اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

شکیل اعوان ۔۔۔ خوش بیاں اور خوش گلو انقلابی

03e78af1 2d26 4565 8ab9 e7804d5318e0

شکیل اعوان ۔۔۔ خوش بیاں اور خوش گلو انقلابی

سروں کی ملکہ لتا منگیشکر نے شہنشاہِ غزل مہدی حسن کے بارے میں کہا تھا کہ ان کے گلے میں بھگوان بولتا ہے….
اور مجھے لگتا ہے کہ شکیل اعوان کی شاعری میں رنگوں ذائقوں اور دھنوں کا اک جہان بولتا ہے۔ شکیل اعوان سے میرا تعارف دہائیاں پہلے پہاڑی لوک گیتوں اور ماہیوں کے ذریعے ہوا تھا۔ یہ 90 کی دہائی کے ابتدائی برسوں کی بات ہے، تب ٹیپ ریکارڈر اور کیسٹ کا زمانہ تھا۔ شکیل اعوان اول اول تو ندیوں اور آبشاروں کی سرزمین ہزارہ کی "نگری” کے بلند و بالا پہاڑوں، چیڑ، دیار اور جنگلی انار کو اپنے سروں سے رام کرتا رہا اور پھر ہوا کے دوش پر اس کی آواز نگری سے نکل کر ہر اس نگر تک جا پہنچی جہاں ہندکو، پہاڑی اور پوٹھوہاری بولنے اور سمجھنے والے موجود تھے۔ چاہے وہ اپنے ملک کے مختلف شہر اور قصبے ہوں یا یورپ، مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے کسی اور خطے میں روزگار کے لیے بسے پہاڑی لوگ۔۔ شکیل اعوان کے لوک گیت اور ماہیے ان کی زندگی کا جزو بنتے گئے۔
مگر تین دہائیوں سے اوپر کا یہ طویل سفر ان گنت کٹھنائیوں، بے پناہ ریاضتوں اور صبر آزما جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج شکیل اعوان "آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے” کے مصداق، ملک اور بیرون ملک ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے اور لوگ مہینوں اس کی آمد پر محفل آرائی کا انتظار کرتے ہیں۔ وہ اپنی اس جدوجہد اور کامیابی کی داستان کو مختصر شعر میں یوں بیان کرتا ہے ۔۔

یار شکیل حیاتی لگی
شہرت سستے پہا نیئی لبھی

مگر یہ شہرت شکیل اعوان سے اس کا انکسار چھین سکی نہ اس کے اندر کا خوددار اور کھرا دیہاتی اس چکاچوند پر قربان ہوا۔۔ وہ اب بھی اپنے پہاڑوں، آبشاروں ،ندیوں، ڈوغوں اور باغوں سے بچپن کےعشق بندھن میں بندھا ہوا ہے۔

یاد آیا ہم "شاعر شکیل اعوان” کی بات کرتے کرتے گائیک شکیل اعوان کی طرف نکل آئے، مگر اس سے صرف نظر ہو بھی نہیں سکتا کہ کوہسار کا یہ سپوت شاعری اور گلوکاری کے ساتھ ساتھ کالم نگاری کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوا چکا ہے۔۔ بالکل خاموشی کے ساتھ اور غیر محسوس طریقے سے۔ اس کی تحریروں میں شگفتگی، بے ساختگی اور ادبی چاشنی کے ساتھ فنکارانہ چابک دستی بھی نظر آتی ہے۔۔ وہ اپنی شاعری اور گلوکاری کی طرح نثری تحریروں میں بھی اپنی مٹی ، ماں بولی اور اپنی روایات کے عشق میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔ وہ عام آدمی سے اسی کی زبان، لہجے اور انداز میں مخاطب ہوتا اور اپنی تحریر سے اس کا دل موہ لیتا ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے اس سیلابی دور میں جب بڑے بڑے لکھاری اور قلمکار اپنی تحریریں لوگوں تک پہنچانے اور پھر پڑھوانے کے لیے طرح طرح کے جتن کرتے ہیں وہاں شکیل اعوان کے "کالم شالم” کا چسکا جسے لگ جائے، وہ مشکل ہی سے اسے نظر انداز کر سکتا ہے اور یہ بات ہم ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں۔

مگر آج چونکہ ہمارے سامنے شکیل اعوان کا نیا شعری مجموعہ "چیندک” ہے، سو ہمیں شاعر شکیل اعوان کے ذکر تک محدود رہنا ہے۔ چیندک پہاڑی علاقے کی بچیوں کا ایک قدیم کھیل ہے، جو ایک پاؤں کے بل کھڑے رہنے اور آگے بڑھتے رہنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ اس کی تشریح اسی کتاب میں ہمارے شاعر دوست راشد عباسی نے بہت عمدگی سے کر دی ہے۔ صاحب کتاب کی لندن یاترا کے دوران راشد عباسی اس کتاب کی اشاعت اور نکھار کے لیے کس طرح آتش زیرپا رہے، یہ ایک الگ داستان ہے۔۔

