اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

قسط 7. محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی

IMG 20250721 WA0150 قسط 7. محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی

محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی۔ میں نے دکھ کو طاقت کیسے بنایا؟

(ساتویں قسط)

والدہ صحت یاب ہو کر گھر آئیں تو زندگی لوٹ آئی، خوشیاں لوٹ آئیں، رنگ اور رعنائی لوٹ آئی۔ گھر تو تب ہی گھر بنتا ہے جب ماں موجود ہو۔ ماں نہ ہو تو گھر گھر نہیں رہتا۔ خدا نے جب اپنے پیار کی وسعت کو بیان کیا تو فرمایا میں انسان سے ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرتا ہوں۔ یعنی پیار، محبت اور شفقت کا پیمانہ ماں کی ممتا ٹھہری۔ ماں مامتا ہے، ایثار ہے، قربانی ہے، خلوص ہے، صبر ہے اور مجسم وفا ہے۔

دفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات
تھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیات
(اقبال)

زندگی ایک بار پھر معمول کی ڈگر پر چل پڑی۔ ہم نے پانچویں جماعت کا امتحان پاس کر لیا۔ اے ڈی آئی صاحب تشریف لائے۔ شاید ایبٹ آباد سے تعلق تھا۔ اردو کے بجائے ہماری ہی زبان بولتے تھے، جس کے فقط کچھ لفظ مجھے سمجھ نہیں آئے۔ میری لکھائی کی تعریف کی۔ اردو کا سبق سنا۔ حساب کے سوال سلیٹ پر لکھ کر دیے۔ میں نے فورا ہی حل کر دیے۔ پھر پہاڑے سنے۔ ماسٹر نثار صاحب کو مخاطب کر کے ان کی تدریس اور محنت کی تعریف کی۔ مجھے شاباش دی اور اسی وقت بتا دیا کہ آپ پاس ہیں۔ دوسرے دن میں جب سرٹیفکیٹ لینے سکول گیا تو ماسٹر نثار صاحب نے مجھے گلے سے لگا لیا۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کیونکہ ہم نے ماسٹر صاحب کو ہمیشہ غصے میں ہی دیکھا تھا۔ مجھے انھوں نے سرٹیفکیٹ عنایت کیا اور فرمایا، "مجھے یقین ہے کہ آپ بہت ترقی کرو گے”۔ مجھے ایک بار پھر حیرت نے آن گھیرا کہ ماسٹر نثار صاحب ایسا کیوں کہہ رہے ہیں اور مجھ میں کیا خاص بات ہے۔

