اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

کالم شالم  ۔۔ پہاڑی شعری مجموعہ ”چیندک “

landscape 3 2 1728108767812

کالم شالم  پہاڑی شعری مجموعہ ”چیندک “

 

پہاڑی میں ”چیندک“ (ہندکو میں ”چیچودما“، کچھ علاقوں میں "چینجو”) یہ میرے تازہ شعری مجموعے کا عنوان ہے، جو آواز پبلی کیشنز، راولپنڈی سے اشاعت پذیر ہوا ہے۔  اس شعری مجموعے میں پروفیسر اشفاق کلیم عباسی، (کوہسار یونیورسٹی مری)، ڈاکٹر عامر سہیل (ایبٹ آباد) اور راشد عباسی (ملکوٹ، ضلع ایبٹ آباد) کے مجموعے کے حوالے سے مضامین جب کہ نعمان عباسی (کوہ مری) کا منظوم خراج بھی شامل اشاعت ہے۔  مجموعے کا پہلا حصہ غزلیات پر مشتمل ہے۔ دوسرے حصے میں گیت، ماہیے اور بولیاں شامل ہیں جب کہ تیسرے حصے میں طویل و مختصر اور سنجیدہ و شگفتہ نظموں کے علاوہ منظوم تراجم بھی شامل ہیں۔

ہمارا بچپن یہی مقامی کھیل کھیلتے گزرا۔ چونکہ اُس وقت سوشل میڈیا تو کُجا گاؤں میں ریڈیو بھی ریٹائرڈ فوجیوں کے پاس ہی ہوتا تھا۔ جو خبریں سنتے اور دوسری جنگ عظیم میں اپنی کارکردگی کی داستانیں سناتے تھے۔  ہماری نگری منڈی میں فقط چار دوکانیں تھیں اور واحد ریٹائرڈ فوجی چوھدری پُلا مرحوم تھے۔ جو برما کے جنگلوں میں برٹش آرمی کی طرف سے جرمنوں کے خلاف برسر پیکار رہے تھے۔ گو فوجی اور بھی تھے مگر چوھدری صاحب جب جنگی منظر پیش کرتے تو یوں لگتا جیسے ہم میدان جنگ میں کھڑے ہیں۔ وہ اپنے کارنامے بیان کرنے کے بعد یہ بات بتانا نہ بھولتے کہ گورے جرنیل نے کہا۔۔۔۔

”من گئے ہاں پُلیا خانا “

اور پھر حقے میں تمباکو ڈالنے لگتے۔  مابدولت اُن کو اکثر اخبار پڑھ کر سناتے، جس کا معاوضہ ”مرنڈوں“ کی صورت میں ملتا اور داستان مفت میں سننے کو ملتی۔

چیندک یوں تو ” کُڑیانواں“ کھیل تھا، جیسے ”پنج گیٹڑا“۔  گھر کے صحن میں لڑکیاں خانے بنا کر مٹی کے ٹوٹے ہوئے برتنوں کی "پھیکروں” سے گول گول گیٹیاں بنا کر کھیلتی تھیں۔  ہم بھی اس وقت اُن کے ساتھ کھیلتے کہ ہماری عمر ابھی”کوڈی“ { کبڈی } کھیلنے کی نہیں ہوئی تھی۔ اکثر مرحوم ارشن بہن آواز لگاتی کہ
”مِڑے اچھو چیندک کھیڑاں“ اور لڑکیاں بھاگ کر پہنچ جاتیں۔  میں بھی ضد کرتا کہ مجھے بھی کھیل میں شامل کریں۔ سو مجھے بھی شامل کر لیا جاتا۔

اکثر جب بارش ہوتی تو میں گھر کے ”پسار“ میں
چولہے سے کوئلہ نکال کر لکیریں لگاتا اور چینجو کھیلنا شروع کر دیتا۔  بُبُو جان کی نظر پڑتی تو سر پر ہاتھ رکھ کر فرماتیں ۔۔۔۔
"اوخو!  تہکا پے ای۔۔۔۔ ساری تلّن خراب کری سٹی اے “

