ایک جدید طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ معمر افراد کے بعد اب نوجوانوں میں فالج کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کا اہم سبب موٹاپا اور پیں کلر ادویات کا زیادہ استعمال بتایا جاتاہے.
امریکہ میں کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2011 سے 2022 کے دوران 18 سے 44 سال کی عمر کے افراد میں فالج کے کیسز کی شرح میں 14.6 فیصد جبکہ 45 سے 64 سال کی عمر کے افراد 15.7 فیصد اضافہ ہوا۔اس عرصے میں ہر عمر کے افراد میں فالج کے کیسز کی شرح میں 7.8 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔محققین نے بتایا کہ امریکہ میں موٹاپے اور درد کش ادویات کے بہت زیادہ استعمال کے باعث جوان افراد میں فالج کے کیسز کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔1999 سے 2018 کے دوران امریکہ میں مردوں میں موٹاپے کی شرح 27.5 فیصد سے بڑھ کر 43 فیصد جبکہ خواتین میں 41.9 فیصد تک پہنچ گئی۔
تحقیق کے مطابق 40 سے 59 سال کی عمر کے افراد میں موٹاپے کی شرح سب سے زیادہ 44.8 فیصد ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ 2006 سے 2015 کے دوران 45 سال سے کم عمر افراد میں فالج کے باعث اسپتال داخلے کی شرح میں اضافہ ہوا۔محققین کے مطابق وجوہات کو سمجھنے سے ہمیں اس کے پھیلاؤ کی روک تھام میں مدد ملے گی جبکہ مریضوں کے لیے بہترین علاج فراہم کرنا بھی ممکن ہوگا۔خیال رہے کہ فالج ایسا مرض ہے جو دنیا بھر میں اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔فالج کے شکار فرد کا فوری علاج نہ ہو تو موت کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کا خطرہ بڑھانے والے عناصر اور علامات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
Obesity and painkillers increase stroke rates in young adults، موٹاپے سے نوجوانوں میں فالج کی شرح بڑھنے لگی
