اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی

landscape 3 2 1751130998652 1

محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی۔ میں نے دکھ کو طاقت کیسے بنایا؟

(تیسری قسط)

 

والد صاحب کا نام رحیم داد عباسی تھا لیکن انھیں سب لالی کہتے تھے۔ پوری زندگی محنت مشقت میں گزاری۔ بجری کوٹی۔ زمین داری کی۔ باورچی کے طور پر طویل عرصے تک ملازمت کی۔ دکان داری کی۔ دبئی میں تعمیراتی کام کیا۔ آخری عمر تک صادق آباد چوک راولپنڈی میں کریانہ سٹور چلاتے رہے، جہاں اکثر ان کے ہم عمر بزرگ ان کے پاس بیٹھتے اور ان کے ہاتھوں کا بنا قہوہ پیتے۔

اولاد کو انھوں نے حلال کھلایا اور دیانت داری، شرافت، ایمان داری اور خودداری کی تعلیم دی۔ کڑے سے کڑے وقت میں بھی کبھی کسی کا احسان لینا گوارا کیا نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلایا۔ سوکھی روٹی پر پیاز رکھ کر بھوک مٹا لی یا فاقہ کر لیا لیکن کسی پر اپنی حالت ظاہر نہ ہونے دی۔ وہ تین بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ ہمارے چچا حکم داد اپنے وقت کے پڑھے لکھے اور قابل آدمی تھے۔ کراچی ہوتے تھے، جہاں چولھا پھٹنے سے جل گئے تھے اور کچھ عرصے بعد اللہ کو پیارے ہوئے۔ ہمارے دوسرے چچا کا نام خاقان تھا۔ اللہ پاک تینوں بھائیوں کو غریق رحمت فرمائے۔

ہمارے بڑے بھائی زاہد عباسی ہیں۔ خوبیوں اور اوصاف سے مزین ایسی شخصیات ہمارے ہاں بہت کم ملتی ہیں۔ جوانی میں فوج میں بھرتی ہو گئے۔ ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ فٹ بال کے اچھے کھلاڑی تھے اس لیے وہاں بھی کچھ آسانی کا سامان ہو گیا۔ لانس نائیک ہوئے لیکن طبیعت اس طرف آئی نہیں۔ انھوں نے استعفی دے دیا جس کے قبول ہونے میں خاصی مشکل پیش آئی لیکن کسی نہ کسی طرح آخر فوج والوں نے انھیں چھوڑ دیا۔ اگر مواقع میسر ہوتے اور اعلی تعلیم حاصل کرتے تو یقینا علاقے اور ملک کا نام روشن کرتے۔ ان جیسا ادبی ذوق اور شعر فہمی شاید ہمارے اکثر شعراء میں بھی مفقود ہے۔ بچپن چونکہ کراچی میں گزرا اس لیے اہل زبان کے لہجے میں اردو بولتے۔ ان کے مقابلے میں انگریزی لکھنا، پڑھنا اور بولنا آج کے ایم اے پاس نوجوانوں کے بس کی بات نہیں۔ دوست دار آدمی ہیں۔ سعودی عرب میں رہے یا پاکستان میں ان کا دسترخوان ہمیشہ وسیع رہا۔ بہت عرصے تک تصوف اور روحانیت سے واسطہ رہا۔ باقاعدہ ایک بزرگ کے مرید بھی رہے۔ اس ربط نے ان کے انداز فکر پر گہرا تاثر چھوڑا۔ جاہ پرستی، غرور و تکبر اور حرص و ہوس جیسی بیماریوں سے دور رہنا روحانیت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے ہی ممکن ہوا۔ مال و اسباب کو جمع کرنے اور سینت سینت کر رکھنے کے بجائے انھوں نے اسے ہمیشہ ذات اور اہل خانہ پر خرچ کیا۔ یہی نہیں اپنے احباب، عزیز و اقارب اور ضرورت مندوں کو بھی کبھی مایوس نہیں کیا۔ اللہ پاک ان کو عمر خضر عطا فرمائے۔

ان سے چھوٹے بھائی ارشد عباسی ہیں۔ جوانی میں جماعت اسلامی کے گرویدہ ہوئے لیکن بعد میں تبلیغی جماعت کے ساتھ وابستہ ہوگئے اور اب اسے اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ نہایت شریف النفس اور بااخلاق انسان ہیں۔ آج کے مادیت پرست دور میں عبادات کا اہتمام کرنے والے تو بہت مل جاتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاملات میں بھی دینی احکام پر عمل پیرا ہونے والے ان جیسے لوگ اب عنقا ہوتے جا رہے ہیں۔ اللہ پاک ان کی سعی کو مشکور فرمائے۔ دونوں بھائیوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ سعودی عرب میں گزارا لیکن اب مستقل طور پر پاکستان میں قیام کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 