چیندک کا یہ عنوان بھی شکیل اعوان کی اپنی زمین، ریت، روایات، مٹی اور ماں بولی سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔ ہم نے "چیندک” میں سے مضمون کے لیے کچھ منتخب شعر نکالنے کی خاطر اسے کئی بار پڑھ ڈالا مگر فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ کیا پکڑیں اور کیا چھوڑیں ۔۔آزمائش شرط ہے۔۔

ہور ترہائے ہوئی گئے آں ہُن
اَسّ اَتھروں پی پی او سنگیا

زندگی اَسّ پشور لوڑنے رئے
وہاء نَکَھتری سوات پِھرنی سی

صرف سچ بولنے، تہ لِخنے پُر
روز چَہلیا عذاب کَیہ کَیہ کِش

ہک ویلا سا ٹہاکے کَچھّے
ہن پوہڑی نآء اُلّہن ہونا

جس پاسے وَخ پُھل سَٹناں یاں
اُس پاسوں وی پتھر اَشنیں

شکیل اعوان معاشرے کی منافقت، دو رنگی اور "برادرانہ سفاکی” کو کس کمال سے بیان کرتا ہے، یہ شعر ملاحظہ کریں..

کول پہرا پہکھا پیا مرنا، کہار عذاب تے بکھ ثواب
لوک گچھی تے بکرے دینے، اپنے اپنے پیراں کی

وہ ایک حقیقی تخلیق کار کی طرح اپنے آس پاس زندگی کے بوجھ سے دہرے ہوتے انسانوں کا دکھ محسوس کرتے ہوئے کہتا ہے ۔۔

اوہ کیہہ جانے پہکھ نے بھنگڑے
آٹا جس نے کہھار پیا وہاء۔۔۔

شکیل اعوان جدیدیت اور فیشن کے نام پر اپنی بنیادی اقدار اور دھرتی ماں سے تعلق توڑنے والے اپنے جیسے پہاڑی باشندوں بالخصوص بہنوں اور بیٹیوں کو ان کا مہکتا ماضی یاد دلاتے ہوئے کہتا ہے ۔۔

میں اس دور نی اس عورت کی، رابعہ بصری آخنا یاں
جس نے ہتھ اچ ہووے دراٹی، جس نیں سرے ار کھارا ویہہ

اور زندگی کے انوکھے دکھوں کی کسک بیان کرتا یہ شعر ملاحظہ کریں

صبرے نی سوئی نال، روز یاں تروپنے
زندگی ناں چولا، جائی جائی سی آ پھٹا وہاء

 

یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ چیندک شکیل اعوان کا تیسرا شعری مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے پہاڑی شعری مجموعہ "ٹہاکیاں نیں پھل” اور اردو مجموعہ "آواز کا کاسہ” شائع ہو کر مقبولیت کی سند پا چکے ہیں۔
شکیل اعوان اپنی شاعری میں جہاں لوک داستانوں، کہانیوں، کہاوتوں، بجھارتوں اور آخانوں کو خوبی سے برتتا ہے، وہیں وہ اپنی جنم بھومی پر پھیلے فطرت کے عطا کردہ سارے رنگوں کو بھی قاری کیلئے اپنی شاعری کے آئینے میں منعکس کرتا ہے۔ اس کے شعر اپنی مٹی کی سوندھی خوشبو سے مہکتے ہیں۔ اس کی نظمیں پہاڑوں میں رہنے والوں کے اس ان دیکھے درد کی نمائندگی کرتی ہیں، جنہیں وہ کسی پر آشکار نہیں ہونے دیتے۔ مگر اس شاعری میں صرف دکھوں کا بیان نہیں ، بلکہ یہ زندگی کے تمام رنگوں سے مزین ہے۔ اس میں حسن و عشق کا خمار بھی ہے، ہجر کا سوگ بھی اور وصل کا سنجوگ بھی۔۔ ظرافت اور لطافت کی بے پناہ خدا داد صلاحیت شکیل اعوان کا خاص وصف ہے جو اس کی شاعری اور نثر دونوں میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

یہ رنگ ہمیں خاص طور پر اس کی مکالماتی نظموں میں ملتا ہے، جنہیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ معاشرتی ناہمواریوں پر اس کے طنز کی کاٹ بے مثال ہے۔۔

خوش قسمتی سے شکیل اعوان کی "جم پل” ایک ایسے علاقے کی ہے جو پنجاب، ہزارہ اور کشمیر کے سنگم پر واقع ہے۔‌ سو یہاں تینوں خطوں کی تہذیبی خوشبو مدغم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اس کی شاعری میں یہ تینوں رنگ پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔ اس معاملے میں وہ ہمیں کشمیر کے رومی میاں محمد بخش کا مرید نظر آتا ہے، جن کے ورثے پر ان تینوں خطوں کے لوگ اپنا حق جتاتے ہیں۔

