اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

قُرآنی اسپرانتو اور یومِ اسپرانتو

landscape 3 2 1753472401152 1

قُرآنی اسپرانتو اور یومِ اسپرانتو

اقوامِ مُتّحِدہ کے ذیلی و تعلِیمی اِدارے یُونیسکو کی سرپرستی میں 26 جولائی کو "یومِ اسپرانتو” عالمی زُبان کے طور پر پُوری دُنیا میں منایا جاتا ہے۔ اِس روز اسپرانتو کے بہی خواہ تقرِیبات مُنعقد کر کے دُنیا بھر میں ایک آسان، غیر جانِبدار اور کم ذخِیرۂ الفاظ والی زُبان کی اہمیّت و اِفادیت کو اہلِ عِلم کے درمیان اُجاگر کرتے ہیں۔ پاکِستان میں بھی یہ سِلسِلہ جاری ہے۔ جہاں تقرِیبات کا اہتمام نہِیں ہوتا وہاں سوشل و پرِنٹ مِیڈیا کے ذریعے عوام تک مُشترک رابطے کی زُبان کا پیغام پہنچایا جاتا ہے۔
26 جولائی1889ء کو پولینڈ کے ماہرِ چشم و لِسانیات ڈاکٹر ضامن ہوف نے اسپرانتو کی پہلی کِتاب لِکھ کر اولادِ آدم کو مُشترک زُبان کا تحفہ دِیا تھا، لیکِن اسپرانتو کے وجُود میں آنے سے 13 صدیاں قبل اللّٰہ تعالیٰ نے مُسلمانوں کے درمیان رابطے کی مُشترک زُبان عربی کو قرار دِیا تھا۔ کیا دُنیا میں عربی کو مُسلمانوں کے مابین رابطے کی زُبان بنانے کی ضرُورت نہِیں ہے؟ آج کی سطُور اِسی خواب کو عملی صُورت دینے کے پیشِ نظر لِکھی جا رہی ہیں۔

دُنیا میں کم و بیش ساڑھے تِین ہزار زُبانیں اور بولیاں رائج ہیں۔ ہر مُلک اور ہر علاقے میں ایک نہِیں دو نہِیں درجنوں زُبانیں اور بولیاں ہیں۔ ایک ہی مُلک میں بسنے والے لوگ اپنے ہی وطن میں بسا اوقات زبان کے اِختلاف کے باعث اجنبی بن کر رہ جا تے ہیں۔ لاہور کا تعلِیم یافتہ نوجوان بلوچستان کے دیہاتوں، قصبوں اور شہروں میں گُونگا بن جاتا ہے اور اِشاروں سے اپنی بات دُوسروں کو سمجھانے کی کوشِش کرتا ہے اور یہی حال ساری دُنیا کا ہے۔ سائنس کی ترقّی، کاغذ اور چھاپہ خانوں کی ایجاد، ٹیلی فُون، ریڈیو، ٹیلی ویژن، موبائل اور انٹرنیٹ کی سہُولتوں اور آمد و رفت کے ذرائع میں بے پناہ تیزی اور سُرعت کے باوجُود اِنسان محض زبانوں کے اِختلاف کے باعث گُونگا اور بہرہ ہے۔ اِس صُورت حال کی اِصلاح کے لیے سائنس دانوں نے ساری دُنیا کے لیے ایک مُشترک ثانوی زُبان کی تجویز پیش کی ہے۔ ایسی زبان جس کا سیکھنا ہر قوم اور ہر علاقے کے لوگوں کے لیے آسان اور سہل ہو۔ ایسی زبان جو ساری دُنیا کی اقوام کے لیے غیر جانِبدار ہو اور ایسی زبان جو سالوں اور مہینوں میں نہِیں ہفتوں اور دِنوں میں سیکھی جا سکے۔
1889ء میں پولینڈ کے باشِندے ڈاکٹر ضامن ہوف نے ایک زبان ترتِیب دی اور اسپرانتو کی پہلی کِتاب منظرِ عام پر آئی جب کہ اِس زبان پر کام کا آغاز پچِیس ماہرِینِ لِسانیات کی نِگرانی میں 1887ء میں ہو چُکا تھا۔ اِن ماہرِین میں سے ہر ایک الگ الگ چار زبانوں میں مہارت رکھتا تھا۔
اسپرانتو میں مذکُورہ بالا خُوبیاں بدرجہ اتم موجُود ہیں اور ایک سو اُنچاس سال کے تجربے نے ثابت کر دِیا کہ یہ زبان جو عام طو ر پر اسپرانتو ESPERANTO کے نام سے مشہُور ہے، دُنیا کی آسان ترِین اور کامیاب زبان ہے۔
دُنیا نے توجہ نہ دی اور ہم مُسلمانوں نے غفلت اور نالائقی کے باعث کام نہ کِیا ورنہ ضامن ہوف کی اسپرانتو کی ایجاد اور ترتِیب سے تیرہ سو سال پہلے اِسلام نے پُوری اِنسانیت اور بِالخصُوص مُسلمانوں کے لیے عربی زبان کو مُشترک زبان کی حیثیت سے پیش کر دِیا تھا۔ گویا جو بات اٹھارویں صدی عیسوی میں سائنس کی ایجادات اور بین الاقوامی تعلقات اور روابط میں ترقّی اور فروغ کے باعث ضامن ہوف اور اُس جیسے دُوسرے لوگوں کے ذہن میں آئی وہ صدیوں پہلے ہادئی عالم ﷺ نے جان لی تھی اور نہ صِرف جان لی تھی بلکہ اس کے تقاضوں کے پیشِ نظر ایک زبان بھی تجوِیز فرما دی تھی۔
ساری دُنیا کی مُشترک اور رابطے کی زبان اسپرانتو ہے اور ماہرِینِ لِسانیات اِس زبان کے آسان اور غیر جانِبدار ہونے پر مُتّفِق ہیں اور ساری دُنیا اِس کی اشاعت اور تروِیج کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ اِسلامی مُلکوں میں بھی یہ زبان رواج پا رہی ہے اور خیال کِیا جا رہا ہے کہ مُستقبِل قرِیب میں یُو این او جیسے بین الاقوامی اِداروں کے تعاوُن اور کوشِشوں سے اسپرانتو ساری دُنیا میں رابطے کی زبان ہو جائے گی ۔ وہی عربی جو ساری دُنیا کی نہِیں تو کم از کم عالمِ اِسلام کی رابطے کی زبان رہ چُکی ہے اور اب بھی دِینِ اِسلام کا تقاضا اور ہم مُسلمانوں سے مطالبہ ہے کہ عربی کو ماضی قرِیب کی طرح آج بھی اپنے مابین رابطے کی حیثیت سے رواج دیں۔ لیکِن ہم نے جِس طرح اِسلام کے بہت سے دُوسرے تقاضوں سے چشم پوشی اِختیار کر لی ہے اُسی طرح عالمِ اِسلام کی مُشترک رابطے کی زبان عربی سے بھی منہ پھیر لِیا ہے۔
