اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

مولانا حسرت موہانی ،ایک سیماب صفت درویش رہنما

FCC5EC3A ACA1 4605 86BF 47A1FD226591 1 105 c 743x600 1

قیام پاکستان کے بعد مولانا حسرت موہانی نے ہندوستان ہی میں قیام پسند کیا۔ ان کی پارلیمنٹ کے ممبر رہے اور تنہا وہ تھے جو پوری پارلیمنٹ کی مخالفت کے باوجود اپنی رائے کے اظہار میں بے باک تھے۔ نہ کسی کے غصے پر دھیان اور نہ کسی کی ہنسی کی پرواہ ،نہ کسی کی نفرین کا جواب، نہ کسی کی تحقیر پر افسوس۔ ایک دھن تھی جو ان کو اپنی منزل مقصود کی طرف لیے چلی جا رہی تھی۔
حسرت خواہ کسی قدر بے ضرر رہے ہوں مگر انگریزی عہد میں وہ بڑے خطرناک سمجھے جاتے تھے۔ وہ کہیں بھی جائیں، ایک خفیہ پولیس کا آدمی ان کے ساتھ رہتا تھا۔ ریلوے اسٹیشنوں پر ان کی آمد کی اطلاع کر دی جاتی تھی مگر وہ بھی عجیب دلچسپ آدمی تھے، ہمیشہ پولیس اور ریلوے کے آدمیوں کو انہوں نے دھوکہ دیا ۔۔وہ کہتے تھے کہ میں ٹکٹ منزل مقصود سے آگے پیچھے کا لیتا ہوں اور بیچ میں اتر جاتا ہوں ۔پولیس حیران ہوتی ہے۔ کبھی یہ کرتے کہ اپنے بجائے دوسرے کو بھیج کر ٹکٹ منگوا لیتے اور پتہ بھی نہ چلتا۔پھر یہ بھی ہونے لگا کہ درمیان راہ میں ان کے ٹکٹ کا نمبر چیک ہوتا۔

e5b00d9c 319b 442f 91b4 919ea0e37db6
ایک بار ایسا ہوا کہ ٹکٹ چیکر مسافروں کے ٹکٹ دیکھنے لگا۔ حسرت تاڑ گئے، وہ چکر کاٹ کر دوسری طرف چلے گئے۔ ٹکٹ چیکر کو جب خوب حیران کر چکے تو سامنے آ کر فرمایا کیا تم یہ نمبر ڈھونڈ رہے ہو؟ اس سے زیادہ لطیفہ یہ ہوتا تھا کہ وہ راہ میں کسی سے اپنا ٹکٹ بدل لیتے تھے. حسرت تو اسٹیشن سے اتر کر چلتے ہوتے اور دوسرا ناکردہ گناہ "حسرت "بنا پولیس کو احمق بناتا رہتا۔
حسرت پکے دیندار تھے ۔ وہ کانگریسی بھی رہے اور اپنے آپ کو سوشلسٹ بھی کہتے تھے، مگر بچپن سے موت تک وہ سچے اور پکے دیندار مسلمان رہے۔ وہ نہ صرف مسلمان بلکہ صوفی مسلمان تھے اور صوفیوں میں بھی وہ صوفی تھے جن سے بزرگوں کا کوئی مزار اور کوئی عرس اور کوئی قوالی کی مجلس چھوٹتی نہ تھی۔ خصوصا فرنگی محل اور رد دلی کی مجلسیں۔

حجاز مقدس پر 1924 میں ابن سعود کے قبضے کے بعد چونکہ وہ وہابیت سے ناراض تھے، اس لیے وہ اس قبضے سے خفا تھے، لیکن بایں ہمہ حرمین کی زیارت کی توفیق انہیں انہی وہابیوں کے عہد میں ہوئی۔اس حج کے بعد وہ وہابیوں سے خفگی کے باوجود کچھ ایسے اس سرزمین اقدس کے دلدادہ ہوئے کہ چند سال ہوئے متواتر ہر سال حج کو جاتے رہے اور حکومت کے مہمان ہوتے رہے۔
حسرت جیسی متضاد طبیعت کا انسان شاید ہی منصہ شہود پر آیا ہو۔ سیاسیات اور قید و بند کے ساتھ شعر و سخن کی چمن بندی اور آبیاری بہت کم جمع ہو سکتی تھی، لیکن حسرت کے مزاج میں دونوں چیزیں جمع تھیں اور خود حسرت کو بھی اس اجتماع ضدین پر تعجب تھا۔ جیسا کہ اپنی ہی غزل میں انہوں نے کہا۔۔
ہے مشق سخن جاری، چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے ،حسرت کی طبیعت بھی

غزل کو لکھنؤ کے تصنع اور غالب کی مشکل گوئی کے کوچے سے سادگی اور آسان گوئی اور حقیقت رسی کی منزل تک پھیر کر لانا شاعری میں حسرت کا تجدیدی کارنامہ ہے۔ حسرت کی ادبی تصنیفات میں ان کی "شرح دیوان غالب” بہترین چیز ہے. اسی طرح متروکات اور معنی شعر پر ان کے رسائل اور مقالات یادگاری چیزیں ہیں ۔

حسرت کی زندگی کا تذکرہ ،حقیقت یہ ہے کہ ان کی وفادار، شریف اور بہادر بیگم مرحومہ کے تذکرے کے بغیر تمام نہیں ہو سکتا۔ آج سے 35 برس پہلے وہ چہرہ کھول کر نہایت سادہ لیکن پردہ پوش لباس میں باہر اتی تھیں اور کسی کی پرواہ نہیں کرتی تھیں ۔شوہر کی قید و بند کے بعد جب ان کا کوئی مونس اور مددگار نہیں تھا، ہر قسم کی مشکلوں کو بہادری اور استقلال کے ساتھ برداشت کرنے میں شاید ہی کوئی مسلمان عورت ان کے مقابلے کی نکل سکے۔

سچ یہ ہے کہ اس عہد پر فریب میں حسرت سے زیادہ کسی حق گو پر آفتاب کی کرن کبھی نہیں چمکی۔ اسی طرح حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے بعد یہ قول نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان پر صادق آتا ہے کہ ابوذر کی حق گوئی نے اس کو زندگی میں تنہا چھوڑ دیا ،اس کا کوئی ساتھی نہیں رہا اور اس لیے اس عہد میں اس مقدس فقرے کا مورد بھی حسرت کی ذات تھی۔

حسرت کا دماغ خدا جانے کتنے روپ میں جلوہ گر ہوا ،مگر ان کا دل بزرگوں کی عقیدت کی خاک سے بنا تھا۔ مرتے دم پیر کے آستانے پر جان دی اور انہی کی ابدی خوابگاہ میں ارام کیا ۔مولانا انوار صاحب کے باغ میں جہاں فرنگی محل کے خدا جانے کتنے خزانے دفن ہیں، حسرت بھی اپنی تمناؤں کے خزانے کے ساتھ دفن ہوئے۔
حسرت رخصت۔ تو تنہا آیا تھا، تنہا رہا ،تنہا گیا ۔البتہ تیری نیکی، تیری شرافت، تیرا اخلاص اور حسن عقیدت کے اعمال تیرے ساتھ ہیں اور وہی تیرے رفیق آخرت ہیں۔ یا رب۔۔ اس کی حق گوئی کی، بے کسی کی شرم کیجیے اور اس کو اپنی رفاقت سے نوازیے۔۔انت رفیق الاعلیٰ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481