تعلیم جاری رکھنے کے لیے ہمیں اب مڈل یا ہائی سکول میں داخلہ لینا تھا جس کے لیے ہمیں خانسپور، بیروٹ اور اوسیاہ ہائی سکول میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ خانسپور اور بیروٹ ہزارے میں جب کہ گورنمنٹ ہائی سکول اوسیاہ پنجاب میں آتا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ اوسیاہ میں دور سے آنے والے لڑکوں کے ساتھ مقامی لڑکے تحقیر آمیز سلوک کرتے ہیں اور ان کی تضحیک و تذلیل کرتے ہیں۔ ڈرتے ڈرتے سرٹیفکیٹ لے کر گورنمنٹ ہائی سکول اوسیاہ پہنچے۔ جیسے ہی سڑک سے سکول کی حدود میں داخل ہوئے تو دائیں جانب چھوٹے سے میدان میں پی ٹی ماسٹر صاحب لڑکوں کی قطاریں سیدھی کروا رہے تھے۔ سکول بہت بڑا تھا۔ ہر طرف ہاڑی (خوبانی ) کے درخت تھے۔ ملکوٹ سے کچھ سینئر لڑکے ہمیں ساتھ لے کر آئے تھے۔ وہ ہمیں لے کر سٹاف روم میں آ گئے۔ دو تین اساتذہ ایک میز کے گرد بیٹھے تھے۔ نہایت شفقت سے انھوں نے مجھے کرسی پر بٹھایا۔ میز پر جگ اور گلاس رکھے تھے۔ انھوں نے پانی گلاس میں انڈیل کر میرے سامنے رکھ دیا۔ طویل پیدل سفر کی وجہ ابھی تک میری سانسیں بحال نہیں ہوئی تھیں۔ پانی پی کر میرے حواس کچھ بحال ہوئے۔ ایک استاد صاحب نے کتابوں، یونیفارم اور سکول کے بارے میں سرسری سا بتایا۔ دوسرے استاد ایک رجسٹر میں کچھ لکھتے رہے۔ پھر انھوں نے والد صاحب کے بارے میں پوچھا کہ وہ ساتھ کیوں نہیں آئے۔ میں نے بتایا کہ وہ کراچی ہوتے ہیں نیز بڑے دونوں بھائی بھی کراچی ہوتے ہیں۔ تھوڑی دیر اساتذہ آپس میں بات چیت کرتے رہے اور پھر جیسے کسی نتیجے پر پہنچ کر انھوں نے پوچھا کہ اوسیاہ میں کوئی رشتہ دار ہے۔ میرا جواب نفی میں تھا۔ ایک استاد جن کا تعلق بیروٹ سے تھا (گل زمان صاحب) انھوں نے دوسرے اساتذہ سے کہا کہ ملک صاحب سے وہ بات کر لیں گے اس لیے داخلہ مکمل کر لیا جائے۔ مجھے انھوں نے شاباش دی اور خوش خبری سنائی کہ داخلہ ہو گیا ہے۔ لیکن کچھ دن چھٹیاں تھیں اور ہمیں بتایا گیا کہ فلاں  دن کتابیں، کاپیاں لے کر باقاعدہ وردی میں سکول آنا ہے۔ میں یہاں اس امر کا اعتراف کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ پانچ سال تک گورنمنٹ ہائی سکول اوسیاہ کے اساتذہ، طلبہ اور مقامی لوگوں کا رویہ اور حسن سلوک ایسا مثالی رہا کہ کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ میرا تعلق کسی دوسرے گاؤں سے ہے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ان پانچ سالوں میں میرا کسی ہم جماعت سے کوئی جھگڑا ہوا، نہ ہی کوئی رنجش۔ آج اگر میں یہ چند سطور لکھنے کے قابل ہوں تو اس کا سہرا بھی بنیادی طور پر گورنمنٹ ہائی سکول اوسیاہ کے ساتھ ساتھ اس ماحول کے سر ہے جو اوسیاہ میں عہد طالب علمی میں مجھے میسر رہا۔

داخلہ تو ہم نے لے لیا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ملکوٹ سے اوسیاہ تک اس وقت سڑک تعمیر نہیں ہوئی تھی، اس لیے روزانہ کئی کلومیٹر پیدل سفر ناگزیر تھا۔ دوسرا بڑا مسئلہ یہ تھا کہ پنجاب اور سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے درمیان حد فاصل کا کردار ادا کرنے والے نالہ "کنیر” پر اس وقت پل بھی تعمیر نہیں ہوا تھا۔ ایک پل ملکوٹ کی حدود کے اختتام پر بعد میں بنا جس کا ٹھیکہ پیر اظہر بکوٹی صاحب نے حاصل کیا۔ لیکن زیادہ لوگ اس سے استفادہ نہ کر سکے کیونکہ ایک تو آبادی اور عام رستے سے ہٹ کر غیر موزوں جگہ پر پل تعمیر ہوا اور دوسرے کام کا معیار بھی اچھا نہ تھا۔ بارش کے دنوں میں تو نالہ کنیر میں طغیانی معمول کی بات تھی لیکن بعض اوقات اوسیاہ اور ملکوٹ میں مطلع صاف ہونے کے باوجود مری اور قرب و جوار میں بارش کے باعث بھی کنیر میں طغیانی آ جاتی تھی۔ ڈھلوان کے باعث پانی کی رفتار بہت زیادہ تیز ہوتی اور اس کے ساتھ ساتھ پانی میں پتھر، لکڑیاں اور درخت بھی بہہ کر آتے۔ یہی وجہ تھی کہ نالہ پار کرتے ہوئے کئی لوگ زخمی ہو جاتے اور کتنے ہی لوگ پانی کی نذر بھی ہوئے جن میں سے کچھ کی تو لاشیں تک نہیں ملیں۔ جس دن مطلع ابر آلود ہوتا تو اوسیاہ پڑھنے والے اکثر طلبہ کی مائیں ہمارے گھر کے پاس آ کر بیٹھ جاتیں کیونکہ وہاں سے اوسیاہ سے ملکوٹ آنے والا رستہ اور نالہ کنیر واضح نظر آتے تھے۔ ہم جب تک واپس گھر نہ پہنچ جاتے مائیں پریشانی، تکلیف اور اذیت کی سولی پر لٹکی رہتیں۔

