ اِس لِسانی جہاد میں مِیاں کرِیم اللّٰہ قُریشی، سلِیم شوالوی، مُحمّد آصِف مِرزا، علی احمد قمر، ڈاکٹر مُحمّد صغِیر خان، محبّت حُسین اعوان، سجاد عباسی، علی احمد قمر، مُمتاز غزنی، مُنِیر عباسی، پروفیسر اشفاق کلِیم، شکِیل اعوان، مسعُود حنِیف، سردار مسعُود آکاش، صبِیر ستّی، اے حمِید، حمِید کامران، علی احمد کیانی، حماد سکندر عباسی، مُنِیر زاہد، صفُورا زاہد، ڈاکٹر صابر آفاقی، علی عدالت، خان سعادت اکبر خان اور مُتعدّد دِیگر اہلِ قلم کی کوشِشوں کو اوّلِین مقام حاصِل ہے۔ لیکِن پہاڑی لِسانی تحرِیک کے اِن متوالوں میں ایک اِمتیازی مقام راشد عباسی کو حاصِل ہے۔ اُن کی زِندگی کا کون سا لمحہ، اخراجات کا کون سا حِصّہ اور تنہائی کی کون سی ساعت ہے جِس میں پہاڑی کے فروغ کو اہمیّت حاصِل نہِیں؟ ہماری رُومانوی داستانوں کی تارِیخ کو حُسن و عِشق کی تنگنائیوں سے نِکال کر عِلمِ لِسانیات کی شاہراہ پر گامزن کرنے کا جو کارنامہ راشد عباسی انجام دے رہے ہیں، یہ خطۂ کوہسار کے لیے عطیۂ خُداوندی سے کم نہِیں۔
پاکِستان میں پہاڑی زبان میں چھپنے والے واحد کتابی سلسلے "رنتن” کے پہلے و دُوسرے شُمارے کا بغور جائزہ لیں تو آپ باآسانی سمجھ جائیں گے کہ اِس میں ادب کے سارے اہم رنگ سِیرت الرسُول، مضامِین، افسانے، لوک کہانیاں، طنزومزاح، شاعری، تراجم اور خاکے دستیاب ہیں۔ یہاں تک کہ پہاڑی کی تمام ہمجولیوں ( پنجابی، پوٹھواری، سرائیکی، ہِندکو اور گوجری) کو یکجا کر کے ادبی گُلدستہ بنانا کِسی مجنُوں اور فرہاد جیسے عاشقِ صادق کا کام ہی ہو سکتا ہے، جو ادب کا یہ لق و دق صحرا عُبُور کروا کے ادبِ عالیہ تک رسائی مُمکِن بناتا ہے۔
"رنتن” کے تِیسرے شُمارے کو ‘علامہ مُضطَر عباسی نمبر’ سے موسُوم کر کے نہ صِرف اپنے اُستاذ سے گہری عقِیدت کا اِظہار کِیا ہے بلکہ اِس خصُوصی اشاعت میں مُختلِف اخبارات میں علامہ صاحب کی مُنفرِد جہات پر چھپنے والے تحقِیقی مضامِین کو شامِل کرنے کے ساتھ ساتھ علامہ صاحب کے ماہنامہ "الحق” میں شائع ہونے والے تحقِیقی مقالہ جات کا پہاڑی ترجمہ بھی شائع کِیا گیا ہے، جو پہاڑی ادب کو بُنیادیں فراہم کرنے سے کم کارنامہ نہِیں۔
"رنتن” کے چوتھے جرِیدے میں مُنتخِب پہاڑی غزلوں کے ساتھ ساتھ مُتعلقہ شعراء کے مُختصر خاکے بھی شامِل ہیں۔ نِیز پہاڑی زبان کی مُختصر تارِیخ اور اسلُوب پر بھی بات کی گئی ہے۔ جبکہ "رنتن” نمبر پانچ پہاڑی افسانے و کہانی کے تمام بُنیادی رنگوں سے معمُور ہے۔
"رنتن” نمبر چھ کا مُطالعہ کریں تو آپ کو باآسانی عِلم ہو جائے گا کہ تِیس معرُوف پہاڑی شعراء کے کلام میں سے نظموں کو مُنتخِب کرنا، کمپوز کروانا اور شائع کرنا کوہ نوردی سے کم نہِیں۔ یہاں مُجھے اِقبال کا یہ شعر بھی یاد آ رہا ہے۔۔

بے محنتِ پیہم کوئی جوہر نہِیں کھُلتا
روشن شررِ تیشہ سے ہے خانۂ فرہاد

دُنیا میں ساڑھے تِین ہزار زبانیں، نو ہزار بولیاں جبکہ پاکِستان میں پچہتّر زبانیں بولی، لِکھی اور پڑھی جاتی ہیں۔ جِن اقوام نے اپنی زبانوں کو بولنے میں جھِجک اور ندامت محسُوس کی آج اُن کا کوئی نام لیوا نہِیں۔ کِیُونکہ پندرہ ہزار سال پہلے تک دُنیا میں سات ہزار سے زیادہ زبانیں بنی نوع اِنسان اِستعمال کرتے تھے لیکِن آج آدھی زبانیں اُن اقوام کی بے حِسی کے باعث اپنی موت آپ مر گئیں اور اُن میں موجُود عُلُوم سے آئندہ نسلوں کو محرُوم ہونا پڑا۔
آج دُنیا میں انگریزی سمیت ستّر فِیصد سے زائد زبانیں رومن رِسم الخط میں لِکھی اور پڑھی جا رہی ہیں۔ فارسی و عربی رِسمُ الخط میں چھپنے والی پہاڑی نظم و نثر کی درجنوں تحقیقی کِتابوں کو آج ہمارے مُعاشرے میں وہ مقام حاصِل نہِیں جِس کی وہ حقدار ہیں لیکِن جب یہی زبان تعلِیمی اِداروں میں نِصاب کا حِصّہ بن جائے گی تو اِنہی کُتب کو تحقِیق اور تعلِیم کے لیے بُنیادی ماخذ کا درجہ حاصِل ہو گا ۔
اگرچہ پروفیسر کرم حیدری کی "داستانِ مری” ، لطِیف کاشمِیری کی "خیابانِ مری” ، نُور اِلٰہی عباسی کی ” تارِیخِ مری” وقار احمد ستّی کی” تارِیخِ چِلاورہ” ، فارُوق آزاد کی "دیارِ مری” اور مُحمّد آصِف مِرزا کی ” مری کے رنگ ہزار” کو وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ بھُلا دِیا گیا ہے لیکِن مری کی تارِیخ سے مُتعلّق ہر قِسم کی تحقِیقی ضرُورتیں پُوری کرنے کے لیے آج بھی اِنہی کُتب کو تلاش کِیا جاتا ہے۔
Murree During British Raaj اور The Glimpse Through The Forest
جیسی دِیگر کُتب کی دستیابی نامُمکِنات میں سے ہے نِیز انگریزی زبان میں ہونے کے باعث ایسی کُتب ہماری نِنانوے فِیصد آبادی کو سمجھ ہی نہِیں آتِیں۔ البتّہ ماہنامہ دستک میں چھپنے والے تحقِیقی مضامِین نے بہت حد تک اِن ضروریات کو نہ صِرف پُورا کِیا بلکہ اِس تحقِیقی سِلسِلے کو موجُودہ حالات و واقعات کے ساتھ جوڑنے میں ایک پُل کا کِردار ادا کِیا۔ خصُوصاً پہاڑی ادب کو تحرِیری صُورت میں محفُوظ کرنے کا اوّلِین سہرا بھی "ماہنامہ دستک” کی اِنفرادی خُوبی کے طور پر تارِیخ کا حِصّہ رہے گا۔ جِس میں جناب محبّت حُسین اعوان کی پہاڑی زبان میں سِیرتِ پاک "اساں نیں نبی پاک اؤر” ، جناب مُنِیر عباسی کی "چِٹھی مُسیاڑی نی” اور پہاڑی شاعری کو بہت پذِیرائی مِلی۔ اِس بھاری عَلَم کو بھی راشد عباسی نے "رنتن” کی صُورت میں اُٹھا کر پہاڑی ادب کے سِلسِلے کو گُمنامی کی نذر ہونے سے بچا لِیا ہے لیکِن مقبُوضہ کشمِیر میں جناب شفِیق الرحمٰن کا پہاڑی زبان میں ترجمہ القُرآن، جناب کرِیم اللّٰہ قُریشی کی کِتاب ” پہاڑی و اُردُو ۔ ایک تقابلی جائزہ "، جناب نصراللّٰہ خان ناصر کی کِتاب "پہاڑی زُبان کے ملفُوظی اعزازات و نوادرات "، ادبی رِسالہ "شِیرازہ اور مُتعدّد ادبی کُتب کی اشاعت میں جمُّوں اینڈ کشمِیر کلچر و لینگوِج اکیڈمی کی کوشِشوں کو نظر انداز نہِیں کِیا جا سکتا۔
پہاڑی ادب کے مشاہِیر کی عِلمی و ادبی کاوشوں کی ایک جھلک آپ کے لیے پیشِ خِدمت ہے۔
(1) محبّت حُسین اعوان
1۔ اساں نیں نبی پاک اؤر (سِیرت) ، 2 ۔ آخان (ضرب الامثال ، 3۔ پھُلاں پہری چنگیر (مُختصر واقعات)
(2) سردار مسعُود آکاش
1۔ دِیوانِ آکاش(شاعری)
(3) علی احمد قمر   1۔ پچھاوا(شاعری)
(4) ۔ ڈاکٹر ُمحمّد صغِیر خان
شاعری :
1۔ پہاڑی لوک گِیت ، 2 ۔ دِیوا بلنا رہ ، 3 ۔ کیدُوں سویل ہوسی ۔
افسانے :
4 ۔ کھٹی بٹی ، 5 ۔ ست برگے ناں پھُل ، 6 ۔ بسواس ۔
ناول :
7 ۔ مولاچھ ، 8 ۔ پہاڑی لوک کہانیاں ، 9 ۔ مچ پہخنا رہسی(کشمِیر کی مُکمّل آزادی کے پس منظر میں بہترِین ناول) ۔
ضرب الامثال : 10 ۔ آخان
خاکے : 11 ۔ لِیکاں
بُجھارتیں : 12 ۔ بنجاراں
سفر نامہ : 13 ۔ اندرے ناں پینڈا
(5) صبِیر ستّی
1 ۔ پہاڑی زبان (لِسانیات)
(6) ۔ راشد عباسی
شاعری :
1۔ سُولی ٹنگی لو ، 2 ۔ اِقبال نیں شاہِین ، 3 ۔ عِشق اُڈاری، (9،8،7،6،5،4) ۔ چھ عدد جرائد "رنتن” ۔
ناول : 10 ۔ سِیتا زینب (سِندھی ناول کا پہاڑی ترجمہ)
(7) ۔ پروفیسر اشفاق کلِیم   1۔ نوِیں سویل (شاعری)
(8) Michael and Laura Lothers
1 . Paharri and pothwari linguistic survey.
(9) ۔ چنگیز راجہ    1 ۔ ڈُونگے ساہ (ناول)
(10) ۔مُمتاز غزنی
1۔ بکھیاں دوہریاں (پہاڑی طنز و مزاح)، 2. سکھاں (پہاڑی کہانیاں)،  3۔ چروکنی گل (پہاڑی مضامین)، 4۔ پہوچھن (ناول)، 5۔ تُہخنے آڑے (پہاڑی افسانے)،  6۔ اُچے لوک (پہاڑی خاکے)
(11) ۔ حمِید کامران
شاعری :
1 ۔ حالانکہ تُو اوے دیں ، 2 ۔ خُوشیاں سانوِیں رکھ
(12) ۔ لیاقت لئیق 1 ۔ مہاڑیاں بگیاڑاں (شاعری)
( 13) ۔ علی احمد کیانی
شاعری :
1 ۔ پیار نیں دِیوے بال ، 2 ۔ پھُل تے کلیاں ، 3 ۔ صحرا صحرا رلیاں اکھِیں ۔ 4 ۔ رنگ پرنگے تہاگے (طنز و مزاح)
(14) ۔ شکِیل اعوان    1. ٹہاکیاں نے پھُل( شاعری)
(15) ۔ اے حمِید
شاعری(غزلاں)
1 ۔ اتھرُو تارا ، 2 ۔ ستّاں رنگاں نی چُنّی 3 ۔ پہاڑی نظموں کا مجمُوعہ (غیر مطبُوعہ)
(16) ۔ علی عدالت
1 ۔ کُلیاتِ علی عدالت(ناولٹ)
افسانے :
2 ۔ نِیلم پچھی ، 3 ۔ کُچھ اکھِیں ڈِٹھیاں کُچھ کنِیں بھُجیاں ۔
ناول :
4 ۔ پُونچھ ناں سرمد 5 ۔ تہاراں نی اگ ، 6. میلا اسمان ، 7 ۔ جاسُوس ۔
