اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

امیر مینائی کا تعارف.اتنے شعر کم ہی شاعروں کے مشہور ہوئے

96bc4c13 e35f 4474 8c1e 13399b84e028

اتنے شعر کم ہی شاعروں کے مشہور ہوئے

خنجر چلے کسی پہ، تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں
ہے

گاہے گاہے کی ملاقات ھی اچھی ہے امیر
قدر کھو دیتا ھے ھر روز کا آنا جانا

کسی رئیس کی محفل کا ذکر ہی کیا ہے
خدا کے گھر بھی نہ جائیں گے بن بلائے ہوئے

قریب ہے یارو روزِ محشر، چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر
جو چپ رھے گی زبانِ خنجر ، لہو پکارے گا آستین کا

زیست کا اعتبار کیا ہے امیر
آدمی بلبلہ ہے پانی کا

خشک سیروں تن شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب نظر آتی ہے اک مصرع تر کی صورت

ہوئے نام ور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

وائے قسمت، وہ بھی کہتے ہیں برا
ہم برے سب سے ہوئے جن کے لیے

آہوں سے سوزِ عشق مٹایا نہ جائے گا
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

وہ دشمنی سے دیکھتے ہیں دیکھتے تو ہیں
میں شاد ہوں کہ ہوں تو کسی کی نگاہ میں

تیر پہ تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
سینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہے

آنکھیں دکھلاتے ہو، جوبن تو دکھاؤ صاحب
وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

تجھ کو آتا ھے پیار پر غصہ
مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

ابھی مزار پہ احباب فاتحہ پڑھ لیں
پھر اس قدر بھی ہمارا نشاں رہے نہ رہے

امیر جمع ہیں احباب، درد دل کہ لے
پھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے

خون ناحق کہیں چھپتا ہے چھپائے سے امیر
کیوں مری لاش پہ بیٹھے ہیں وہ چادر ڈالے

دل بری سے کام ہے ہم کو، دل آزاری سے کیا
یار کی یاری سے مطلب، اس کی عیاری سے کیا

ہے آج جو سرگزشت اپنی
کل اس کی کہانیاں بنیں گی

دل ہی نہ رہا ، امید کیسی
جڑ کٹ گئی نخل آرزو کی

اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے
ہم مرے جاتے ھیں تم کہتے ھو حال اچھا ہے

امیر اب ہچکیاں آنے لگی ہیں
کہیں میں یاد فرمایا گیا ہوں

کون سی جا ہے جہاں جلوہ معشوق نہیں
شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

لطف آنے لگا جفاؤں میں
وہ کہیں مہرباں نہ ہو جائے

شاعر کو مست کرتی ھے تعریفِ شعر امیر
سو بوتلوں کا نشہ ھے اس واہ واہ میں

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر
سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر

تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ھے

وصل ھو جائے یہیں حشر میں کیا رکھا ہے
آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے

گرہ سے کچھ نہیں جاتا ہے، پی بھی لے زاہد
ملے جو مفت تو قاضی کو بھی حرام نہیں

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
نکلتا آرہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ

جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کرلیا پردہ
حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ

ہے جوانی خود جوانی کا سنگھار
سادگی گہنا ہے اس سن کے لیے

باغباں کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی
بھیجنا ہے ایک کم سن کے لیے

کباب سیخ ہیں ہم، کروٹیں ہر سو بدلتے ہیں
جو جل اٹھتا ہے یہ پہلو تو وہ پہلو بدلتے ہیں

مرغان باغ ، تم کو مبارک ہو سیر گل
کانٹا تھا ایک میں، سو چمن سے نکل گیا

ضرب المثل کا درجہ پانے والے یہ سب اشعار امیر مینائی کے ہیں. جن کی آج 124 ویں برسی ہے.

وہ 21 فروری 1829ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ امیر احمد نام رکھا گیا. والد کا نام مولوی کرم محمد تھا جو مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تھے۔ امیر اسی لیے مینائی کہلائے. درسی کتب مفتی سعد اللہ اور ان کے ہمعصر علمائے فرنگی محل سے پڑھیں۔ خاندان صابریہ چشتیہ کے سجادہ نشین حضرت امیر شاہ سے بیعت تھی۔ شاعری میں اسیر لکھنوی کے شاگرد ہوئے۔ 1852ء میں نواب واجد علی شاہ کے دربار میں رسائی ہوئی اور حسب الحکم دو کتابیں شاد سلطان اور ہدایت السلطان تصنیف کیں۔ 1857ء کے بعد نواب یوسف علی خاں کی دعوت پر رامپور گئے۔ ان کے فرزند نواب کلب علی خاں نے اُن کو اپنا استاد بنایا۔ نواب صاحب کے انتقال کے بعد رام پور چھوڑنا پڑا۔ 1900 میں حیدرآباد دکن گئے. وہیں کچھ دن بیمار رہ کر 13 اکتوبر کو انتقال کیا۔
امیر مینائی کے دو مجموعے مراۃ الغیب اور صنم خانہ عشق چھپ چکے ہیں. امیر اللغات بھی اہم کام ہے مگر نامکمل ر


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (1) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481

Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (1) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481