اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

طویل ہنگامے کے بعد پنجاب کا بجٹ پیش کر دیا گیا

6

طویل انتظار ، کئی روز کی ہنگامہ آرائی اور کشمکش کے بعد بالاخر پنجاب کا بجٹ پیش کر دیا گیا ۔۔ آئندہ مالی سال کیلئے 3236 ارب روپے کے مجموعی حجم کے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں مین پندرہپ فیصد اور پنشن میں پانچ فیصد اضافے کے ساتھ ساتھ پر تعیش گھروں کے ٹیکس میں ایک فیصد اضافہ بھی شامل ہے ۔ اس مجموعی حجم میں وفاق سے 2020 ارب اورصوبائی محاصل سے 2521 ارب سے زائد لگایا گیا ہے، دو روز تک اسپیکر کی طرف سے پیش کی جانے والی رکاوٹوں کے بعد یہ بجٹ نیا اجلاس طلب کرکے پنجاب اسمبلی کے بجائے ایوان اقبال میں منعقد ہونے والے اجلاس میں وزیر خزانہ مقرر نہ ہونے پر سردار اویس لغاری نے خزانے کے انچارج وزیر کی حیثت سے پیش کیا اور بتایا کہ وفاق کی طرز پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ کیا گیا ہےجبکہ مہنگائی کے پیش نظر گریڈایک سے 19تک ملازمین کو بنیادی تنخواہ میں15فیصد خصوصی الاو¿نسز اضافی دیاجائے گا اسی طرحمزدور کی کم ازکم تنخواہ 25ہزار مقررکرنے اور”وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم” کو بحال کرنے کی تجویز بھی دے دی گئی ،پرتعیش گھروں پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ جبکہ اسٹیمپ ڈیوٹی کی شرح ایک فیصد سے بڑھا کر دو فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے پہلے سے جاری ترقیاتی اسکیموں کیلئے 365 ارب روپے ، نئی اسکیموں کیلئے 234 ارب روپے مقررکئے گئے ہیں شعبہ تعلےم کےلئے 428 ارب 56 کروڑ ،ہائیر ایجوکیشن کیلئے 13 ارب50کروڑ ، خصوصی تعلےم کےلئے 1 ارب 52 کروڑ ، صحت کیلئے 470 ارب ، چولستان میں صاف پانی کی فراہمی کیلئے 84 کروڑ ،زراعت کیلئے 53 ارب 19کروڑ ،صحت کارڈ کےلئے 125 ارب روپے ، رحمتہ اللعالمےن ﷺ پروگرام کے تحت مستحق طلبہ و طالبات کے تعلےمی وظائف کےلئے 86 کروڑ روپے، عوام الناس کو اشیاءخورونوش کی قیمتوں میں کمی، رعایتی نرخوں پر سفری سہولیات کی فراہمی، غریب کاشتکاروں کو کھاد کی رعاےتی نرخوں پر دستےابی اور دیگر زرعی ضروریات کی فراہمی کیلئے 200 ارب کی رقم مختص کی گئی جس پرسستا آٹا سکیم میں دس کلو آٹے کا تھیلا چار سو نوے روپے میں دستیاب ہوگاسیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں کوئی نےا ٹےکس لگاےا گیا اور نہ کسی سروس پر ٹےکس کی شرح مےں کسی قسم کا کوئی اضافہ کےا گیاگذشتہ روز پنجاب اسمبلی میں صوبائی وزیر سردار اویس لغاری نے پنجاب کا سال 2022-23 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزدور کی تنخواہ بیس سے بڑھا کر پچیس ہزار کرنے کی تجویز ہے بجٹ کا حجم 3236 ارب روپے تجویز کیا جارہا ہے کل آمدنی کا تخمینہ 2521 ارب سے زائد لگایا گیا ہے وفاق سے 2020 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔صوبائی محصولات کی مد میں 24 فیصد اضافے کیساتھ پانچ سو ارب سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے آئندہ مالی سال سیلز ٹیکس آف سروسز پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا۔چھوٹے کاروبار کی سہولت کیلئے سیلز آن سروسز میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا۔اسٹیمپ ڈیوٹی کی شرع ایک فیصد سے بڑھا کر دو فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔پرتعیش گھروں کے اوپر فنانس ایکٹ 2014 میں تبدیلی کرکے نئے ریٹس متعارف کروائے جارہے ہیں بجٹ کے مجموعی حجم میں سے 1712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں مختص کئے ہیں وزیر اعظم عوامی سہولیت پیکج کیلئے دو سو ارب روپے رکھے جارہے ہیں سستا آٹا سکیم میں دس کلو آٹے کا تھیلا چار سو نوے روپے میں دستیاب ہوگا۔پنجاب ریونیو اتھارٹی کا ہدف 22 فیصد اضافے کے ساتھ 190 ارب روپے رکھا گیا۔ بورڈ آف ریونیو کا ہدف 44فیصداضافے کے ساتھ 95ارب روپے رکھا گیا محکمہ ایکسائز سے 2 فیصداضافے کے ساتھ 43ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا۔نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 24 فیصد اضافے کے ساتھ 163 ارب 53 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں رکھے گئے ہیں 312 ارب روپے پنشن کی مد میں رکھے گئے ہیں 528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لےے مختص کئے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں685 ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے تجویز کیے گئے ہیں۔ترقیاتی بجٹ کا 40 فیصد سوشل سیکٹر، 24 فیصد انفراسٹرکچر، 6 فیصد پروڈکشن سیکٹر اور 2 فیصد سروسز سیکٹر پر مشتمل ہے۔ترقیاتی بجٹ میں دیگر پروگرامز اور خصوصی اقدامات کیلئے 28 فیصد فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ میں پہلے سے جاری اسکیموں کیلئے 365 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ نئی اسکیموں کیلئے 234 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں 41 ارب روپے دیگر ترقیاتی اسکیموں کی مد میں مختص کئے جا رہے ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی مد میں 45 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔مجموعی بجٹ میںشعبہ صحت پر 485 ارب 26 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجوےز دی جا رہی ہے شعبہ صحت پر 10 فےصد زےادہ فنڈز رکھے جا رہے ہیں شعبہ تعلےم کے لےے مختص کردہ مجموعی بجٹ میں 428 ارب 56 کروڑ روپے تجویز کیا جا رہاہے۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 1,712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد مےں تجویز کئے گئے ہیں جو پچھلے سال سے 20 فیصد زیادہ ہیں۔حکومت نے وزیراعلیٰ عوامی سہولت پیکج کے تحت 200 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے۔10 کلو آٹے کاتھیلا جو پہلے 650 روپے میں فروخت کیا جا رہاتھا اب عوام کو 490 روپے میں دستیاب ہے۔ اِس پیکج کی مالیت 142 ارب روپے ہے جس کے تحت عوام الناس کو اشیاءخورونوش کی قیمتوں میں کمی، رعایتی نرخوں پر سفری سہولیات کی فراہمی، غریب کاشتکاروں کو کھاد کی رعاےتی نرخوں پر دستےابی اور دیگر زرعی ضروریات کی فراہمی شامل ہےں۔صحت کارڈ کے لئے 125 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے جو گزشتہ ساٹھ ارب روپے تھی۔انہوں نے اپنی بجٹ تقریر میں مزید کہا کہ نان ٹیکس ریونیوکی مد مےں 24 فیصد اضافے کے ساتھ 163 ارب 51 کروڑ روپے کا تخمےنہ لگاےا گےا ہے 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں میں مد رکھے گئے ہیں 312 ارب روپے پنشن کی مد رکھے گئے ہیں 528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لےے مختص کےے گئے ہےں۔سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں کوئی نےا ٹےکس لگاےا جا رہا ہے اور نہ کسی سروس پر ٹےکس کی شرح مےں کسی قسم کا کوئی اضافہ کےا جا رہا ہے۔ سیلز ٹیکس آن سروسز میں فراہم کردہ ٹیکس ریلیف کو آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔برقی
گاڑیوں کی رجسٹریشن اور
