اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

کیا بھروسا ہے زندگانی کا ۔۔۔

FaceApp 1748802636962 1

کیا بھروسا ہے زندگانی کا ۔۔۔

ڈاکٹر پراتیک جوشی جب چھے سال پہلے لندن آئے تو برصغیر کے اکثر پڑھے لکھے اور کچھ کرنے کے خواہش مند صاحبان علم و ہنر کی طرح بہت پرجوش تھے۔ اکیلے لندن میں رہنا کار سہل نہ تھا۔ کچھ جاننے والے پہلے سے یوکے میں موجود تھے لیکن وہاں کی مصروف زندگی میں دوسروں کے لیے وقت کجا کہ خود سے ملے بھی سال ہا سال گزر جاتے ہیں۔ وہ جب بھی اپنی بیوی اور بچوں سے فون پر بات کرتے خود پر بہت قابو رکھتے ہوئے انھیں یقین دلاتے کہ وہ بہت خوش اور مطمئن ہیں۔ اور وہ دن دور نہیں جب پورا خاندان لندن میں اسی طرح ساتھ رہے گا جس طرح وہ ہندوستان میں رہتے تھے۔ لیکن جیسے ہی فون بند کرتے بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیتے کہ پورے خاندان کی لندن میں تجمیع جوئے شیر لانے سے کسی بھی طرح کم نہ تھی۔

ڈاکٹر جوشی کو بس ایک ہی دھن سوار تھی کہ ہر لحظہ کاٹ کھانے والی تنہائی کا اختتام ہو اور ان کا خاندان بھی ان کے ساتھ لندن میں قیام پذیر ہو۔ انھوں نے اس یک نکاتی مشن کو اپنی ترجیح بنا لیا۔

چھے سال کی طویل اور تھکا دینے والی سعی اور ریاضت کے بعد آخر ڈاکٹر جوشی اپنے مشن میں کامیاب ہو گئے۔ وہ اپنے پورے خاندان کے کاغذات حاصل کر کے پھولے نہیں سماتے تھے۔ انھوں نے فورا ہندوستان کے سفر کا فیصلہ کیا تاکہ اپنے خاندان کو خود ساتھ لے کر واپس لندن آئیں۔

ڈاکٹر جوشی کی زوجہ ڈاکٹر کومی مقامی ہسپتال میں ملازمت کرتی تھیں۔ انھوں نے اپنی ملازمت سے استعفی دے دیا۔ ساتھی ڈاکٹر جہاں ان کی جدائی پر رنجیدہ تھے وہیں ان کے برطانیہ جانے پر خوش بھی تھے کہ وہاں خوش خوشحال زندگی کے امکانات زیادہ قوی ہیں۔

ان کے بچوں پانچ سالہ جڑواں بیٹوں اور آٹھ سالہ بیٹی نے بھی اپنے سکول سے سکول چھوڑنے کے سرٹیفکیٹ حاصل کیے تاکہ لندن میں وہ ان کی بنیاد پر کسی سکول میں داخلہ لے سکیں۔

آخر وہ لمحہ آگیا جب راجھستان میں انھوں نے اپنے عزیز و اقارب سے گلے مل کر احمد آباد ایئرپورٹ پورٹ کی طرف سفر شروع کیا۔ لمحہ لمحہ واٹس ایپ پر پیغامات کا سلسلہ جاری رہا۔ بچے پہلی بار سب عزیزوں سے جدا ہو رہے تھے اس لیے وہ رنجیدہ تھے۔

آخر کار وہ ائیرپورٹ پہنچ گئے۔ عملے نے ان کے پاسپورٹ اور کاغذات کی جانچ پڑتال میں کافی وقت صرف کیا لیکن یہ ان کے فرائض میں شامل تھا کہ کوئی جعلی کاغذات پر فلائٹ میں نہ چلا جائے جس سے ائیرلائن کو تو نقصان ہوتا ہی ہے ملک کی عزت پر بھی حرف آتا ہے اگر لندن سے کسی خاندان کو غیر قانونی سفر کی وجہ سے ائیرپورٹ سے واپس بھیجا جائے۔ سخت جانچ پڑتال کے بعد ایئرلائن کے کاؤنٹر سے پانچ بورڈنگ پاس جاری ہو گئے۔ اور پانچ افراد نے پہلے لاؤنج میں انتظار کیا اور پھر فلائٹ 171 میں وارد ہوئے۔ ڈاکٹر پراتیک نے ایک سیلفی بنا کر اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ شیئر کی۔ سیلفی سے ظاہر ہوتا ہے کہ تین لوگ تو خوش ہیں لیکن جڑواں بھائی خوش دکھائی دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جہاز نے احمد آباد سے لندن جانے کے لیے اڑان بھری۔ لیکن وہ کہیں نہیں جا سکا۔ بدقسمت مسافروں کی قسمت میں فقط چند منٹ کی اڑان ہی لکھی تھی۔ وہ ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کرنے کے بجائے ایک دنیا سے دوسری دنیا پہنچ گئے۔

اس زندگی کا یہی المیہ ہے ظالم جتنی خوبصورت ، پر کشش اور محبوب ہے اس سے بڑھ کر یہ غیر یقینی اور ناقابل اعتبار ہے۔ ہمارے لیے بھی اس میں سبق ہے کہ کوئی بھی لمحہ لمحہ آخر ہو سکتا ہے۔ ہر لمحے کو جئیں۔ انسانیت کی خدمت کریں اور محبت عام کریں۔ اگلی سانس آئے گی ، اس کا کسی کو یقین ہے؟؟؟

راشد عباسی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481