
سوشل میڈیا کی اخلاقیات….محتاط رہیں باعزت رہیں۔ورنہ….
شمائلہ عزیز ستی
ہم میں سے بیشتر لوگوں کی زندگی کا نصف سوشل میڈیا کی نذر ہو جاتا ہے۔یہی ہمارا سماج ہے اب اور یہی مصروفیت۔ہم سوشل میڈیا کے اندھا دھند استعمال کے عادی ہیں۔مگر اخلاقی رویوں سے عاری ہیں۔کہیں بھی بنا سوچے سمجھے کچھ بھی لکھ کر آ جاتے ہیں۔اپنی خاندانی تربیت کا عکس ،ذہنی گندگی ،فرسودہ سوچ ،احمقانہ نظریات و خیالات ،بھونڈے مذاق ،بنا مطلب کے طعنےاور طنز کر کے تسکین حاصل کرتے ہیں۔اس بدتہذیبی ،ذہنی گندگی اور منہ کی بواسیر کا کوئی علاج نہیں ہے۔گالیاں دینے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ۔نظریاتی اختلاف ہم سے برداشت نہیں ہوتا۔خواتین کا جینا حرام کر رکھا ہوتا ہے۔بدتمیزی کر کے پہلی بات یہ بولتے کہ یہاں کر کیا رہی ہیں۔
کس قدر بہیودہ گوئی ہے یہ ۔یعنی آپ جو خود یہاں کرنے آتے ہیں ،سوچتے ہیں دوسرے بھی ایسا ہی کرتے ہوں گے۔مرد ہو یا عورت کیا فرق پڑتا ہے۔ہر کسی کی ذاتی دلچسپیاں ،شوق ہیں ۔جو جیسے رہنا چاہتا ہے اسے رہنے دیں۔اگر آپ کو اس کی کوئی بات پسند ہے تو خوش اسلوبی سے اپنا حصہ شامل کریں۔اختلاف رائے کریں مگر تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔۔۔بلکہ آسان حل یہ ہے کہ کوئی چیز آپ کے مزاج کے خلاف ہے تو خاموشی سے چھوڑ دیں۔بلاک اور ان فالو کا آپشن استعمال کریں۔اپنی بہیودہ باتوں ،طنزیہ کمنٹس اور بھونڈے گھٹیا مذاق سے دوسروں کا ذہنی سکون ہرگز برباد نہ کریں۔
اس دنیا میں آپ کو ہر طرح کے لوگ ملیں گے ،اپنی دلچسپی کے لوگ تلاش کریں۔ہر معاملے میں اپنی ٹانگ مت اڑائیں ،ہر جگہ ناک مت گھسڑیں۔دو لوگ گفتگو کر رہے تو کسی تیسرے کا کیا کام آ کے بات کرے یا کوئی بھی ری ایکٹ کرے۔
مانا کہ سوشل میڈیا نے ہماری ذاتی زندگیوں کو بہت متاثر کیا کہ لفظ "پرائیویسی” کا مطلب ختم ہوتا جا رہا ہے۔مگر اپنی اخلاقی تربیت کا ذرا سا لحاظ ہی کر لے بندہ کہ کسی کے معاملات میں اتنا بولے جو خود بھی برداشت کر سکے اور دوسرے کا ضبط بھی برقرار رہے۔۔۔
یہاں منہ پھاڑ کے کہنے والے کہیں گے کہ خود بھی ان باتوں پہ عمل کرنا چاہیے تو میں خود سے ہی ابتداء کرتی ہوں۔یہاں ایسے لوگ بھی موجود جو پچھلے تیرہ سالوں سے میرے ساتھ ایڈ۔وہ صرف میری تحاریر پڑھتے ،اس سے زیادہ کبھی کوئی فضول گفتگو نہیں کی۔کچھ لوگ مجھ سے نظریاتی اختلاف بھی رکھتے مگر کبھی اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔میں ایسے لوگوں کی بے حد عزت کرتی ہوں۔اپنا یہ پکا اصول ہے کہ منہ اٹھا کے ہر اک کے کمنٹس میں نہیں جانا،چند مخصوص لوگ جن کی وال پہ باقاعدہ جاتی ہوں مگر کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے اگلے کی عزت نفس یا ضمیر مجروح ہو۔ہنسی مذاق بھی صرف چند احباب سے وہ بھی کبھی اپنی حد نہیں چھوڑی۔کبھی کسی سے بدتمیزی یا بدتہذیبی نہیں کی۔
ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ میری طرف سے کسی کو کوئی لفظی تکلیف نہ پہنچے۔اک حد تک اگلے کی بات سنتی ،برداشت کرتی ہوں۔حد سے تجاوز کرنے والوں کو خاموشی سے بلاک کر دیتی ہوں۔میں صرف اپنے شوق کی تسکین کے لیے آتی ہوں کہ میری لکھی باتوں کو چند لوگ پڑھتے ہیں ،اپنی معتبر رائے دیتے ۔جس سے میں سیکھتی ہوں اور مجھے مزید لکھنے کی تحریک ملتی ہے۔اچھا یا برا یہ فیصلہ وقت پہ ہے۔جب میں کسی کی زندگی یا وال پہ بے جا مداخلت نہیں کرتی تو میں کسی ایسے غیرے کو ہرگز اجازت نہیں دیتی کہ اخلاق سے گرا ہوا کمنٹ یا تبصرہ کرے۔مامے ،چاچے ہرگز نہ بنیں۔نہ میں یہاں دوستیاں پالنے آئی ہوں نہ دشمنیاں کرنے۔سنجیدہ اور باوقار رہیں۔میری وال آپ قارئین واسطے ہے مگر بدتمیزی اور گھٹیا مذاق ہرگز برداشت نہیں کروں گی۔کوہسار کے تمام لوگ جو مجھے ذاتی طور پر جانتے یا پہاڑی ہونے کے ناطے ،میں یہاں بسنے والے تمام قبائل کی عزت دوگنی کرتی ہوں کہ یہ سب میرے اپنے ہیں۔مگر اس اپنائیت کا مطلب بے جا بے تکلفی اور الٹے سیدھے مذاق نہیں ۔اپنائیت کا مطلب عزت اور مان ہے۔
چند لوگوں کی اوچھی حرکتوں کی وجہ سے مجھے ایسی شکایات سے بھری تحریر لکھنی پڑی۔جس کا مجھے افسوس ہے۔محتاط رہیں باعزت رہیں۔ورنہ خدا کے لیے اپنا راستہ ناپیں۔۔۔خود بھی جئیں اور دوسروں کو بھی جینے دیں۔
عزت دار اور خاندانی لوگوں کے لیے دلی دعائیں ۔۔۔
سلامت رہیں
رانی ،پہاڑن ،استانی اور شمائلہ کے بڑے بڑے گلے
شمائلہ عزیز ستی