ٹوکن ٹیکس کی مد میں 95% رعایت کو جاری رکھا جا رہا ہے۔ موٹر گاڑیوں کے پر کشش نمبروں کی نیلامی کے لیے نظرثانی شدہ e-Auction پالیسی کا اجراءبھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لئے آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پراپرٹی ٹیکس اور ٹوکن ٹیکس کی یکمشت ادئیگی پر بالترتیب 5 فیصد اور 10 فیصد رعایت جاری رکھی جا رہی ہے۔ مزیدبرآںe-Pay کے ذریعے آن لائن ادائیگی پر صارف کو 5 فیصد مزید رعایت جاری رکھی جائے گی۔مالی سال 2022-23میں 25ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سےPunjab Urban Land System Enhancement کا قیام عمل میں لیا جائے گا۔ 23 ارب90کروڑ روپے کی لاگت سے مواصلاتی نظام میں بہتری کیلئے فیصل آباد سرکلر روڈ(جڑانوالہ ستیانہ سیکشن)، قصور- دیپالپور روڈ ، لاہور- جڑانوالہ روڈ اور ساہیوال سے پاکپتن تک 336 کلومیٹر طویل سڑکوں کی بحالی شامل ہے۔ پنجاب حکومت آئندہ مالی سال میں 9 ارب روپے سے پنجاب بھر میں سڑکوں کی بحالی کے پروگرام کا بھی آغاز کر رہی ہے۔ دیگر اہم اسکیموں میں 13 ارب50کروڑ کی لاگت سے رنگ روڈ پروجیکٹ مزید دو فیز (ملتان اور سیالکوٹ) اور 3 ارب کی لاگت سے سے سٹی اتھارٹی پروگرام (سیالکوٹ اور مریدکے)کا اجراءبھی شامل ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ پنجاب حکومت قیدیوں کی فلاح و بہبود اور جیلوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کیلئے 6 ارب روپے مختص کر رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا انقلابی منصوبہ ”وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم” کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔اس مقصد کیلئے آئندہ مالی سال مےں 1ارب 50کڑوڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ رحمتہ اللعالمےن ﷺ پروگرام کے تحت مستحق طلبہ و طالبات کے لےے تعلےمی وظائف کےلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 86 کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ضلعی سطح کے مسائل کے حل کیلئے 90 ارب روپے کی خطیر رقم سے پنجاب بھر میں Sustainable Development Programme متعارف کروایا جا رہا ہے۔جنوبی پنجاب کے لئے 31 ارب50کروڑ روپے خصوصی طور پر مختص کئے گئے ہیں۔محکمہ سکول ایجوکیشن کیلئے 421 ارب 6 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے محکمہ ہائیر ایجوکیشن کیلئے 59 ارب 7 کروڑ روپے کی تجویز ہے محکمہ سپیشل ایجوکیشن کیلئے 1 ارب 52 کروڑ اور لٹریسی و غیر رسمی تعلیم کیلئے 3 ارب 59 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے”زیور تعلیم” پروگرام کے تحت 5 ارب 53 کروڑ روپے 6 لاکھ سے زائد طالبات کو تعلیمی وظائف کی فراہمی کیلئے رکھے گئے ہیں۔اسکولوں میں مفت ک±تب کی فراہمی کیلئے 3 ارب 20 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اسکول کونسلز کے ذریعے تعلیمی سہولیات کی بہتری کیلئے 14 ارب 93 کروڑ روپے اور دانش اسکولز کے جاری تعلیمی اخراجات کیلئے 3 ارب75کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔آئندہ مالی سال میں نئے دانش اسکولز کی تعمیر کیلئے 1ارب50کروڑ روپے مختص پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام کے تحت Punjab Education Foundation (PEF) کیلئے 21 ارب50کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیںPunjab Education Initiatives Management Authority (PEIMA) کیلئے 4 ارب80کروڑ روپے مخت اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی بحالی کیلئے 1 ارب50کروڑ روپے اور صوبہ بھر کے مختلف سکولوں میں اضافی کمروں کے قیام کیلئے 1ارب روپے مختص ضلع ملتان میں کیڈٹ کالج کے قیام کیلئے 70 کروڑ روپے مخت میانوالی اور حسن ابدال کیڈٹ کالجز میں سہولیات کی فراہمی کیلئے 10کروڑ روپے مختص بجٹ میں ہائیر ایجوکیشن کے شعبے کیلئے مجموعی طور پر 59 ارب 7 کروڑ روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے .ہائیر ایجوکیشن میں 13 ارب50کروڑ روپے ترقیاتی مقاصد کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔شعبہ خصوصی تعلےم کےلئے 1 ارب 52 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے. محکمہ لٹریسی اینڈ نان فارمل بیسک ایجوکیشن کیلئے آئندہ سال کے بجٹ میں 3 ارب 59 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔آئندہ مالی سال میں صحت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 470 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔صحت بجٹ پچھلے سال سے 27 فیصد زیادہ ہیں۔صحت کے بجٹ میں 296 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات اور 174 ارب 50 کروڑ روپے ترقیاتی فنڈز کے لئے مختص کئے گئے۔پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیلئے 21 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ چولستان کے باسیوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے 84 کروڑ روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔بجٹ میں زراعت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 53 ارب 19کروڑz روپے مختص کر
ہی ہے۔شعبہ زراعت میں 14 ارب 77 کروڑ روپے ترقیاتی مقاصد کے حصول پر خرچ کےے جائےں گے۔ زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافے کیلئے ورلڈ بینک کے تعاون سے 45 ارب 7 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک جامع پروگرام بنایا گیا پیداوار میں اضافے کیلئے ورلڈ بینک کے تعاون سے 45 ارب 7 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک جامع پروگرام بنایا گیا۔بجٹ تقریر میں انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زراعت کے پروگرام کے لئے 3 ارب 65 کروڑ روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔زرعی شعبہ میں تحقیق کیلئے 2 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے 8 نئے منصوبوں کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔لائیو اسٹاک کے شعبہ میں تحقیق اور تدریس کے 2 ارب 85 کروڑ روپے کی لاگت سے University of Veterinary and Animal Sciences (UVAS) کے Sub-Campus کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے آبپاشی کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مجموعی طور پر 53 ارب 32 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔آبپاشی کے بجٹ میں 25 ارب 69 کروڑ روپے جاری اخراجات جبکہ 27ارب 63کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کیلئے مختص کئے گئے سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کیلئے 80 ارب 77کروڑ روپے مختص صنعت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 23 ارب 83 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔3ارب 40 کروڑ روپے کی لاگت سےسفری سہولیات کی فراہمی کیلئے جدید، ماحول دوست، آرام دہ بسیں چلانے کے منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے Sports and Youth Affairs Department کیلئے مجموعی طور پر 8 ارب 83 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں اقلیتوں کے تحفظ کیلئے 2 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کر رہی ہے جس میں سے 1 ارب 35 کروڑ روپے
Minority Development Fund کے لئے مختص کئے جا رہے ہیں۔ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ مےں مہنگائی اور آمدن کی شرح میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے خصوصی الاو¿نس تجویز کیا گیا گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 15فےصد اضافی دےا جائے گا۔کم از کم اجرات 20,000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 25,000 روپے ماہانہ مقرر کی جا رہی ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (1) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481

Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (1) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481