اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

چھٹا سالانہ سیمینار، مشاعرہ اور کتاب میلہ

IMG 20250610 WA0036 1

کوہ مری سالانہ سیمینار، مشاعرہ اور کتاب میلہ

 

چھٹا سالانہ قومی سیمینار، مشاعرہ اور کتاب میلہ امسال سنبل بیاہ سے متصل گاؤں پھپھڑیل میں فاطمہ کیڈٹ کالج کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ یہ ہر اعتبار سے گزشتہ تقریبات کے مقابلے میں ایک کامیاب تقریب تھی۔  جس میں کچھ نئے امکانات بھی وا ہوئے۔
میں گزشتہ کئی دنوں سے اس امر کا منتظر تھا کہ مقررین، منتظمین اور مبصرین میں سے کوئی اس تقریب کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر یا اظہاریہ پیش کرے لیکن عید کے دنوں اور اس کے بعد موسم گرما کی مصروفیات اور مشکلات کے باعث شاید احباب ابھی تک اس کے لیے وقت نہیں نکال سکے۔

قومی سیمینار، مشاعرہ اور اس طرح کی دیگر ادبی سرگرمیوں کا خیال میرے ذہن میں شاید لڑکپن اور جوانی سے ہی موجود تھا کہ اس طرح کا کوئی ماحول بنایا جائے جہاں پر مختلف الخیال لوگ اکٹھے ہوں۔ وہ ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹیں، شعور کی بات ہو، شعر و سخن کی بات ہو، کتابوں کی بات ہو اور اس طرح کے ماحول میں شعر تو ایک لازمی جز بن جاتا ہے۔  سو اللہ نے توفیق دی تو 2020ء میں اس سلسلے کا پہلا پروگرام اپنے غریب خانے پر منعقد کیا۔ سنبل بیاء اس وقت تک ایک غیر معروف مضافاتی گاؤں تھا، جسے اہل علم و فضل بہت کم جانتے تھے۔ ابتدائی پروگرام خلاف توقع بہت کامیاب رہا۔ جس میں صاحبان علم و فضل کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سیمنار، مشاعرہ اور کتابوں کی نمائش اس تقریب کا اہم خاصہ رہے ہیں۔

آنے والے برسوں میں یہ تقریب صاحبان ذوق کے پر زور اصرار اور تعاون سے مستقلا منعقد کی جانے لگی۔ اسی سلسلے کا یہ چھٹا سیمینار تھا۔ اس دوران عاشق جہانگیر عباسی نے کالی مٹی، مسوٹ اور ثاقب علی عباسی نے دناہ، گھوڑا گلی میں ایسے ہی پروگرام منعقد کروائے۔  جو بے حد کامیاب رہے۔ ان پروگراموں میں مظفر آباد سے جناب اعجاز نعمانی اور راولاکوٹ سے جناب فاروق صابر، ڈاکٹر صغیر احمد خان، جناب سجاد افضل، ایبٹ آباد سے جناب امان اللہ جدون، جناب احمد ریاض، جناب شکیل اعوان،  بالاکوٹ سے جناب تنویر عالم اور جناب صفی ربانی،  لاہور سے محترمہ طاہرہ حبیب جالب، جہلم سے جناب اقبال قمر اور بہاولپور سے جناب جہانگیر مخلص اور ذیشان مرتضی کی شرکت نے اسے کمال عزت اور اعزاز بخشا۔
اس پروگرام کو رونق بخشنے والے لالہ محمد نواز عباسی، جناب جاوید احمد، کہوٹہ،  حافظ سعید احمد سعود،  سعید احمد عباسی اور ماسٹر نصیر احمد عباسی ہم سے جدا ہو گئے۔ جبکہ بزرگوں میں سے حکیم ملک محمد حنیف وجدانی، ماسٹر محمد عرفان اور سردار گل فراز عباسی علالت کے باعث اب شرکت نہیں کر پا رہے۔

ہر بار کی طرح اس بار بھی مقررین کو قبل از وقت موضوعات دے دیے گئے تھے تاکہ وہ طے شدہ موضوعات پر کم سے کم وقت میں اپنی بات اور گفتگو مکمل کر سکیں۔

اس سیمینار کے مقررین میں پروفیسر آفتاب احمد خاں، جو فاطمہ کیڈٹ کالج کے ایم ڈی بھی ہیں، نے اپنی افتتاحی گفتگو میں ترقی پسندانہ سوچ کو آگے بڑھانے کی کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے سماجی اور معاشرتی تقسیم کو روکنے کے لیے ثقافتی اور علمی تحریک اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے اس تحریک میں اپنی اور اپنے ادارے کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

راشد عباسی، جو تقریب کے میزبان بھی تھے، نے ان تقاریب کی غرض و غایت بیان کی۔ انھوں نے ان تقاریب کے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی اور کہا کہ  علم و آگہی، شعر و ادب، تاریخی شعور، حریت پسندی عام کرنے، اپنی ماں بولی کے حوالے سے احساس کمتری کے خاتمہ اور کوہسار کے اہل علم اور اہل قلم کو مربوط کرنے کا سہرا ان تقاریب کے سر ہے۔

جناب وجیہ الاسلام عباسی نے مری اور کوہسار مری کی اقدار کی شکست و ریخت کے حوالے سے اپنا مضمون پیش کیا اور سوشل میڈیا کے فعال کردار کے باوجود سماجی جکڑ بندی اور فرسودگی کے نقصانات کے ازالے کے لیے تجاویز دیں۔

ڈاکٹر یاسر ستی الخیری نے تصوف اور سماجی ماحول کی بہتری کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ ولی صرف وہی نہیں ہے جو خانقاہ میں بیٹھ کر ذکر الہیٰ میں مشغول ہے بلکہ انسانیت اور مخلوق خدا کی بھلائی کے لیے کام کرنے والا ہر شخص ولی ہے۔