بہت سے اِسلامی مُلکوں نے اپنے ہاں رائج زبانوں کا رِسم الخط جو کل تک عربی میں تھا بدل دِیا ہے۔ تُرکی، سواحلی، اِنڈونیشیائی وغیرہ زبانیں لاطینی رِسم الخط میں لِکھی جاتی ہیں۔ بنگالی، ناگری رِسم الخط میں اور اُزبِک وغیرہ زُبانیں سلاو رِسم الخط اپنا چُکی ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ایران میں ایک اِدارہ قائم کِیا گیا تھا جِس کا واحد کام یہ تھا کہ فارسی زبان سے عربی الفاظ کو خارج کر دِیا جائے۔ ہمارے ہاں ابُوالکلام آزاد کی اُردُو کو ناپسند کِیا جاتا ہے۔ اِس لیے کہ اُس میں عربی کلمات ہیں اور مُحمّد حُسین آزاد کے اندازِ تحرِیر کو سراہا جا رہا ہے، اِس لیے کہ اُنہوں ں نے اُردُو زُبان سے عربی کے اثرات کم کرنے کی دانِستہ کوشِش کی ہے۔ غرض ہم نے عربی سے بے وفائی بلکہ دُشمنی کی ہے۔
جب کوئی قوم اپنی خصُوصیات سے چشم پوشی کر لیتی ہے تو اُسے غیر اقوام کی خصُوصیات کو اپنانا پڑتا ہے۔ ہم نے جِس تیزی سے عربی سے رُو گردانی کی اُسی تیزی سے غیر مُلکی زُبانوں کو اپنایا ہے۔ سکُولوں اور کالجوں میں عربی کے آثار مِٹائے جا رہے ہیں اور انگریزی بڑھ رہی ہے۔ اُردُو لُغت کی کوئی کِتاب اُٹھا کر دیکھیں، عربی کلمات اور تراکِیب کی جگہ انگریزی کلمات اور تراکِیب کی بھر مار نظر آئے گی۔
حاصلِ گُفتگُو یہ ہے کہ زبانوں کی کثرت اور اِختلافات نے انسانو ں کے مابین تعلقات، روابط اور اِفہام و تفہیم کی راہیں مسدُود کر دی ہیں۔ اِسی مُشکِل کو دُور کرنے کے لیے عہدِ حاضِر میں اسپرانتو زبان ترتِیب دی گئی ہے، جو دُنیا کی آسان ترِین زبان ہے۔ اسلام نے اِس پریشانی کو عربی زبان کے ذریعے پہلے ہی دُور کر دِیا تھا لیکن مُسلمانوں نے عربی کی نشوونُما اور فروغ کے لیے کام کرنے کی بجائے چشَم پوشی اِختیار کی۔ اگر ماہرِینِ لِسانیات اِنتہائی مُشکِل اور غیر منطقی زبانوں سے اصل مادے نِکال کر ایک آسان اور مُختصر زبان ترتِیب دے سکتے ہیں تو مُسلمان قُرآنِ کرِیم کی اساس پر جو پہلے سے ساری دُنیا میں رائج ہیں، ایک ایسی آسان عربی کِیُوں نہِیں ترتِیب دے سکتے جو مُسلمان مُلکوں کے لیے یکساں، آسان اور سہل ہو؟
اہلِ عِلم کا خیال ہے کہ کِسی زبان پر عُبُور حاصِل کرنے اور اُس زبان کے ذریعے ہر قِسم کے خیالا ت کے اِظہار کے لیے ضرُوری ہے کہ اُس زبان کے کم و بیش چار ہزار الفاظ پر عُبُور ہو۔ قُرآنِ کرِیم میں اٹھارہ سوکے قرِیب مادے ہیں جِن سے قاعدہ کی روشنی میں دس ہزار سے زیادہ کلمات بنائے جا سکتے ہیں۔ جبکہ اسپرانتو کے داعی اوّل ڈاکٹر ضامن ہوف نے شُرُوع میں چھبیس سو کلمات کا اِنتخاب کِیا تھا۔ آج آسان اسپرانتو کے لیے صِرف آٹھ سو الفاظ ہیں۔ انگریزوں نے بُنیادی انگریزی کے لیے ساڑھے آٹھ سو کلمات چُنے تھے اور اِس مُختصر ذخیرۂ الفاظ سے بیس ہزار الفاظ اور چالیس ہزار معانی و مطالب کی ادائیگی کا دعویٰ کِیا جاتا ہے اور ہمارے پاس قُرآنِ کرِیم کے حوالے سے کم و بیش اٹھارہ سو کلما ت پہلے سے موجُود ہیں ۔
