ایبٹ آباد کی یونین کونسل بیروٹ کے گاؤں ملکوٹ میں ایک انوکھا واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک ڈاکٹر کو شراب کی سپلائی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے، اور اس کے کلینک سے شراب کی دس بوتلیں برآمد کر لی گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار ڈاکٹر کو بکوٹ تھانے منتقل کر دیا گیا تاہم شراب لانے اور سہولت کار کا کردار ادا کرنےوالے ٹیکسی ڈرائیور کو مبینہ طور پر مٹھی گرم کئے جانے کے بعد معمولی پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ڈاکٹر کی رہائی کے لیے تھانہ بکوٹ میں سفارشی عناصر نے ڈیرے ڈال لئے ۔ تاہم علاقے کے عوام کا کہنا ہے کہ سرکل بکوٹ کے تمام علاقوں میں شراب اور منشیات فروش عناصر نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں، جو نوجوان نسل کی رگوں میں زہر منتقل کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر لوگوں کی علاقہ پولیس کی سرپرستی اور پشت پناہی حاصل ہے جس کا سد باب کئے جانے تک چھوٹی موٹی کارروائیاں غیر موثر اور بے معنی ثابت ہوں گی۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ بکوٹ پولیس منشیات فروشوں کی سرکوبی کیلئے مری پولیس کا بھی تعاون حاصل کرے کیونکہ شراب، چرس ، آئس اور دیگر منشیات کا بڑا حصہ پنجاب کے مختلف علاقوں اور شہروں سے سمگل کر کے لایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے خاص طور پر نیٹ ورک میں شامل ٹیکسی اور دیگر ٹرانسپورٹ ڈرائیورز کا سراغ لگانا ضروری ہے۔
دریں اثناء ڈاکٹر کی گرفتاری کے حوالے سے چیئرمین ویلیج کونسل ملکوٹ سیف اللہ عباسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور عاطف عباسی کاشراب کی سپلائی سے کوئی تعلق نہیں کیوںکہ ٹیکسی میں کوئی بھی مسافر بیٹھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی کوہالہ پولیس نے آزاد کشمیر پولیس کے تعاون سے کی ہے کہ مذکورہ ڈاکٹر آزاد کشمیر میں بھی اسی قسم کی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزم کو ملکوٹ سے گرفتار کیا گیا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ علاقے میں منشیات یا شراب فروشی سمیت کسی قسم کی منفی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔
