کوہسار نیوز رپورٹ
لندن میں لیگی قائد میاں نواز شریف کے ساتھ ملاقات بھی شاید خاقان عباسی کے موقف میں تبدیلی نہ لا سکی۔اس حوالے سے توقعات غلط ثابت ہوئیں اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پہلے سے زیادہ سخت موقف کے ساتھ سامنےآئے ہیں۔
میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نئی جماعت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ انتخابات کے حق میں نہیں ہے کیونکہ الیکشن مسئلے کا حل نہیں ہے اس سے پہلے نظام کو درست کرنا ضروری ہے۔

21 اکتوبر کو مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کے استقبال کے حوالے سے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وہ استقبال کے قائل نہیں ہیں تاہم ان کے حلقہ انتخاب سے لوگ نواز شریف کے استقبال کے لیے لاہور جائیں گے۔
شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ نواز شریف کے ساتھ ان کا 35 سالہ تعلق ہے جو سیاست سے بالاتر ہے۔نواز شریف کے ساتھ جو زیادتی کی گئی اس کا ازالہ ضروری ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف سینیئر ترین سیاست دان ہیں، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اگے کے راستے کا تعین کریں اور اس کے لیے سب کو قائل کریں۔
واضح رہے کہ مریم نواز کے چیف آرگنائزر بننے کے بعد شاید خاقان عباسی نہ صرف پارٹی سے دور ہو گئے ہیں بلکہ وقت” فوقتا” نون لیگ پر تنقید بھی کرتے رہتے ہیں۔قبل ازیں وہ نواز لیگ کو کسی صورت نہ چھوڑنے کے عزم کا اظہار کرتے تھے تاہم اب وہ اور ان کے ساتھی نئی جماعت کے قیام کو ناگزیر قرار دیتے ہیں۔ان کے دیگر ساتھیوں میں نمایاں ترین مصطفی نواز کھوکر اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ لیگی قیادت خود کھل کر شاہد خاقان عباسی کے خلاف بیان دینے سے گریز کر رہی ہے تاہم نواز لیگ کے قریبی سمجھے جانے والے کئی صحافی یہ فریضہ انجام دے رہے ہیں اور شاہد خاقان عباسی اور ان کے ساتھیوں کو مختلف وی لاگز اور تحریروں میں ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ شاید حقان عباسی نہ صرف طیارہ سازش کیس میں نواز شریف کے ساتھ ایک ہی الزام کے تحت جیل بھگت چکے ہیں بلکہ شریف برادران کے جدہ چلے جانے کے بعد بھی وہ کافی عرصے تک جیل کاٹتے رہے ہیں۔
تحریک انصاف کی حکومت کے دوران بھی شاہد خاقان عباسی نواز لیگ کے ان چند نمایاں ترین رہنماؤں میں سے ایک تھے جنہیں نیب کے ذریعے گرفتار کر کے قید تنہائی میں رکھا گیا اور بیماری کے باوجود گھر سے کھانا منگوانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔اس دوران شاہد خاقان عباسی کو مختلف قسم کی پیشکشیں بھی ہوتی رہیں تا ہم انہوں نے جرات اور ثابت قدمی سے نواز لیگ کا ساتھ دیا۔
نئی پارٹی کے نام پر کسی اور کا گیم کھیل رہے ہیں؟
دوسری طرف نواز لیگ کے اندر موجود شاہد خاقان عباسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ دراصل نئی پارٹی کے نام پر کسی اور کا گیم کھیل رہے ہیں ورنہ نواز لیگ نے انہیں وزیراعظم بنانے سمیت ہر مرحلے پر عزت اور مقام دیا یہاں تک کہ اپنےآبائی حلقے مری کہوٹہ سے الیکشن ہارنے کے بعد انہیں ضمنی انتخاب میں لاہور سے جتوایا گیا۔تا ہم دلچسپ بات یہ ہے کہ نواز لیگ کے سینیئر رہنما بھی کھل کر شاہد خاقان عباسی کے خلاف لب کشائی کے لیے تیار نہیں ہیں جس کا سبب یہ ہے کہ مسلم لیگ کے ساتھ شاہد خاقان عباسی کا تعلق اتنا ہی قدیم ہے جتنا خود شریف برادران کا ہے۔
یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ جہاں سابق گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی کو نواز شریف کو سیاست میں متعارف کرانے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے وہیں شاہد خاقان عباسی کے والد خاقان عباسی اس کریڈٹ میں برابر کے حقدار ہیں جو اس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کی کابینہ کے اہم ترین رکن تھے اور صدر کے ساتھ ذاتی دوستی کے باعث ان کی کوئی بھی سفارش ٹالی نہیں جا سکتی تھی۔تاہم خاقان عباسی نے بطور وزیر اور مجلس شوری کے رکن کے کبھی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا۔
Shahid Khaqan Abbasi all set to form a new party?شاہد خاقان عباسی نئی جماعت بنانے پر تل گئے؟