"تلّن” مٹی سے لیپ کیے گئے فرش کو کہتے تھے، جو ایک مشقت طلب کام تھا۔ گھر کی عورتیں ٹولیوں کی صورت میں مٹی دُور سے لا کر ”کہانڑ“ بناتیں اور ہاتھوں سے فرش کو لیپ کیا جاتا۔  مٹی کی خوشبو کئی دنوں تک سانسوں کو مہکائے رکھتی۔ مجھے آج تک کسی مہنگے سے مہنگے پرفیوم میں مٹی کی اس خوشبو جیسی خوشبو نہیں ملی۔ الحمد للّٰہ عرب و عجم اور مغرب کے مہنگے ترین پرفیوم استعمال کر کے دیکھے لیکن اس خوشبو کا مقابلہ و موازنہ ممکن ہی نہیں۔

"چیندک” کتاب کا ٹائٹل رکھنے کی اصل وجہ بھی یہی ہے کہ میں اپنی مٹی سے جُڑا رہنا چاہتا ہوں۔ میری شاعری میری مٹی کا قرض ہے۔  میری ماں بولی میرا ”مان“ اور میرا فخر ہی نہیں دنیا میں میری پہچان بھی ہے۔

"چیندک” میرا تیسرا شعری مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے ”ٹہآکیاں نے پُھل “ (پہاڑی شاعری) اور  "آواز کا کاسہ“ (اردو شاعری) زیور طبع سے آراستہ ہو کر احباب سے داد و پذیرائی حاصل کر چکے ہیں، جس کے لیے میں سراپا سپاس ہوں۔

IMG 20241004 174711 953
کتاب کے لیے دو نام تجویز کیے گئے تھے، ”درکانڑوں“ اور "چیندک”.  ہماری ادبی کمیٹی کے چیئرمین، شاعر و ادیب راشد عباسی صاحب نے چیندک کا انتخاب کیا جو معنویت اور جاذبیت کے لحاظ سے زیادہ موزوں ہے۔

"چیندک” کے مسودے سے لے کر طباعت تک کے سارے مراحل راشد بھائی کی وجہ سے ہی ممکن ہوئے۔ کتاب کی اشاعت ایک جان جوکھوں کا کام ہے۔ کتاب کی ترتیب،  مسودے کی نوک پلک سنوارنا، پروف ریڈنگ، ٹائٹل کی تیاری، پبلشر سے معاملات طے کرنا، بائنڈر سے معیاری جلد بندی کروانا۔ یہ ساری” کھینی“ راشد عباسی جیسے مجاہدِ ادب ہی کرسکتے ہیں۔۔۔۔
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشند خدائے بخشندہ

ہم راشد عباسی صاحب کے لیے دعا کے سوا ”ککھ“ نہیں کرسکتے کہ راشد عباسی جیسا درویش بغیر کسی لالچ کے پہاڑیوں کو جگانے کے لیے دن رات ”بانگاں“ دے رہا ہے کہ۔۔۔۔

"اللہ آلیو ! جاگو اپنی ماء بولی کے لیے، اپنی پہچان کے لیے سعی و جہد کرو۔ ورنہ ۔۔۔۔

”تماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں “

اور یہ راشد عباسی کا ہی ”تہن جگرا “ ہے جو چیل کے گھونسلے میں ماس تلاش کرتا ہے۔  راشد عباسی واقعی فقیر روح ہے۔  جو بھٹک کر مادہ پرستوں کے شہر میں آگئی ہے۔

”چیندک“ چھپ کر جلد بندی کے مراحل میں ہے۔  بذریعہ ڈاک بھی آپ تک پہنچانے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ آپ درج ذیل نمبروں پر واٹس ایپ کے ذریعے اپنا پوسٹل ایڈریس بھیج دیں، کتاب گھر بیٹھے آپ کو مل جائے گی۔۔۔

شکیل اعوان۔ 03005627728

راشد عباسی 03458566708

ندیم صدیقی 03005211201

ہماری لندن یاترا اختتامی مراحل میں ہے۔ وطن عزیز واپسی ہوتی ہے تو ان شاءاللہ کتاب کی ”منہ دکھلائی“ کی تقریب کا انعقاد ہو گا۔ آپ کی محبتیں میرا سرمایہ ہیں۔

آپ سلامت رہیں۔  وطن سلامت رہے

شکیل اعوان ۔۔۔۔۔۔۔ لندن


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481