مری اور ایبٹ آباد کے سنگم پر واقع ایک دُور اُفتادہ ، پسماندہ مگر فِطری حُسن سے معمُور گاؤں ملکوٹ کی جفاکش اور مُخلِص شخصِیّت جناب رحِیم داد عباسی کے صاحبزادے راشد عباسی کی تعلِیمی آبیاری جناب مُنشی نبی صاحب کے قائم کردہ ملکوٹ کے پہلے ٹاٹ مِیڈیم سرکاری پرائمری سکُول میں ہُوئی۔ خالصتاً جندر اور سیف الملُوک والے ماحول میں پرورش پائی، جہاں خط پڑھ کر سُنانے والوں کا بھی فُقدان ہوتا تھا۔ راشد عباسی کی زیرِ ترتِیب خُود نوِشت سوانح "میں نے دُکھ کو طاقت کیسے بنایا” میں دیہاتی زِندگی اور ماں سے محبّت کا وہ حقِیقی عکس مِلتا ہے جو آپ کی اپنی یادوں کو اشکوں میں پرو دے۔ اِس سوانح میں پہاڑی تہذِیب ، تارِیخ ، زبان و روایات اور جذبات کا مُکمّل خزانہ دستیاب ہے۔
گورنمنٹ بوائز ہائی سکُول اوسیاہ کے بعد گورنمنٹ ڈِگری کالج مری، گورنمنٹ کالج اصغر مال، راولپنڈی، قائدِاعظم یُونِیورسِٹی، اِسلام آباد اور پنجاب یُونِیورسِٹی، لاہور سے حُصُولِ عِلم کے بعد اِن کی عِلمی تَشنگی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ دیارِ غیر ہو یا وطنِ عزِیز۔۔ نظم و نثر کے چراغ جلائے بغیر اِنہیں چَین نصِیب نہِیں ہوتا۔ یُوں تو اُردُو و انگریزی اور پنجابی ادب میں طوِیل فاصلے طے کرنے کا سفر بھی جاری ہے لیکِن پہاڑی زبان و ادب میں آبلہ پائی بھی اِن کی اصل پہچان بنتی جا رہی ہے۔
راشد عباسی کی زِندگی میں مُختلِف نُمایاں جہات خصُوصاً پہاڑی ادب کے ساتھ ساتھ ایک ہمدرد اور جہاں دِیدہ شخصِیّت بھی پوشِیدہ ہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جِن کی شخصِیّت اور تحرِیر میں اِتنی گہری مُماثلت پائی جاتی ہو۔ راشد عباسی وہی کُچھ لِکھتے ہیں جو اُن کے کِردار سے جھلکتا ہے۔ موصُوف نہ صِرف مُشکِل وقت میں دوستوں کا ساتھ نِبھانا جانتے ہیں بلکہ گُمنام و حقِیقی لِکھاریوں کو منظرِ عام پر لانا بھی اُن کے مقاصد میں شامل ہے۔ اِس حوالے سے اُن کی ہر مُمکِن راہنُمائی اور مُعاونت نہ صِرف نو آموز لِکھاریوں کی تربِیّت اور حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے بلکہ عِلم و ادب کے ٹِمٹِماتے چراغوں کو نئی روشنی اور طاقت مِل جاتی ہے۔ آج اگر پہاڑی ادب کی کُتب اور خطۂ کوہسار کے نئے لِکھاریوں کی مطبُوعات و تخلِیقات کا جائزہ لِیا جائے تو اُن کو منظرِ عام پر لانے میں راشد عباسی کا کوئی نہ کوئی بُنیادی کِردار ضرُور ہو گا۔ راقم کی زیرِ ترتِیب پہاڑی لُغت کی تیّاری میں بھی ممدُوح سرِفہرِست ہیں۔

نہِیں گُونگا کہ جو ہے قُوّتِ گویائی سے عاری
وہی ہے بے زُبان یارو نہِیں جِس کی زُباں اپنی
(انور عباسی مرحُوم)

 

امجد بٹ ۔ کوہ مری


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481