ہمارے بڑوں نے بہت پر مشقت زندگی گزاری۔ بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی میں ایک پہاڑی علاقے میں زندگی گزارنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ لیکن اس وقت کیونکہ لوگ اپنی دھرتی سے جڑے تھے اس لیے انھیں اپنا علاقہ، اپنی ثقافت، اپنی ماں بولی اور اپنی روایتیں، قدریں بہت عزیز تھیں۔ وہ رشتے ناطے نبھانے کا فن جانتے تھے۔ وہ "لیتری” کے ذریعے باہم مل کر بڑے سے بڑا کام کم ترین وقت میں بغیر کسی اجرت کے کر لیتے تھے۔ اس طرح سب کی زندگی آسان ہو جاتی تھی۔ کچے مکان کی دیواریں تیار ہونے پر گاؤں کے مردوں (خصوصا اپنی برادری کے) کو "پہچھی” (کچے مکان کی چھت کی تیاری) کے لیے دو چار دن پہلے مطلع کیا جاتا اور مجوزہ دن پر علی الصبح سب آ کر کام شروع کر دیتے۔ دن کے کھانے میں ابلے چاول، شکر اور دیسی گھی شامل ہوتے۔ شام تک مکان تیار ہو جاتا۔

لیکن شدت کے برادری ازم نے لوگوں کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے بھی گزارا اور اس ضمن میں نفرت اور تعصب کو بھی عام کیا۔ آج بھی اکثر علاقے اسی اندھی برادری ازم کے زیر اثر ہیں، جس کا نقصان علاقے اور عام آدمی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ خصوصا سیاست میں "برادری” اور "پگ” کو لے کر علاقے کو پسماندگی کے شکنجے سے نکلنے کے تمام راستے مسدود کیے گئے۔ نیز ہاتھ سے کام کرنے والے لوگوں (جن کو اسلام نے اللہ کا دوست کہا ہے) ہمارے ہاں بھی کمتر سمجھا جاتا رہا۔ ان سے رشتے ناطے نہیں کیے گئے۔ انھیں برابر کے انسانی حقوق نہیں دیے گئے۔ بلکہ سیاسی شخصیات تو انھیں زمین پر بیٹھنے پر مجبور کرتی رہیں۔ یہ انسانیت کی بدترین توہین و تذلیل تھی۔

ایک اور منفی پہلو جس پر کوئی بات نہیں کرتا وہ خواتین کی تعلیم اور دیگر حقوق کا مسئلہ ہے۔ جب سے لوگوں نے شہروں کی طرف نقل مکانی کی ہے تعلیم نسواں پر توجہ دینا مجبوری ٹھہرا ورنہ بچیوں کو پرائمری تک پڑھا دینا کافی سمجھا جاتا تھا۔ وہ بھی ان لوگوں تک محدود تھا جو گرلز سکول کے نزدیک رہائش پذیر تھے ورنہ دور دراز علاقوں کی بچیاں تعلیم سے یکسر محروم رہتی تھیں۔ وراثت میں بیٹیوں کو اسلام نے حصہ دار بنایا ہے اور اس کے واضح احکام موجود ہیں لیکن ہمارے ہاں بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دار بنانے کی گزشتہ وقتوں کی کیا بات کی جائے، آج بھی شعور عام نہیں ہے۔

کیونکہ زمین سے لوگ سال بھر کا اناج حاصل کرتے تھے اس لیے اس کی بہت اہمیت تھی۔ لوگ اپنی حدوں کی واضح نشانیاں رکھتے تھے۔ لیکن اگر کوئی طے شدہ حد سے متجاوز ہو تو اکثر جرگے بٹھائے جاتے تھے۔ لیکن اس وجہ سے لوگوں میں لڑائیاں بھی ہو جاتی تھیں۔ اگر کیس عدالت میں چلا جائے تو پانچ سو روپے مالیت کی زمین پر پچاس ہزار روپے اور تین نسلیں لگ جاتی تھیں۔ یاد رہے اس وقت کے پچاس ہزار روپے کا مطلب آج کے پانچ کروڑ روپے ہیں۔ آج وہی گاؤں علاقہ مکینوں کی بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی کی وجہ سے اجڑ کر رہ گئے ہیں اور بد قسمتی سے زمینیں بنجر پڑی ہوئی ہیں۔

گراں جے اس اجاڑی تے نہ اشنے
حیاتی اس طرحے آزار ویہہ آ؟

 

راشد عباسی ۔۔۔ راولپنڈی 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481