بس ضرُورت اِس امر کی ہے کہ مُسلمان علماء اور بِالخصُوص لِسانیات سے دِلچسپی رکھنے والے عربی دان حضرات پر مُشتمِل ایک مجلس قائم کی جائے جو قُرآنِ کرِیم کے کلمات کو ماخذ مان کر ایک ایسی عربی زبان ترتِیب دے جو آسان اور مُختصر ہو اور اُسے عربی مدارس و مساجد کے ذریعے مُسلمان مُلکوں میں عام کرنے کی تحرِیک چلائی جائے۔ اسپرانتو کے لیے تحرِیک چل سکتی ہے اور عالمی اسپرانتو کانفرنس میں قریباً سو مُلکوں سے آئے ہُوئے مندوبِین بغیر کِسی "چیٹ جی بی ٹی” اور مُترجّم کے ایک زُبان میں بات چِیت اور تقرِیریں کر سکتے ہیں تو آسان عربی کے لیے بھی تحرِیک چلائی جا سکتی ہے اور اِسلامی سربراہی کانفرنس میں اسپرانتو طرز پر عربی رابطے کی مُشترک زبان کی حیثیت سے رواج پا سکتی ہے ۔
ہماری تجوِیز اسپرانتو کی عالمی تحرِیک کے خِلاف نہِیں، ہم اسپرا نتو کی عالمگِیر اِفادیت تسلِیم کرتے اور اِسے سِیکھنے سِکھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ مُسلمان مُلکوں میں عربی کا مُشترک رابطے کی زُبان ہونا اسپرانتو کے مقاصد کے خِلاف نہِیں۔ اسپرانتو والے ساری دُنیا کی بات کرتے ہیں اور ہماری تجوِیز صِرف مسلمان مُلکوں کے لیے ہے۔ ہاں ہماری دعوتِ اسلام عالمگِیر ہے اور ہر مُسلمان پر فرض ہے کہ وہ قُرآن و حدیث سے واقفِیت حاصِل کرے اور اِس کے لیے عربی جاننا ضرُوری ہے اور جب مُسلمان ہونے کے ناطے عربی ہمارے لیے ضرُوری ہے تو پھِر اِس زبان کو مُسلمانوں کے مابین رابطے کا ذریعہ کِیُوں نہ بنا لیں؟
میری اِن معرُوضات کا حاصِل یُوں ہے :-
1۔ دُنیا میں مُختلِف زبانیں رائج ہیں، اِن زبانوں کے اِختلاف کے باعث بین الاقوامی روابط اور تعلقات میں مُشکلات پیدا ہو رہی ہیں ۔
2۔ اسپرانتو بین الاقوامی رابطے کی زبان ہے جو نہایت سادہ ، جامع اور آسان ہے۔ یہ زبان آج سے ایک سو اُنچاس سال پہلے پولینڈ کے ڈاکٹر ضامن ہوف نے ترتِیب دی تھی اور آج ساری دُنیا میں تیزی سے پھیل رہی ہے ۔(رابطہ:- اسپرانتو مرکز ، نزد گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکُول ، کوہ مری شہر ۔03151533657)
3۔ اسپرانتو ساری دُنیا کے لوگوں کے لیے واحد مُشترک اور غیر جانِبدار زبان ہے۔ مُسلمانوں کے لیے مشتر ک زبان عربی ہے۔ ضرُورت اِس امر کی ہے کہ جِس طرح قُرآنِ کرِیم کے اسپرانتو ترجمے کی سعادت پاکِستان کے حضرت علامہ مُضطر عباسی مرحُوم کو نصِیب ہُوئی تھی ِاسی طرح قُرآن کرِیم کے بُنیادی کلمات کو ماخذ بنا کر ایک آسان عربی ترتِیب دی جائے اور جب یہ زُبان ترتِیب پائے تو اسپرانتو کے انداز پر تحرِیک چلا کر اِس آسان عربی کو مُسلمانوں میں عام اور مُشترک رابطے کی زُبان کے طور پر مقبُول بنانے کی کوشِش کی جائے۔
4۔ اس کام یعنی آسان عربی کی ترتِیب کا کام عربی دان اور لِسانیات سے دِلچسپی رکھنے والے علماء کی ایک مجلس قائم کر کے شُرُوع کِیا جا سکتا ہے۔

 

امجد بٹ ۔۔ کوہ مری


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481