نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ینے افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذاتی اور سرکاری کوششوں کے باوجود تعلقات میں بہتری نہیں آ سکی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ اقدامات کے نتیجے میں تقریباً 35 سے 40 ہزار طالبان واپس آگئے اور پچھلی حکومت نے 100 ایسے مجرموں کو رہا کیا جنہوں نے سوات میں پاکستانی پرچم جلایا اور سینکڑوں افراد کو شہید کیا، جسے وہ سب سے بڑی غلطی قرار دیتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ پاکستان سنہ 2012 کی حالت پر واپس چلا گیا۔ افغانستان کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے 6 دن قبل انہیں 6 مرتبہ فون کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغان حکومت نے صرف ایک بات مانگی تھی کہ پاکستان میں افغانستان کی زمین سے کوئی دہشت گردانہ کارروائیاں نہ ہوں، لیکن صورتحال اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ بھی مدد کرنے کے باوجود بے بس محسوس کر رہے ہیں۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تمام مسائل کا پرامن حل چاہتا ہے اور خطے کے لیے پاکستان، ازبکستان اور افغانستان کے ٹرانس ریلوے منصوبے کو فائدہ مند قرار دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ بہترین تعلقات چاہتا ہے اور افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کاوشیں جاری ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ متحد ہو کر دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ 2012 اور 2013 میں ملک بھر میں دہشت گردی عروج پر تھی، ماضی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیے گئے اور مالی مشکلات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔
