اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

پروفیسر اشفاق کلیم عباسی کا شعری مجموعہ "ساعت دید”

IMG 20240124 WA0368 1

پروفیسر اشفاق کلیم عباسی کی "ساعت دید”

ملکہ کوہسار مری کے دامن میں مسیاڑی کے قریب موٹروے سے نیچے اتریں تو پرفریب نظاروں کے ساتھ ہم آغوش ہوتی، ایک بل کھاتی سڑک آپ کو "سنبل بیاہ” کے پرفضا مقام پر لے جاتی ہے. قدرتی حسن سے مالامال اس وادی میں آسمان کی بلندیوں کو چھوتے چیڑ کے بے شمار درختوں کے بیچوں بیچ خطہ کوہسار کا "ادبی برگد” پروفیسر اشفاق کلیم عباسی اپنے سائے میں علم و گیان بانٹنے اور محبتیں سمیٹنے میں مصروف ہے۔

ایک بے پناہ شاعر، جس کی عمومی گفتگو سے بھی شاعری کے رنگ پھوٹ رہے ہوتے ہیں، ایک بے مثل معلم جس کے ان گنت شاگرد ملک و قوم کا قابل فخر سرمایہ سمجھے جاتے ہیں۔ ایک بیدار مغز دانشور جس کی گفتگو آپ پر عام سی روایتی باتوں میں پنہاں غیر روایتی معنی تہہ در تہہ آشکار کرتی ہے اور آپ چونک اٹھتے ہیں۔ ایک درویش منش انسان، جسے اپنی زمین، اپنی مٹی، اپنے درخت ،اپنے پہاڑ، پتھر، دریا اور ندیاں، جان و دل سے عزیز ہیں اور یہ عشق اس کی شاعری میں پورے جوبن پر نظر آتا ہے۔۔
"نغمہ کوہسار ” کے عنوان سے ان کی طویل نظم ایک مثال ہے۔۔

ملکہ کوہسار ہے،یہ ملکہ کوہسار ہے
یہ زمین پاک پر، قدرت کا اک شہکار ہے
اس کے اک جانب ہزارہ، اک طرف کشمیر ہے
یہ مگر پنجاب کے رانجھے کی سوہنی ہیر ہے
عاشقوں کے دل کی ٹھنڈک، اس کا اک دیدار ہے

وہ جو فراز نے کہا تھا "سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں” اس کا عملی تجربہ آپ کو پروفیسر اشفاق کلیم عباسی کے ساتھ ہم کلام ہو کر ہی ہو سکتا ہے۔
ایک ایسا داستان گو جو صدیوں پرانی کہانی پوری جزئیات کے ساتھ یوں بیان کرے کہ آپ خود کو اس منظر نامے کا حصہ سمجھنے لگیں۔۔ 1857 کی جنگ آزادی کے دوران مری کے ڈھونڈ عباسی قبائل کے ہیرو سردار باز خان کی قیادت میں جوان اور گرم خون سے لکھی گئی قربانی کی رزمیہ داستان بیان کرے تو آپ کے لہو میں حرارت پیدا کر دے اور آپ خود کو باز خان کے لشکر کا ایک سپاہی تصور کرنے لگیں ۔”عاشقان پاک طینت” کے عنوان سے یہ طویل نظم ان کے پہلے پہاڑی شعری مجموعے "نویں سویل” کا حصہ ہے، جسے طوالت کے پیش نظر یہاں نقل نہیں کیا جا سکتا۔۔ایک بند ملاحظہ ہو

پہانویں گاٹے کپن ہوئے
فر وی پگ نہئی کھلی
رتو نال پوشاکاں رنگیاں
تاں چٹی اج کلی

(چاہے گردنیں اڑا دی گئیں ،مگر پگ نہیں کھلی۔۔ تب لباس خون سے رنگین ہوئے، تو آج پگڑی بےداغ نظر آ رہی ہے)

اشفاق کلیم تاریخ ،تہذیب اور تمدن کی بات کرتا ہے تو آپ پرانے زمانوں میں کھو جاتے ہیں۔۔ دیہی دانش اس کی رگوں میں دوڑتی اور عالمی ادب اس کی گفتگو اور شاعری میں بولتا ہے۔۔

وہ ماہیے اور آخان ، کہاوتوں، گالہیوں (دیہی پہاڑی علاقوں میں شادی بیاہ کے گیت ) سے محبت کرنے والا شاعر ہے، جو اپنی عمر سے کئی دہائیاں یا شاید کئی صدیاں بڑا ہے۔

سحر کلامی کا یہ عالم کہ کسی فٹ پاتھ پر پاؤں کے بل بیٹھ کر گفتگو شروع کرے تو سماں باندھ دے اور وہیں محفل سج جائے۔۔ خود اس کے الفاظ میں

جہاں بیٹھیں وہیں میلہ لگے ہے خاکساروں کا
فقیروں کو تو زیبا ہی نہیں دربار کا میلہ

دراصل ہمارا موضوع تو پروفیسر اشفاق کلیم عباسی کا نیا شعری مجموعہ "ساعت دید” تھا جو ان کے پہاڑی مجموعے "نویں سویل” کے چند سال بعد منصہ شہود پر آیا ہے۔۔ مگر مشکل یہ ہے کہ اپنے ممدوح کی شاعری پر بات کرنے کی کوشش میں ہم ان کی شخصیت پر آ گئے، سبب جس کا یہ ہے کہ ان کی شاعری بنیادی طور پر شخصیت کا عکس ہے اور فی زمانہ یہ ایک بڑی خوبی ہے، کیونکہ شعراء کے حوالے سے عمومی شکایت پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے کلام کے برعکس "اوصاف” رکھتے ہیں۔

عام طور پر کسی بھی شاعر کا ایک مخصوص رنگ اور آہنگ ہوتا ہے مگر پروفیسر اشفاق کلیم عباسی کی شاعری میں رنگوں کا ایک جہان آباد ہے۔ کبھی ان کے اندر کسی چٹان پر بیٹھا، اپنے ریوڑ کی نگرانی کرتا چرواہا بول رہا ہوتا ہے، تو کبھی وہ جنگل، پہاڑ، ندی اور دریا سے مخاطب ہوتے ہیں تو ان پر کسی درویش مسافر کا گماں ہوتا ہے۔۔

ویلا آیا شام ناں
ٹہاکے اپر دینہہ
لگنا دینہہ نے نال یے
ڈبی گیساں میں

وہ جب گفتگو کرتے ہیں تو ان کے لہجے میں صدیوں کی پہاڑی تاریخ اور دانش بولتی ہے اور ہم عصروں کو بھی ان کی شخصیت میں اپنے آبا کی جھلک دکھائی دینے لگتی ہے۔ آپ نویں سویل یا "ساعت دید” کا مطالعہ کریں تو پروفیسر اشفاق کلیم کی شاعری میں ایک موسیقیت، ایک ردھم اور ترنم ملتا ہے اور صرف شاعری پر کیا موقوف، ایسا لگتا ہے کہ اشفاق کلیم کی شخصیت ہی ان تمام عناصر کا مجموعہ ہے۔۔

فارسی کی کہاوت ہے
"مشک آں است کہ خود ببوید، نہ کہ عطار بگوید”
یعنی خوشبو وہ ہے جو خود بولے ، نہ کہ عطار اس کا تعارف کرائے۔۔شعر ملاحظہ ہوں

محبت برف لہجے میں چھپی ہلکی سی چنگاری
محبت کم سخن محبوب کا حسن تکلم ہے
محبت بے زباں احساس کی اک ان کہی تشریح
محبت بے کراں جذبات کا ایک ضبط پیہم ہے

یوں تو ہم سب کسی نہ کسی طرح زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔ گھڑی کی سوئی اپنی مخصوص رفتار سے آگے بڑھتی اور کیلنڈر پر تاریخ بدل جاتی ہے، مگر زندگی کے بہاؤ اور اس کے مد و جزر کو محسوس کر کے اسے شاعری کی زبان دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔
پہاڑ کی اوٹ سے ڈوبتے سورج کا منظر، ٹین کی چھت پر برستی بارش سے جنم لینے والی مدھر موسیقی، جنگل کے سناٹے کو چیر دینے والی پتے کی آواز ، سنتے تو ہم سب ہی ہیں مگر ان کیفیات کو اپنی روح پر طاری کرکے بیان کرنا اشفاق کلیم جیسے شاعر ہی کا کام ہے اور پھر ان کی شاعری صرف جمالیاتی اور رومانوی رنگوں تک محدود نہیں بلکہ علمی، فکری، سیاسی اور سماجی شعور سے بھی مزین ہے۔۔ گاہے اس میں جبر کے خلاف بغاوت اور للکار بھی دکھائی دیتی ہے۔۔

جبر کے زمانے میں اک فقیر کا انکار
شاہ وقت کے منہ پر خاک ڈال آتا ہے
پائمال ہیں لیکن مسکرا کے جیتے ہیں
دیکھ زندگی ہم کو، یہ کمال آتا ہے

اور یہ شعر دیکھئے

اشتہاری ہیں مرے شہر کے سارے ہی رئیس
اس لئے شہر میں آتا نہیں اخبار کوئی

وہ اہل علم کی بے توقیری اور جہل کی حاکمیت پر یوں شکوہ کناں ہیں ۔

کوئی عزت ہے ،نہ کچھ نام، نہ معیار کوئی
اس کے سر پر بھی سجا دیتا ہے دستار کوئی

مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ امید اور حوصلے کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے اور اپنے شاگردوں اور نوجوانوں کو ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹ جانے کا درس دیتے ہیں جس کی جھلک ملاحظہ ہو۔۔

