اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

صدر مملکت عملے کو الزام نہ دیں اپنے عمل کے وہ خود ذمہ دار ہیں، وزارت قانون

صدر مملکت عملے کو الزام نہ دیں اپنے عمل کے وہ خود ذمہ دار ہیں، وزارت قانون

صدر مملکت عملے کو الزام نہ دیں اپنے عمل کے وہ خود ذمہ دار ہیں، وزارت قانون
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت کی ٹویٹ پر کہا ہے کہ انہوں نے اپنے ہی عملے کو مورد الزام ٹھہرانے کا انتخاب کیا، صدر مملکت کو اپنے عمل کی ذمہ داری خود لینی چاہیے۔
آرمی ترمیمی بل اور آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل کی منظوری سے متعلق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی ٹویٹ پر وزارت قانون و انصاف کا ردعمل سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں کورونا کی نئی قسم دریافت، مختلف ممالک میں لوگوں کو متاثرکرنے لگی

وزارت قانون و انصاف کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 75 کے مطابق جب کوئی بل منظوری کے لیے بھیجا جاتا ہے تو صدر مملکت کے پاس دو اختیارات ہوتے ہیں، یا تو وہ بل کی منظوری دیں یا وہ مخصوص تحفظات کے ساتھ معاملہ پارلیمنٹ کو واپس بھیج دیں، آرٹیکل 75 صدر مملکت کو کوئی تیسرا آپشن فراہم نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں : صدر مملکت کی آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی بل پر دستخط کی تردید
وزارت قانون نے کہا ہے کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل کے معاملے میں کسی بھی اختیار پر عمل نہیں کیا گیا بلکہ صدر مملکت نے جان بوجھ کر منظوری میں تاخیر کی، بلوں کو تحفظات یا منظوری کے بغیر واپس کرنے کا اختیار آئین میں نہیں دیا گیا، ایسا اقدام آئین کی روح کے منافی ہے، اگر صدر مملکت کو بل پر تحفظات تھے تو وہ اپنے تحفظات کے ساتھ بل واپس کر سکتے تھے جیسا کہ انہوں نے ماضی میں کئی بار کیا۔
وزارت قانون نے مزید کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ایک پریس ریلیز بھی جاری کر سکتے تھے، یہ تشویش ناک امر ہے کہ صدر مملکت نے اپنے ہی عملے کو مورد الزام ٹھہرانے کا انتخاب کیا، صدر مملکت کو اپنے عمل کی ذمہ داری خود لینی چاہیے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481