اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

حقیقی موگلی Mowgli ۔۔۔ دینا سنیچر

FaceApp 1748802636962 1

حقیقی موگلی ۔۔۔ دینا سنیچر

ہمارے بچے دی جنگل بک سے واقف ہیں۔۔ لیکن وہ کم ہی جانتے ہیں کہ اصل میں یہ کتاب 1894ء میں رڈیارڈ کپلنگ Rudyard Kipling نے لکھی تھی۔ جو 1865ء کے خاتمے سے صرف ایک دن پہلے بمبئی میں پیدا ہوا۔ اس کتاب میں موگلی (Mowgli) کا جو کردار ہے وہ دراصل دینہ سنیچر (Dina Sanichar) کے حقیقی کردار سے ماخوذ ہے۔

ڈزنی نے بچوں کے لیے جنگل بک کو فلما کر اسے اور زیادہ ہر دل عزیز بنا دیا۔

جب 1867ء میں بلند شہر، اتر پردیش کے جنگل میں کچھ شکاریوں کی مڈبھیڑ بھیڑیوں سے ہوئی تو چھے سالہ دینا سنیچر بھی بھیڑیوں کی طرح چار ٹانگوں پر چل رہا تھا اور انہی کی طرح غرا رہا تھا۔ یعنی وہ ایسا بچہ بن گیا تھا جس میں درندوں والی عادات اور رویے پختہ ہو چکے تھے۔ اسے انگریزی میں
feral child کہا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دینا سنیچر کی پرورش عہد شیرخواری سے ہی بھیڑیوں نے کی۔ وہ نہ صرف بھیڑیوں کی طرح غراتا تھا بلکہ انھیں کی طرح کچا گوشت بھی شوق سے کھاتا تھا۔

شکاریوں نے بڑی مشکل سے دینا سنیچر کو قابو کیا۔ وہ ان پر بھیڑیوں کی طرح حملہ کرتا اور کاٹنے کی کوشش کرتا۔ لیکن شکاریوں کے لیے ایک چھے سالہ بچے کو قابو کرنا زیادہ مشکل امر نہ تھا۔ وہ اسے آگرہ میں سکندر مشن یتیم خانہ لے آئے تاکہ وہاں کی انتظامیہ اس کی تعلیم و تربیت کا انتظام کر کے اسے ایک مہذب اور پڑھا لکھا شہری بنائے۔

جب دینا سنیچر کو یتیم خانہ لایا گیا تو نہ شکاریوں کو اس امر کا ادراک تھا اور نہ ہی یتیم خانے کی انتظامیہ نے بھیڑیوں کے زیر اثر پروان چڑھنے والے بچے کے نفسیاتی مسائل کے حوالے سے سنجیدگی سے سوچا تھا۔ ان کے سامنے پہلا مسئلہ تو یہ کھڑا ہوا کہ اسے کیسے سکھائیں کہ وہ چار کے بجائے دو ٹانگوں پر چل سکتا ہے۔ کیونکہ وہ کوئی زبان نہیں جانتا تھا۔ آہستہ آہستہ یتیم خانے کی انتظامیہ کو احساس ہونے لگا کہ دینا سنیچر کو انسانی سماج کا ایک نارمل فرد بنانا شاید ممکن نہ ہو۔

دینا سنیچر نے انسانوں سے اور کچھ نہ بھی سیکھا ہو لیکن تمباکو نوشی سیکھ لی۔ کچا گوشت کھانا اور تمباکو نوشی کرنا اس کے محبوب مشاغل تھے۔ یتیم خانے کی انتظامیہ نے اسے زبان سکھانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا لیکن اس نے اس میں کسی قسم کی دلچسپی نہیں لی۔ وہ دوسرے بچوں کے ساتھ گھلنا ملنا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔ کیونکہ اسے کوئی زبان نہیں آتی تھی۔ لہذا اسے کچھ علم نہیں ہوتا تھا کہ اس کے ارد گرد کیا گفتگو ہو رہی ہے۔ لہذا اس کا دماغ کسی بھی موضوع پر کچھ نہیں سوچتا تھا اور نہ ہی اس کی یاداشت باتوں اور یادوں کو محفوظ کرنے کا فریضہ سر انجام دیتی تھی۔

آج کے ترقی یافتہ دور میں موبائل، انٹرنیٹ، میڈیا اور مختلف قسم کے کھلونوں کی وجہ سے کئی بچے اپنے اردگرد موجود لوگوں کے بجائے ایک مصنوعی دنیا میں رہنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس عارضے کو آٹزم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ایسے بچوں کو سمجھ نہیں آتی کہ ان کے ساتھی اور رشتہ دار کیا سوچتے اور محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے وہ نارمل لوگوں کی طرح سماجی تعلقات رکھنے اور اظہار خیال کرنے سے کترانے لگتے ہیں۔ ایسے میں ان بچوں میں جہاں ذہنی نشوونما کے مسائل پیدا ہوتے ہیں وہیں جسمانی اور حیاتیاتی بڑھوتری بھی متاثر ہوتی ہے۔

دینا سنیچر کی صورت میں ماہرین نفسیات اور ماہرین بشریات کے سامنے ایک ایسی حیرت انگیز مثال موجود ہے جس پر آج بھی تحقیق کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ ابتدائی بچپن میں سماج سے علاحدگی اور تنہائی و بیگانگی کے ایک فرد کی نشوونما اور نتیجتا شخصیت پر سنگین اور تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

جذبات اور اظہار کا انسانی زندگی میں بہت اہم کردار ہے۔ رشتے، تعلق، دوستی اور محبت سے ایک فرد کو زندگی میں آگے بڑھنے اور ایک مکمل انسان بننے میں مدد ملتی ہے۔ جب کہ جذبوں کا اظہار کسی زبان کا محتاج ہوتا ہے۔ ایسے لوگ جو جذبات سے عاری ہوں اور اظہار کی نعمت سے بھی محروم ہوں وہ غیر معمولی ذہنی صلاحیتوں کے حامل نہیں ہو سکتے۔

دینا سنیچر پینتیس سالہ زندگی میں کوئی زبان نہیں سیکھ سکا۔ اس لیے کسی کو علم نہیں ہو سکا کہ وہ کیا سوچتا تھا۔ اس سے بھی اہم سوال یہ کہ وہ کیا چاہتا تھا۔ کیا اس کا کوئی خواب تھا؟ کیا اس نے اپنی ماں کو دیکھا تھا؟ اس کو کس قسم کا ڈر یا خوف محسوس ہوتا تھا؟ کیا اسے کسی سے محبت تھی؟

دینا سنیچر نے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد کی کہ انسانی نشوونما چھوٹی عمر سے ہی سماجی میل جول رکھنے اور اپنے جیسے لوگوں کے بیچ رہ کر جذباتی وابستگی کی مرہونِ منت ہے۔ اسی سے ایک فرد کی ذہنی، فکری، ثقافتی، اخلاقی، جذباتی اور لسانی ترقی کی راہیں استوار ہوتی ہیں۔

دینا سنیچر 1895ء میں پینتیس سال کی عمر میں جسمانی طور پر بھی مر گیا۔ بے حساب تمباکو نوشی کے نتیجے میں وہ تپ دق جیسے مرض کا شکار ہو گیا تھا۔ اس زمانے میں اسے لاعلاج مرض سمجھا جاتا تھا۔ معلوم نہیں ان پینتیس برسوں میں سے کوئی دن، پہر یا پل دینا سنیچر نے گزارا بھی یا اس کی ساری کی ساری عمر ہی اضافی تھی؟

 

راشد عباسی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481