وہ جب پہاڑی ماہیے اور لوگ گیت گاتا ہے تو سننے والے کا دل خود بخود اس کی دھن پر دھڑکنا شروع کر دیتا ہے۔۔۔اسے الفاظ کا رشتہ سر سنگیت سے جوڑنے کے لیے کسی غیر ضروری مشقت کی ضرورت اس لیے نہیں پڑتی کہ قدرت نے اسے شعر کہنے کی بے پناہ صلاحیت عطا کر رکھی ہے ۔اس کی شاعری فطرت کے حسین رنگوں سے مزین ہے۔ کبھی وہ ان رنگوں کو ایک دو مصرعوں میں سمیٹ لیتا ہے تو کبھی یہ طویل نظم یا غزل کی صورت قرطاس پر بکھر جاتے ہیں۔۔
پہاڑی زندگی میں کاشتکاری کے پرانے رنگوں کو یاد کرتے ہوئے اس کے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔۔۔۔

یار شکیل بڑا دل کرنا
ڈوغیاں راہواں، اسا لاواں

بولی لوک شاعری کی قدیم صنف ہے، جس میں شاعر ڈیڑھ دو مصرعوں کے اندر پورا ماجرا بیان کر دیتا ہے۔ شکیل اعوان نے اس صنف میں بھی طبع آزمائی کی اور خوب کی۔ ذرا اس کی نزاکت ملاحظہ ہو۔۔
لک بنہی تے مارنی آں پہاری
نکا نکا تاپ چڑھیا

ڈوھلی اتھروں میں کہانڑ بنائی
تہ دکھاں نیاں کنداں لمبیاں

اور خاص طور پر یہ بولی ۔۔۔۔
کوٹھا چوناں آ حیاتی والا
کڑیاں کی سیخ لگی گئی

ماہیے کی صنف میں تو شکیل اعوان نے ابتدا ہی سے طبع آزمائی شروع کر دی تھی۔ ماہیا دیہی زندگی کے رنگوں کو دیہاتی مزاج اور تہذیبی رچاؤ کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ اس صنف میں بالعموم واقعات اور جذبات کو موسموں، پھلوں، پھولوں، فصلوں اور علاقوں کی نسبت سے بیان کیا جاتا ہے۔ ماہیے ملاحظہ کریں

پچھی پہری ہوئی کھوڑاں نی
تہاڑے پچھے گال سٹی
جند لکھاں تے کروڑاں نی

شکیل اعوان کا دور نوجوانی ملکہ کوہسار مری میں گزرا ہے، سو وہاں کی حسین یادیں اس کی زندگی کا حصہ ہیں
مری نال بروری اے
ہک کہاٹا سجناں ناں
باقی ہر شے پوری اے

وہ اپنی جنم بھومی نگری کو بھی بہانے بہانے سے اپنی شاعری میں نگینے کی طرح جڑ دیتا ہے ۔۔
بس نگری نا موڑ چڑھے
ساڑے نالوں توڑی آ
شالا تساں نی اے توڑ چڑھے

شاعر اور تخلیق کار سماجی بیداری اور انقلاب میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انقلاب ہر چیز کو تہہ و بالا کر کے تبدیلی لانے کا نام نہیں بلکہ معاشرے میں سدھار بھی انقلاب کی ہی ایک شکل ہے۔ شکیل اعوان کی شاعری ہمیں مختلف انداز سے سوچنے اور جدیدیت کی اندھی تقلید کے بجائے اپنی روایات اور اقدار کو بچانے کی سوچ پر اکساتی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ شکیل اعوان ایک خوش رنگ ،خوش بیاں اور خوش گلو انقلابی ہے جس کی شاعری ہمیں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔

لوء تے پھٹسی ضرور نیہرے چوں
کالی شاہ رات کتنا چر رہسی ؟

آخر میں شکیل اعوان کے اردو شعری مجموعے "آواز کا کاسہ” سے ایک غزل ملاحظہ فرمائیں۔

اپنی دھرتی پہ اگر پیڑ لگائے جاتے
اس کڑی دھوپ میں یوں سر سے نہ سائے جاتے

ہم کو اے دوست غم دہر سے فرصت نہ ملی
ورنہ کچھ دن تیرے کوچے میں بتائے جاتے

جن کو شرمندہ تعبیر نہیں ہونا تھا
کاش ایسے نہ ہمیں خواب دکھائے جاتے

میرا فن صرف امانت ہے مرے لوگوں کی
مجھ سے شاہوں کے قصیدے نہیں گائے جاتے

ہوا ہوتا جو مرے عہد میں پیدا وہ شکیل
مرزا غالب کو بہت آم کھلائے جاتے

سجاد عباسی ۔۔۔۔۔ بیروٹ، ہزارہ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481