جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ وہ جس علاقے میں رہائش پذیر ہیں وہاں طالبان کا قبضہ ہے اور وہاں زندہ رہنے کے لیے طالبان کو بھتہ دینا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سرکاری افسران بھی طالبان کو بھتہ دیتے ہیں اور بجٹ کے 10 فیصد حصے کے بارے میں بھی آگاہی ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ کئی ظلم کیے گئے ہیں اور 8 فروری کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔ انہوں نے 27 ویں ترمیم کے استثنیٰ کو واپس لینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ علاقے میں ان کا گھر اور بچے بھی محفوظ نہیں ہیں۔
جے یو آئی کے سربراہ نے مزید کہا کہ ملکی پالیسیاں بین الاقوامی دباؤ کے تحت بنتی ہیں اور کبھی ملکی مفاد کے مطابق خارجہ پالیسی مرتب نہیں کی گئی۔ بانی پاکستان نے اسرائیل کے قیام کے خلاف دو تاریخی اقدامات کیے اور 1948 میں اسرائیل کو ناجائز قرار دیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کابینہ اور ایوان میں اعتماد سازی کی اہمیت پر زور دیا اور شملہ معاہدے کے حوالے سے مشاورت اور مفاہمت کی ضرورت بیان کی۔ انہوں نے محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور کہا کہ مسائل کے حل کے لیے مشاورت اور تجربے کا استعمال ضروری ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