گورنمنٹ ہائی سکول اوسیاہ کے ہیڈ ماسٹر جناب عبدالحمید ملک تھے، جن کا تعلق پوٹھوہار کے علاقے سکھو سے تھا لیکن وہ مع اہل خانہ اوسیاہ میں ہی مقیم تھے۔ بہترین استاد، اعلی منتظم اور بااصول انسان تھے۔ اصولوں کے معاملے میں طبیعت میں بہت سختی تھی جس کی وجہ سے طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ بھی سکول میں بہت محتاط رہتے تھے۔ دیہات کے سکولوں میں سٹاف کی کمی ہمیشہ ہی مسئلہ رہا ہے۔ اوسیاہ میں بھی سائنس ٹیچر کی آسامی اکثر خالی رہتی اس لیے ملک صاحب کو انتظامی امور کے ساتھ ساتھ میٹرک کو سائنس بھی پڑھانی پڑتی تھی۔

اس عہد زریں میں عربی، فارسی، ڈرائنگ اور زراعت و باغبانی جیسے مضامین سکولوں میں پڑھائے جاتے تھے۔ عربی مولانا عزیز الرحمن صاحب پڑھاتے تھے، جنھیں اسی وجہ سے "عربی والے مولوی صاحب” کہتے تھے۔ بہت اللّٰہ والے تھے۔ بہت کم لوگ ان کے احوال اور کیفیات سے واقف تھے۔ کلاس میں سبق پڑھا کر ارشاد فرماتے کہ اب اسے سب دھرائیں اور جو سطر یا لفظ نہ سمجھ آئے وہ پوچھ لیں۔ خود آنکھیں بند کر لیتے۔ کلاس کو گمان گزرتا کہ شاید سو گئے ہیں۔ لیکن جیسے ہی کوئی لڑکا شرارت کرتا مولانا صاحب کرسی کے ساتھ رکھی چھڑی گھماتے اور چشم زدن میں مجرم کی گوشمالی ہو جاتی۔ چھٹی کے بعد وہ پیدل سفر کر کے گھر جاتے تھے۔ ایک بار اتفاق سے ہم دو تین لڑکے بھی اسی رستے سے پیدل جا رہے تھے۔ وہ آنکھیں بند کر کے پیدل چل رہے تھے اور جو جملے وہ بول رہے تھے وہ آج بھی میں سوچتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔۔۔

"میرے پیارے اللہ جی۔۔ کہاں آپ اور کہاں میں۔ لیکن میں کیا کروں؟ محبت میرے بس میں تو نہیں ہے نا! ہو گئی ہے۔ میں سوچتا ہوں۔۔۔ آپ کیسے ہوں گے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ میری سوچ سے کروڑوں درجے زیادہ حسین ہوں گے۔ میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ اللّٰہ جی ۔۔۔ پیارے اللہ جی۔۔۔ حسین اللّٰہ جی۔۔۔۔۔۔”۔

نہ جانے اور کیا کیا کہتے لیکن اچانک ایک گاڑی والے نے ہارن بجایا اور ان کے قریب رک کر ان سے درخواست کی کہ وہ گاڑی کی اگلی نشست پر اس کے ساتھ بیٹھ جائیں۔ انھوں نے اسے بہت دعائیں دیں اور پیدل ہی سفر جاری رکھا۔ لیکن اب انھوں نے تسبیح پر کوئی ذکر شروع کر دیا۔ اتنے میں ہماری مطلوبہ دکان بھی آ گئی اور ہم مولانا صاحب کے اسرار دیگر کے مشاہدے سے محروم رہ گئے۔

فارسی ہمیں گل زمان صاحب پڑھاتے تھے۔ ان کا تعلق بیروٹ سے تھا۔ نہایت نفیس طبیعت کے مالک تھے۔ انتہائی شفیق اور مہربان استاد تھے۔ میں نے کبھی ان کو غصے میں نہیں دیکھا۔ فارسی کے چلتے پھرتے انسائیکلوپیڈیا تھے۔ میں نصابی کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی ان سے گفت و شنید کیا کرتا تھا اور وہ دوستوں کی طرح رہنمائی فرماتے۔ کئی بار میں نے ذاتی معاملات میں بھی ان سے رہنمائی لی۔ وہ گوہر شناس تھے۔ آج میں حیران ہوتا ہوں کہ کئی لڑکوں کے بارے میں انھوں نے مجھے کہا تھا کہ یہ ذہین لڑکے ہیں، انھیں اعلی تعلیم حاصل کر کے کوئی مقام حاصل کرنا چاہیے لیکن مجھے ان کے رویے اور انداز فکر سے لگتا نہیں کہ یہ اپنی صلاحیتوں کا کما حقہ استعمال کریں گے۔ اور واقعی ایسا ہی ہوا۔