ڈاکٹر یاسر عرفات، جو نمبل کے باسی اور NUML یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، پہلی مرتبہ اس تقریب میں آئے۔ انہوں نے ادب اور پولیٹیکل اکانومی کے حوالے سے پرمغز گفتگو کی۔

پروفیسر کامران خان، جو ہمیشہ سے ان تقریبات میں ایک سنجیدہ اور تحقیقی موضوعات کے ساتھ گفتگو کرنے والے مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں، نے پولیٹیکل اکانومی اور تجزیاتی زاویے کے عنوان سے معاشرے میں ارتکاز زر اور طاقت کا تقابلی جائزہ پیش کر کے معاشرے میں سماجی اور معاشی عدم توازن اور اس کے خاتمے کی تجویز پیش کیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عابد عباسی اگرچہ میزبان کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن ان تقاریب میں خصوصی دلچسپی کے ساتھ سنے جانے والے مقبول ترین مقرر ہیں۔ انھوں نے اپنی گفتگو میں ضیاء الحق کے مارشل لاء اور اس دور میں انسانی آزادیوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے بھرپور گفتگو کی۔ جو ان کے پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے کا عنوان بھی تھا۔

تقریب کے میزبان کے طور پر راقم الحروف  نے حریت فکر اور ادب کے حوالے سے گفتگو کی، جس میں انسانی تاریخ میں ادب کے کردار اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ یہ بدیہی حقیقت ہے کہ انسانی تاریخ سے اگر ادب کی تاریخ نکال دی جائے تو پیچھے ہمیں بہت کم معلومات دستیاب ہوں گی اور یہ اہل ادب اور اہل قلم ہی تھے جنہوں نے دنیا کے ظلمت کدے میں شعور کی شمعیں جلائے رکھیں۔

اس سیمینار کی صدارت ملک کے معروف صحافی اور نوائے وقت کے سابق ریزیڈنٹ ایڈیٹر جناب جاوید صدیق نے کی۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں قیام پاکستان سے لے کر اج تک ملک میں سیاسی اور سول حکمرانی اور اس کے اتار چڑھاؤ پر بحث کی۔ انہوں نے اس طرح کی تقاریب کو مسلسل منعقد کرنے اور مری کے علاوہ کوہسار کے مضافات کے دیگر علاقوں میں بھی اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر زور دیا تاکہ نسل نو اور ادب اور سیاست کے سنجیدہ طالب علم ان معلومات سے استفادہ کر کے تاریخی طور پر جن مغالطوں میں قوم کو مبتلا کیا گیا ہے ان سے نجات پاکر صحیح فکر کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھیں اور ملک و قوم کے لیے بہتر اقدام کر سکیں۔

تقریب کے دوسرے حصے میں کتابوں کی نمائش ہوئی۔  اس میں امسال مری کے ادیبوں اور شاعروں کی شائع ہونے والی کتابوں کو پیش کیا گیا۔  ان کتب میں حافظ سعید احمد سعود مرحوم کی کتاب ماحول اور فطرت، جناب صبیر ستی کی تحقیق پر مبنی کتاب "پہاڑی زبان”، جناب راشد عباسی کی شائع شدہ کتب "اقبال نیں شاہین” اور پہاڑی کتابی سلسلہ "رنتن” اور راقم  (اشفاق کلیم عباسی) کے شعری مجموعے "نگار خانہ من” اور جناب سجاد عباسی کی اہم ترین کتاب "صحافت بیتی” پیش کی گئیں. اس کے علاوہ کچھ دیگر ادیبوں اور شاعروں کی شائع شدہ کتب شامل ہونے سے رہ گئیں لیکن یہ ایک بھرپور سیشن تھا، جس میں شرکاء نے کتب سے محبت اور ان کے مضامین و موضوعات کی بھر پور پذیرائی کی اور سٹال سے کتابوں کی خریداری کی۔

اس پروگرام کا ایک خاص حصہ جناب سجاد عباسی صاحب، جن کا تعلق بیروٹ، ہزارہ سے ہے، کی کتاب "صحافت بیتی” کے حوالے سے بھی رہا. یہ کتاب جناب سجاد عباسی کے 30 سالہ صحافتی کیریئر کا نچوڑ ہے، جس میں انہوں نے ترقی پسند خیالات رکھنے والے سات نمایاں ترین صحافیوں کی خدمات ان کے انٹرویوز کی روشنی میں پیش کی ہیں۔

تقریب کا آخری سیشن مشاعرہ پر مشتمل تھا۔  اس میں جناب سہراب رشید عباسی، جناب تیمور ذوالفقار عباسی، جناب اظہر حیات عباسی،  جناب سجاد عباسی، جناب راشد عباسی اور راقم نے اپنا کلام پیش کیا۔

یہ تقریب چودھویں رات کے چاند اور خوبصورت پنڈال کے سبب گزشتہ تقریبات کے مقابلے میں حسن انتظام کی ایک عمدہ مثال ثابت ہوئی۔ تقریب کے شرکاء نے، جن میں خواتین کی کثیر تعداد بھی شامل تھی اور یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات بھی موجود تھے، تقریب کو ایک قومی میلے کی حیثیت سے لیا اور آئندہ اسے مزید کامیاب کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ تقریب کے اختتام پر مہمانوں کی سادہ کھانے سے تواضع کی گئی۔

اس تقریب میں جناب ارسلان ایاز ARY نیوز، جناب ملک مجیب الرحمن، ڈاکٹر فہد مشتاق کا خصوصی تعاون شامل رہا۔

اشفاق کلیم عباسی ۔۔۔ سنبل بیاء، مری


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481