اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

حسن رضا کی یاد میں

landscape 3 2 1753472401152 1

حسن رضا مرحوم

جِس طرح شاعری سُن اور پڑھ کر مُعاشرے میں پھیلے طرح طرح کے منفی جذبات کو کم کرنے کا موقع مِلتا ہے اور محبّت فروغ پاتی ہے، اِسی طرح دوستوں کی محفلیں زِندگی کی سختیوں اور زخموں کو مُندمِل کر کے اِسے زیادہ اذِیّت ناک بننے سے روک دیتی ہیں۔
ماضی کی طرف کھُلنے والے درِیچوں میں سے میرے ذہن میں کھُلنے والے ایک درِیچے پر پینتالِیس برس بعد سب سے پہلی دستک ہمارے ہم جماعت اصغر قُریشی نے دی ، اُس نے بذرِیعہ فُون ہمارے میٹرک کے زمانےکے کم و بیش ڈیڑھ درجن ساتھیوں کو دُنیا بھر سے ڈھُونڈ ڈھانڈ کر ایک وٹس ایپ گرُوپ بنایا۔ گویا احباب کو ہوا کے دوش پر ایک ان دیکھی مالا میں پرو ڈالا اور نومبر 2021ء میں مری شہر میں سہ روزہ مُلاقات کی نوِید سُنا ڈالی ۔ اِس گرُوپ میں الگ الگ شعبوں میں مُختلِف دُنیاوی حیثیتوں کے حامِل احباب جو زِندگی کی ساٹھ سِیڑھیاں چڑھ چُکے ہیں، اُن کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں :
1۔ حسن رضا مرحُوم ، 2 ۔ مِرزا سُہیل بیگ ، 3 ۔ شاہد مِرزا (امریکہ) ، 4 ۔ لطِیف کمبوہ (کراچی) ، 5 ۔ طاہر لطِیف (راولپنڈی) ، 6 ۔ مہتاب سروَر ، 7 ۔ بشِیر خان ، 8 ۔ سجّاد شیخ ، 9 ۔ سُلطان مِیر (اِسلام آباد) ، 10 ۔ مُحمد علی کاٹل (امریکہ) ، 11 ۔ سیّد اِقبال عالم زیدی (لاہور) ، 12 ۔ اصغر قُریشی (جنُوبی افرِیقہ) 13 ۔ خُورشِید اعوان (سعُودی عرب) ، 14 ۔ اِکرام الحق عباسی ( اِسلام آباد) ، 15۔ عبدالرحمان عباسی ۔
ہم لوگ سکُول میں شاید اِتنے قرِیب نہِیں تھے لیکن اصغر قُریشی کی محبّت اور محنت نے ہمیں ایک دُوسرے کے قرِیب تر کر دِیا ۔
تصنِیف و تالِیف کی دِیگر ترجِیحی مصرُوفیات کے باعث زمانۂ طالبِ عِلمی کی یادیں سمیٹنے کا موقع نہِیں مِل رہا تھا لیکِن حسن رضا کی غیر متوقع رحلت نے ایسے سارے بِیتے لمحات کو یکجا کر دِیا جو ہم نے اِکٹھّے گُزارے تھے ۔ حسن رضا اِنتہائی خُود دار اور صاف گو اِنسان ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی مِسکِین و عاجِز شخصِیّت کا حامِل تھا ، وہ نہ صِرف دوستوں سے ہمدردی رکھتا بلکہ شُرُوع سے ہی کاروباری سُوجھ بُوجھ رکھتا تھا ، لہٰذا اپنی دُکان پر جو کاپی اُسے خُود دو رُوپے کی خرِید پڑتی اور وہ عام لوگوں کو تِین رُوپے کی فروخت کرتا تھا لیکِن وہی کاپی اپنے ہم جماعتوں کو سوا دو رُوپے میں لا کر دے دیتا اِس طرح کُچھ غرِیب دوستوں کی انجانے میں مدد بھی ہو جاتی تھی ۔ ہم سب دوستوں کی ایک قدرِ مُشترِک یہ بھی تھی کہ اُردُو ، انگریزی ، حیاتیات (بیالوجی) ، سائنس و ریاضی ، مُطالعہ پاکِستان اور اِسلامیات کے لئے بِالترتِیب ہمارے اساتذہ میں مُضطَر عباسی ، احمد حسن و صِدِیق ، راجہ عبدالقدِیر و عظِیم خان ، چوہدری یُونس ، گُلزار عباسی ، اللّٰہ بخش اور مُفتی صِدِیق الرّحمٰن وغیرھُم صاحبان کے اسمائے گرامی شامِل تھے ۔ ہم سب اوسط درجے کے طالبِ عِلم تھے ، لیکِن ایک بات وثُوق سے کہہ سکتا ہُوں کہ ہمارے دور کی محرُومیوں اور کوتاہیوں کو ہمارے بچّوں نے اپنی محنت اور ذہانت سے ختم کر کے ہمارے رِزقِ حلال کی تصدِیق و توثِیق کی ہے ۔ بلکہ اپنی صلاحیتوں کو بھی منوایا ہے ۔
اگرچہ سکُولی دور کی وہ سب باتیں تحرِیر کرنا تفصِیل طلب ہیں جِنہیں ہم حَسن رضا کی محفِل میں بیان کر کے بے ساختہ ہنسا کرتے تھے البتّہ ایک کم درجے کا لطِیفہ نُما سچّا واقعہ حسن نے یُوں سُنایا تھا
(چوہدری یُونس صاحب ریاضی پڑھاتے ہُوئے اپنے آبائی عِلاقے گُجرات کے مخصُوص لہجے میں کہنے لگے” او مُنڈیو ! جدُوں اسی نوِیں جمات اِچ پڑھدے سی تے ساہنُوں ساری کتاب مُنہ زُبانی یاد ہوندی سی” ایک پٹھان دوست آفتاب خان نے پنجابی میں ہی جواباً کہہ دِیا ” سر جی ! تہانُوں کوئی چنگے اُستاد لبّے ہون گے” اِس جواب کے آدھ گھنٹے بعد چوہدری صاحب کا غُصّہ ٹھنڈا ہُوا تو ہمیں بھی مُرغے سے اِنسان بننا نصِیب ہُوا) ۔

