اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

قسط نمبر 2 _ محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی۔

Picsart 23 05 25 17 17 29 781 2

محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی۔ میں نے دکھ کو طاقت کیسے بنایا؟(دوسری قسط)

ملکوٹ میں اس وقت کوئی مرکزی بازار نہیں تھا۔ "گل تاج صاحب کی ہٹی”، "صوفی رخیم داد صاحب کی ہٹی”، ” رمضان صاحب کی ہٹی” ہی بہت عرصہ تک ملکوٹ کی اہم دکانیں رہیں۔ ملکوٹ میں دارا کے مقام پر ڈاک خانہ بھی موجود تھا، جس کا انتظام و انصرام ملک نیاز احمد (برادر اکبر ملک منیر، میڈیکل سٹور والے) کے پاس تھا۔ عصر کے وقت ڈاک تقسیم کرنے کا وقت ہوتا تھا۔ دور دور سے بچے، مرد اور عورتیں اس امید پر عصر کے وقت ڈاک خانے کے پاس جمع ہو جاتے کہ شاید آج ان کے پیاروں کی چٹھی آئی ہو۔ نیاز احمد صاحب برآمدے میں کھڑے ہو کر بہ آواز بلند نام پڑھتے اور اگر وصول کنندہ موجود ہوتا تو چٹھی ہوا میں اچھال دیتے۔ وصول کنندہ کسی نہ کسی طرح بھاگ دوڑ کے بعد چٹھی وصول کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔ اس وقت ایک بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ چٹھی کس سی پڑھوائی اور لکھوائی جائے؟  کیونکہ گاؤں میں خواندہ لوگ بہت کم تھے۔ نیاز احمد صاحب کی وفات کے بعد ڈاک خانے کا انتظام شاید صوفی گل تاج صاحب کے پاس چلا گیا تھا لیکن اب کچھ برسوں سے ملکوٹ ڈاک خانے جیسی اہم سہولت سے محروم ہے۔

جامع مسجد ملکوٹ، جو کہ اب خاصی وسیع اور پرشکوہ ہو گئی ہے، اس وقت چھوٹی اور سادہ تھی۔ مسجد کے نیچے ہی مولانا نذیر صاحب کی رہائش تھی۔ جب کہ پہلے مسافروں کی رہائش گاہ کے طور پر مسجد سے متصل ایک حجرہ بھی ہوا کرتا تھا۔ کسی مسافر کی آمد کی صورت میں نماز مغرب کے بعد مولانا صاحب نمازیوں کو آگاہ فرما دیا کرتے تھے اور مسافر کے رات کے کھانے اور ناشتے کا بندوبست ہو جاتا تھا۔

اس وقت پورے ملکوٹ میں کل پانچ مساجد تھیں۔ تین اپر ملکوٹ میں اور دو لوئر ملکوٹ میں۔ فرقوں اور مسالک کے جھگڑوں سے پاک ماحول تھا اس لیے اپنے کم ترین دینی علم پر عمل کو سادہ لوح لوگ یقینی بناتے تھے۔ جمعہ کے دن صبح سے ہی نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے ایسے تیاری شروع ہو جاتی جیسی آج کل نماز عید کے لیے بھی نہیں کی جاتی۔ آرواڑ اور لونگال سے بھی کئی لوگ ملکوٹ کی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے طویل سفر کر کے تشریف لاتے تھے۔

مولانا نذیر صاحب کی ملکوٹ آمد اور جامع مسجد کا انتظام سنبھالنے سے پیشتر ملکوٹ میں لوگ بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ ہر جمعرات کو عصر اور مغرب کے درمیان مختلف پکوان سامنے رکھ کر مرحومین کی مغفرت کے لیے دعا کرنا سارے لوگوں کا معمول تھا۔ رسومات مرگ میں بھی جمعرات کا ختم اور چالیسواں ناگزیر سمجھا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ چالیس دن تک مرگ والے گھر پر پڑوسی اور رشتہ دار روزانہ شام کو آتے اور رات گئے تک بیٹھتے۔ ایسی محافل میں لوگ نور نامہ، قصہ یوسف زلیخا اور سیف الملوک شوق سے پڑھتے اور سنتے تھے۔ پھر سالانہ ختم کا بھی رواج عام تھا۔ ہزار دو ہزار مکئی کے دانے سفید چادروں پر رکھ دیے جاتے۔ ختم پڑھنے والے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے جاتے اور ایک ایک دانہ اپنے سامنے گراتے جاتے۔ جب سارے دانے ختم ہو جاتے تو انھیں ایک جگہ جمع کر کے پھر سے پڑھائی شروع ہو جاتی۔ عموما ظہر کی نماز کے بعد دعا کی جاتی اور پھر دیگیں کھل جاتیں۔

مولانا نذیر صاحب نے لوگوں کو تعلیم دی کہ مرگ کی ان رسومات کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ کیونکہ خود دیوبندی تھے اس لیے ان کی پیہم کوششوں سے پورا علاقہ بریلوی سے "دیوبندی” ہو گیا۔ جب یہاں کے لوگ بریلوی تھے تو وہ اپنے مسلک کے حوالے سے شدت پسند نہیں تھے لیکن دیوبندی مسلک اختیار کرنے کے بعد یہاں کے اکثر لوگوں نے مسلک کے حوالے سے انتہائی شدت پسند رویہ اختیار کر لیا۔ نور نامہ اور قصہ یوسف زلیخا کے بارے میں تو مجھے زیادہ علم نہیں لیکن میاں محمد بخش کی "سفر العشق” یعنی "سیف الملوک” جو کئی گھروں میں غلاف میں عقیدت کے ساتھ رکھی جاتی تھی اسے بریلویت کے ساتھ منسلک کر کے علاقے سے ہی نکال دیا گیا۔ حال آنکہ ایسی شعری تصنیفات سے جہاں لوگوں کی تربیت نفس ہوتی تھی وہیں ان میں شعری ذوق بھی پیدا ہوتا تھا۔

اول حمد ثنا الہی، جو مالک ہر ہر دا
اس دا نام چتارن والا ہر میدان نہ ہردا
۔۔۔
واہ کریم امت دا والی، مہر شفاعت کردا
جبرائیل جیئے جس چاکر، نبیاں دا سرکردہ
جے لکھ واریں عطر گلابوں، دھوئیے نت زباناں
نام انھاں دے لائق ناہیں کی قلمے دا کاناں

دکانوں کی بات ہو رہی تھی تو میں اس سوچ میں غرق ہو گیا کہ سماج میں موجود ہر شخص کے رویے کیسے سماج کی تعمیر یا بگاڑ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک دکان دار کا روزمرہ معاملات میں لوگوں سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ دکان دار ایمان دار ہو، لوگوں کو ملاوٹ سے پاک اعلی معیار کی مصنوعات فراہم کرے، لالچی اور حریص نہ ہو یہ بھی ضروری خوبیاں ہیں لیکن کچھ اور خوبیاں بھی دکان دار کے لیے ناگزیر ہیں کیونکہ اس کا پالا بچوں سے بھی پڑتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا کردار ایک معلم کا بن جاتا ہے۔

ویسے تو کسی کو بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے لیکن دکاندار کو ہرگز نہیں۔ اگر اس کے پاس کوئی چیز موجود ہو اور کسی بچے کو ادھار مانگنے پر وہ کہے گا کہ یہ چیز موجود نہیں ہے تو بچے کی کیا تربیت ہو گی؟۔

دوسری خوبی جو دکان دار میں ناگزیر ہے وہ خوش اخلاقی اور خوش کلامی ہے۔ اسے سب کے ساتھ نرمی کا رویہ رکھنا چاہیے۔

جب کاروبار پھیل جائے اور مال و دولت توقعات سے بڑھ کر ہاتھ آ جائے تو اکثر دکان دار اپنی اوقات بھول کر غرور، تکبر اور نخوت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ رویہ سماجی اخلاقیات پر برے اثرات مرتب کرتا ہے۔

دکان دار کا امیر کے سامنے زمین بوس ہو جانا اور سب کے سامنے غریب کے ساتھ تکبر سے بات کرنا اور اس کی توہین و تذلیل کرنا جہاں اس کی شخصیت کے کھوکھلے پن کو ظاہر کرتا ہے وہیں سماج میں منافرت اور تعصب کے فروغ کا ذریعہ بنتا ہے۔

میں نے میٹرک تک سائنس پڑھی۔ پھر معاشیات پڑھی۔ تاریخ انسانی کا مطالعہ کیا۔ ادب کا میں اب بھی ایک ادنی سا طالب علم ہوں۔ بڑے بڑے دانشوروں اور اہل علم کے قدموں میں بیٹھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ میرا ان سے سوال تھا کہ ایک آٹھ دس سال کے بچے کو دکان دار کئی بوریاں آٹا موجود ہونے کے باوجود ادھار آٹا نہ دیتے ہوئے دیگر گاہکوں کی موجودگی میں جو خالی تھیلی واپس پھینکتا ہے اس کا زخم گہرا ہوتا ہے یا جو غرور، تکبر اور نخوت بھرا اس کا رویہ اور ہتک آمیز سلوک ہوتا ہے اس کا؟

آپ سے بھی قاری کے طور پر ایک سوال ہے۔۔۔۔۔ کیا آپ ان قدموں کے بوجھ کو لفظوں میں بیان کر سکتے ہیں جو ایک بچہ دکان سے خالی تھیلی اٹھائے ہوئے گھر واپس آتے ہوئے اٹھاتا ہے؟؟؟؟

(جاری ہے)

راشد عباسی ۔۔۔۔ ملکوٹ، ہزارہ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481