عمر عزیز مختصر، شوق سفر شکستہ تر
دشت طلب کی پیاس نے مجھ کو نڈھال کر دیا
معرکہ ہائے زیست میں، بازی پلٹ پلٹ گئی
لیکن ڈٹا رہا کلیم، اس نے کمال کر دیا

پروفیسر اشفاق نے شاعری میں اپنا تخلص کلیم کیا ہے، تو اس کی استعاراتی معنویت کا بھرم بھی رکھا ہے اور اسے خوب خوب برتا ہے۔ نامور شاعر اور ادیب آصف مرزا کے بقول "ساعت دید "میں اشفاق کلیم عباسی نے دو کلمی تراکیب اور مفرد الفاظ سے ایک ایسا متبرک منظر نامہ پیش کیا ہے، گویا ہم صحرائے سینا اور کوہ طور کے تناظر میں مذہبی روایات کے تقدس میں رچی بسی ایک ایسی دل کش و دلآویز پینٹنگ دیکھ رہے ہوں جسے کسی ماہر نقاش فطرت نے اپنے دست ہنر سے تشکیل دیا ہو۔

پھر کلیم نے چاہا ،طور پر غزل کہنا
شاہ حسن کو دیکھیں، کب جلال آتا ہے

اور یہ شعر ملاحظہ ہو
اہل سینا تو اسی آس پہ جیتے ہیں کلیم
کاش دیدار کا اک اور بہانہ مل جائے

پروفیسر اشفاق کلیم اپنی شاعری کے بارے میں خود کیا کہتے ہیں ، انہی کی زبانی سنیے ۔۔

"اکثر قارئین اور دوست اس بات کی کرید میں لگے رہتے ہیں کہ شعر کے پیچھے کون سے محرکات اور شخصیات کار فرما ہیں یا رہی ہیں۔۔ سچ پوچھیں تو شعر عشق کا محتاج ہے اور نہ عشق اپنے اظہار کے لیے شعر کا محتاج۔۔ البتہ ان دونوں کا تعلق اتنا قدیم اور ازلی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بے خبری سے یوں چلتے رہتے ہیں جیسے نیند اور خواب، دھوپ اور سایہ، یا دونوں آنکھیں کہ ایک کو دوسرے کی خبر تک نہیں لیکن دونوں کام ایک ہی کیے جا رہی ہیں۔۔

اور آخر میں ساعت دید سے چند منتخب اشعار ۔۔

حمدیہ شعر

جسے سب آسماں میں ڈھونڈتے ہیں
نظر آتا ہے مجھ کو سامنے وہ
طلب کی راہ پر جب لڑکھڑاؤں
چلا آتا ہے مجھ کو تھامنے وہ

نعتیہ شعر
نبی کا نام ہے اک استعارہ روشنی کا
ہمیں ظلمت میں ہے اتنا سہارا روشنی کا

ماں جی کے نام

جانے اس ذات کا لوگوں میں تصور کیا ہے
میں تو بس ماں کی محبت سے خدا تک پہنچا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے ساختہ پن اس کی اداؤں میں بلا کا
احساس محبت میں وہ گاؤں کی طرح ہے

عشق میں حد سے گزرنے کی ہماری بھی سنو
بات کچھ مشہور ہے، اور واقعہ کچھ اور ہے

اسے کہنا میری آنکھوں میں بینائی نہیں ہے
تیری صورت جو برسوں سے نظر آئی نہیں ہے
اسے کہنا، میں سب کو دیکھتا ہوں ،سن رہا ہوں
تعلق سب سے ہے، لیکن شناسائی نہیں ہے

یہ حسین چھتنار جنگل کاٹنے والوں سنو
گاؤں جب اجڑے تو شہروں کی طرح ہو جائیں گے

مرا دشمن تو خود میری رگوں میں دوڑتا ہے
سو یہ سفاک قاتل کب کسی کو چھوڑتا ہے

داستاں اب بھی سناتے ہیں سنانے والے
ہاں مگر لوگ کہاں، بزم سجانے والے

میں نے اس کی آنکھیں دیکھیں،ان آنکھوں میں دنیا دیکھی
مجھ سے پوچھو، دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا ہے

اپنی آنکھوں میں جلا کر تیری یادوں کے چراغ
ہم تصور میں تم ہی سے گفتگو کرتے رہے
ہم نے یوں رکھی ترے میخانہ خالی کی لاج
بن پئے ہی رات بھر جو ہاؤ ہو کرتے رہے

میں ٹُریا تے، زمانہ نال ٹریا
میں چُہریا تے، زمانہ نال چُہریا
میں پُہریا تے، زمانہ نال پُہریا
زمانہ کون؟ میں آپوں زمانہ
(پہاڑی نظم کا بند)

سجاد عباسی

بیروٹ، سرکل بکوٹ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481