حَسن رضا کا بُنیادی تعلق آزاد کشمِیر سے تھا لیکِن ساری زِندگی مری میں گُزارنے کے باعث وہ درحقِیقت مری وال ہی بن چُکا تھا ۔ اُس کی مُتعدّد خُوبیوں کے اہلِ مری گواہ ہیں ۔ پہلی بات تو یہ کہ جِسم کے ساتھ ساتھ وہ کِردار کا اِنتہائی مضبُوط اِنسان تھا ۔ کوئی شخص اُس کے مُعاملاتِ زِندگی پر اُنگلی نہِیں اُٹھا سکتا تھا ۔ کِردار اور مُعاملاتِ زِندگی میں پُختگی رِزقِ حلال ، والدین کی بہترِین تربِیّت اور دِین کی طرف جھُکاؤ کے بغیر مُمکِن نہِیں اور یہ تِینوں خُوبیاں حسن رضا میں بدرجہ اتم موجُود تھِیں ۔ اِس مُناسبت سے مُجھے خاکسار تحرِیک کے رُوحِ رواں حضرت علامہ عنایت اللّٰہ خان مشرِقی سے منسُوب ایک قول یاد آ رہا ہے "نماز تب شُرُوع ہوتی ہے جب نماز ختم ہوتی ہے” یعنی نماز کا عملی مُظاہرہ ہمارے مُعاملاتِ زِندگی میں اگر نظر نہ آئے تو گویا ہم نے نماز پڑھی ہی نہِیں ۔