زراعت ہمیں اوسیاہ والے ماسٹر شاکر صاحب پڑھاتے تھے۔ علمی خانوادے سے تعلق تھا۔ بہت تفکر و تدبر کرتے تھے۔ کمال تخلیقی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ بہت بڑے دانش ور تھے۔ لیکن ایک خامی تھی کہ جب لڑکے ان کے لیکچر کے دوران توجہ نہ دے رہے ہوتے تو ان کے خاندان کے پیشے کے کسی اوزار کا نام لے کر اسے پکارتے۔۔۔۔ جیسے ۔۔ "او کلوتری” (کارپینٹر)، "او پھرکی” (درزی)، وغیرہ۔ میرے ساتھ تھوڑے عرصے میں ہی دوستی ہو گئی۔ ان کی کلاس اکثر خوبانی کے درختوں کے نیچے ہوتی۔ کلاس کے بعد تفریح کی گھنٹی بجتی۔ لڑکے اٹھ کر بازار میں کچھ کھانے پینے چلے جاتے۔ اکثر تفریح ختم بھی ہو جاتی اور ہم ابھی تک وہیں بیٹھے ہوتے۔ میرے ہم جماعت اکثر ہنسی مذاق کرتے کہ دو کھسکے ہوئے دماغ معلوم نہیں کیا عقدہ سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں جو الجھتا ہی چلا جاتا ہے۔ دراصل وہ برادری ازم کے کشتہ ہمارے سماج کو "پدرم سلطان بود ” کے سکون آور احساس تفاخر سے نکال کر حالات کی سنگینی اور بدلتے وقت کے تقاضوں کی طرف متوجہ کرنے کی حتی المقدور کوشش کرتے۔ کلاس میں بھی وہ اپنا مضمون پڑھانے سے زیادہ ہمیں عملی زندگی کے حقائق کے بارے میں رہنمائی فرماتے۔

"خاندان، قبیلہ اور برادری صرف کسی فرد کی شناخت کے لیے ہوتے ہیں۔ اگر اوسیاہ میں پانچ شاکر ہیں اور ایک اللّٰہ کو پیارا ہو جائے تو ہم اعلان کریں گے کہ ماسٹر شاکر فوت ہو گیا ہے تو سب کے علم میں آ جائے گا کہ کون سا شاکر چل بسا۔ کسی خاندان سے تعلق ہونا، کسی خاص علاقے میں پیدا ہونا، والدین کا امیر ہونا، ان سب پر اگر کوئی فخر اور تکبر کرتا ہے تو وہ نفسیاتی مریض ہے۔ اگر وہ ترقی یافتہ کسی ملک میں ہو تو اس کے علاج کے لیے باقاعدہ مراکز صحت بنائے گئے ہیں۔ میں اگر قراقلی کی ٹوپی میں دکان سے خریدی ہوئی دال ڈال کر گھر لے جاؤں تب بھی میں ماسٹر شاکر ہی رہوں گا۔ میری عزت، شان، مرتبے میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑے گا۔ اسی طرح گاڑی ذریعہ آمد و رفت ہے، اسے وجہ تکریم سمجھنا ظلم ہے۔ ہم جتنی توجہ حلیے پر دیتے ہیں اتنی کردار پر دیں تو اپنے عہد کی صاحب کمال شخصیت بن جائیں”۔
لیکن افسوس۔۔۔ صد افسوس۔۔۔۔ شاید ہی کسی نے ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی زحمت گوارا کی ہو۔۔۔۔

اپنے عہد کی وہ سب رسمیں ہم نے بھی اپنا لی ہیں
جن میں باطن والوں کا بھی ظاہر دیکھا جاتا ہے
(اقبال قمر)

(جاری ہے)

راشد عباسی ۔۔ راولپنڈی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481