
بھٹو کیس کےحوالے سے صدارتی ریفرنس میں 9 معاونین مقرر
سپریم کورٹ نے ذوالفقار بھٹو کیس کے حوالے سے صدارتی ریفرنس میں 9 معاونین مقررکردیے ہیں اور جنوری تک مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی ہے۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ جنوری میں ریفرنس کی روزانہ سماعت ہو گی۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ختم شدہ کیس کو دوبارہ کیسے دیکھ سکتے ہیں؟
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی بینچ نے کی۔ 9 رکنی لارجربینچ میں جسٹس سردارطارق مسعود،جسٹس منصورعلی شاہ،جسٹس یحیٰی آفریدی،جسٹس امین الدین اورجسٹس جمال مندوخیل،جسٹس محمدعلی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے صدارتی ریفرنس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بھٹوکیس میں فیصلہ سناچکی اور نظرثانی بھی خارج ہوچکی، انہوں نے فاروق ایچ نائیک سے کہا کہ ایک معاملہ ختم ہوچکا ہے، عدالت کو یہ تو بتائیں اس کیس میں قانونی سوال کیا ہے؟ فیصلہ برا تھاتوبھی سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہے،اسے بدلا نہیں جاسکتا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے آرٹیکل186کےتحت سپریم کورٹ کے کسی حتمی فیصلےپر نظرثانی نہیں کی جاسکتی ، اٹارنی جنرل بتائیں اس معاملے پرکون سےقانونی سوالات ہیں جن کافیصلہ کرنا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے حج نے کہا کہ اس پر تو سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے مزید کتنے ریویوکرینگے ، صدر مملکت نے کہہ دیا کہ یہ عوامی اہمیت کا معاملہ ہے، ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کون ساقانونی جواز ہے کہ سپریم کورٹ کارروائی کرے، جو بھی فیصلہ کیاگیا اس وقت کے قوانین کے مطابق کیا گیا،موجودہ صورت حال میں کون سا قانونی معاملہ ہے جس پر عدالت فیصلہ دے۔
جسٹس منصورعلی شاہ کا کہنا تھا کہ آپ کہہ رہے ہیں مارشل لا دورمیں عدلیہ آزادانہ کام نہیں کرتی ، آپ کو ثبوت دینا ہوگا کہ مارشل لادورمیں عدلیہ آزاد نہیں تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ساتھی جج نے انتہائی اہم سوالات اٹھائے ہیں، اب تک دو سوالات اٹھے ہیں ایک آئینی اور دوسرا فوجداری قوانین کا، ہمیں دونوں سوالات پر عدالتی معاونت کی ضرورت پڑے گی۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور اور ان کے والد آصف زرداری بھی عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ سماعت کے آغاز پر عدالت نے ریفرنس میں پیش ہونے والے وکلا کے نام لکھ لیے، چیف جسٹس نے فاروق نائیک سے مکالمہ کیا کہ آپ کی درخواست سے پہلےہم نے لائیو نشریات کا فیصلہ کر لیا تھا۔ہرقانونی وارث کا حق ہے کہ اسے سنا جائے۔
9 assistants appointed in presidential reference regarding Bhutto case,بھٹو کیس کےحوالے سے صدارتی ریفرنس میں 9 معاونین مقرر