حسن رضا مُبارک عباسی مرحُوم کے خاندان کےساتھ نہ صِرف عرصۂ دراز سے کاروباری حوالے سے مُنسلِک تھا بلکہ اُسے گھر کا فرد سمجھا جاتا تھا۔ خاکسار کو کئی بار اُس کے ساتھ سفر کرنے کا اِتّفاق ہُوا، اُس کے مُعاملات زِندگی بہت سادہ اور بے ضرر تھے ۔
جولائی 2024ء میں جب میری کُتب کی اشاعت کا حَسن رضا کو عِلم ہُوا تو اِصرار کر کے علامہ مُضطَر عباسی صاحب پر مطبُوعہ کِتاب پڑھنے کے لئے لی حالانکہ کاروباری مصرُوفیات کے باعث اُس کا مِزاج قطعی مُختلِف تھا ۔

حسن رضا کو اپنے شاہزور ٹرک سے داؤد عباسی کا سامان اُتارنے کے بعد بُلند فِشارِ خُون کے باعث فالج کا حملہ ہُوا تو داؤد عباسی و دِیگر ساتھیوں نے اِبتدائی طِبّی اِمداد کے لیے فوراً ٹی ایچ کیُو ہسپتال مری پہنچایا۔ قریباً دو ہفتوں تک ایک پرائیویٹ ہسپتال ، راولپنڈی میں "کومے” میں رہنے کے باعث زیرِ عِلاج رہا. دوستوں کو اِس کی خبر سجاد شیخ سے مِلی اور جلد ہی طاہر لطِیف اُس کی عیادت کے لئے ہسپتال پہنچ گیا ۔ حَسن بھائی کے اہلِ خانہ نے اُس کی خِدمت اور عِلاج میں کوئی کسر باقی نہِیں چھوڑی ۔ رحلت سے دو روز قبل بقائمی ہوش و حواس اُس نے تِین دوستوں ( عاصم شفِیق ، مہتاب سروَر اور راقم ) سے مُلاقات کے دوران بات چِیت بھی کی ۔ 29 جولائی 2025ء کو رات دو بجے اپنے خالقِ حقِیقی سے ابدی مُلاقات کے لئے روانہ ہو گیا اور اپنے عمل سے ہمیں یہ سمجھا گیا کہ :

موت سے کِس کو رستگاری ہے
آج "ہم”، کل تُمہاری باری ہے

حج کر لینے کے باوجُود خاکسار کے ذہن پر یہ بھُوت بہت عرصہ سے سوار تھا کہ زیاراتِ مُقدّسہ صِرف پیسے کا کھیل ہے لیکن حَسن رضا کا یہ اِصرار تھا کہ ” نہِیں بٹ ، یہ رب کا بُلاوا ہوتا ہے ، وہ اپنے گھر بُلا کر محبّت سے اِصلاح کے مواقع فراہم کرتا ہے ، ورنہ میرے جیسے بے کار شخص کے لئے اللّٰہ غیبی سبب پیدا نہ فرماتا ” اور اِس مُقدّس سفر کے حوالے سے وہ اپنی بیٹیوں اور داماد سے بہت خُوش تھا ۔ لیکِن جب میری اہلِیہ محترمہ کے سفرِ حِجاز کے لیے اچانک میرے بیٹے کا ہمراہ جانے کا سرکاری اِجازت نامہ منسُوخ ہُوا اور ہنگامی بُنیادوں پر مجھے ساتھ جانا پڑا تو اِس بات کا پُختہ یقِین ہو گیا کہ واقعی یہ رب کا بُلاوا ہوتا ہے کِیُونکہ ربِ متعال نے عُمرے کے دوران مُجھ سے قُرآنِ حکِیم کے اسپرانتو و اُردُو ترجمے کی تدوِین کے حوالے سے جو کام لِیا وہ بُلاوے کے بغیر مُمکِن نہ تھا ، جِس کی تفصِیل اپنے سفر نامے میں لِکھی ہے۔ البتّہ اِتنا ضرُور کہُوں گا کہ خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھ کر ایسے پاکِیزہ احساسات کے ساتھ خُود کو ترجمہ سمجھانے کی کیفیت سے گُزر رہا تھا اور آنکھوں کے سامنے بیت اللّٰہ شرِیف کو دیکھ کر اِس خیال کے ساتھ خُود پر رشک آ رہا تھا کہ یہ تو وہی جگہ ہے جہاں نبئ اکرم اپنے صحابہ کرام کے ساتھ تشرِیف فرما ہوتے تھے ۔

IMG 20250808 WA0117
سکُولی زِندگی کے پینتالِیس برس بعد ہم میں سے آدھے تو بیشتر الحمدلِلّٰہ دادے ، نانے بن چُکے ہیں ۔ چار سال قبل مری میں ہونے والی اِجتماعی مُلاقات ہماری زِندگی کے خُوبصُورت لمحات پر مُشتمِل تھی جِس میں حَسن ، سجاد اور سُہیل بیگ نے مِیزبانی کے بھرپُور فرائض نِبھائے ۔ المائدہ و عُمانیہ ریستورانوں کی دعوتیں ، مری کیفے کی ” بون فائر ” ، حَسن رضا ، بشِیر خان اور شیخ سجاد کے گھروں میں پکے لذِیذ کھانے شاید ہم کبھی نہ بھُلا سکیں ۔ ہم سب کا مِل کر اپنے مادرِ عِلمی کی در و دِیوار سے مِلنا ، اُس وقت موجُود اساتذہ سے تبادلۂ خیال اور تصاوِیر بنانا بھی ہماری یادوں کا ایک بیش قِیمت حِصّہ ہے ۔

2021ء میں ایک موقع پر مادرِ عِلمی کے موجُود ہیڈ ماسٹر عطا الرّحمٰن عباسی نے توجّہ دِلائی کہ وزیرِ اعظم عِمران خان نےقُرآنی تعلِیمات و تربِیّت کو میٹرک پاس کرنے کے لئے نِصاب کا لازمی حِصّہ بنا دِیا ہے لیکِن سکُول میں مع ترجمہ قُرآنِ کرِیم کے اِتنے نُسخے نہِیں ہیں کہ سب طُلباء اِستفادہ کر سکیں تو سجاد ، شاہد ، طاہر لطِیف اور لطِیف کمبوہ نے لاہور سے قُرآن پاک مع اُردُو ترجمہ چھپوا کر فراہم کرنے کی سعادت حاصِل کی ۔
میرے گھر میں احباب کی ایک بھر پُور نشِست ہُوئی ، ایک دُوسرے سے گپ شپ کرتے اور قابلِ اشاعت و ناقابلِ اشاعت دونوں طرح کے مزاحیہ واقعات سُناتے ہُوئے لطِیف کمبوہ نے سجاد کو ایک تصوِیر کا فرضی ذِکر کر کے اِتنا ڈرایا کہ اُس کی پریشانی دیکھ کر باقی سب ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہوتے رہے ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ دوبارہ سکُول کا زمانہ آ گیا ہے اور اُس وقت ہم میں سے کوئی بھی ساٹھ سال کا بُڈھا نہِیں لگ رہا تھا ۔
سیّد پلازہ ، مال روڈ پر بشِیر خان کی دُکان پر رونق لگانے کے بعد سٹار بیکری کی اِیرانی چاکلیٹیں کھا کر سکُولی یادیں تازہ کِیں جو سکُول کی آدھی چھُٹّی کے دوران اور پُوری چھُٹّی کے بعد ہمارا معمُول ہُوا کرتا تھا ۔
شاہد مِرزا اور مُحمّد علی کاٹل ہم سب کے لئے امرِیکہ سے خُوشبُویات و دِیگر قِیمتی تحائف اورادویات لائے جو اُن کی محبّت اور چند دوستوں کے بُڑھاپے کو جوانی میں بدلنے کا باعث بنے ، خصُوصاً میرے گھُٹنوں کا درد بہت کم ہُوا ۔ پِنڈی پوائنٹ کی سیر میں حَسن رضا مرحُوم کے ساتھ بنی ہُوئی تصاوِیر دیکھ کر آج بھی اُس کی کسک محسُوس ہوتی ہے ۔ جناب مُنِیر نیازی نے کہا تھا:

وہ جو اِس جہاں سے گُزر گئے، کِسی اور شہر میں زِندہ ہیں
کوئی اور شہر ضرُور ہے اِنہی دوستوں سے بھرا ہُوا

۔۔۔

امجد بٹ ۔ مری


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481