اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

شاہ محمود عدالتی حکم پررہا۔تحریک انصاف کی قیادت سنبھالیں گے؟

Shah Mahmood Qureshi Pak foreign min 696x392 1

لاهور ہائی کورٹ کے حکم پر رہائی کے فورا” بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ان کے ہاتھ میں اب بھی انصاف کا پرچم ہے، یعنی وہ تحریک انصاف کو نہیں چھوڑیں گے۔
مبصرین کے مطابق شاہ محمود قریشی اس امر کے لئے پر امید ہے کہ عمران خان کی ممکنہ نااہلی یا مائنس ون فارمولے کے تحت ان کے سیاسی منظر نامے سے ہٹ جانے کی صورت میں تحریک انصاف کی قیادت ان کے ہاتھ میں آ سکتی ہے۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان خود اپنی نااہلی کی صورت میں شاہ محمود قریشی کو جانشین مقرر کرنے کا اعلان کر چکے ہیں ۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی ماضی میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ سے وابستہ رہنے کے بعد تلخ یادوں کے ساتھ وہاں سے رخصت ہوئے تھے لہٰذا ان دونوں جماعتوں میں ان کی شمولیت کا کوئی امکان نہیں۔ تیسرا آپشن جہانگیرترین کے گروپ میں شمولیت کا ہے ، تاہم شاہ محمود قریشی کے معاملے میں یہ آپشن بھی قابل عمل نہیں ہے کیونکہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں رہنما ماضی میں ایک جماعت میں رہنے کے باوجود ایک دوسرے کے بد ترین حریف رہ چکے ہیں۔

Jahangir Tareenتمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

تحریک انصاف کی حکومت کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان شدید کشمکش جاری رہی اور عام پارٹی کارکن بھی جانتا تھا کہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی سربراہی میں دو گروپ علیحدہ علیحدہ کام کر رہے ہیں۔ بعد ازاں عدالت کی جانب سے جہانگیر ترین کی نااہلی کا فیصلہ آنے کے بعد شاہ محمود قریشی کا راستہ صاف ہو گیا ،جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ اور اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنا وزن ان کے پلڑے میں ڈال دیا اور جہانگیر ترین پارٹی کو خیرباد کہہ کر گھر بیٹھ گئے تھے۔ اب وہ ایک بار پھر تحریک انصاف کے منحرفین کے گروپ کی قیادت کر رہے ہیں مگر اس گروپ میں محمود قریشی کی شمولیت کا بظاہر کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی تحریک انصاف کی قیادت سنبھالنے کے خواہشمند واحد امیدوار نہیں ہیں بلکہ اس حوالے سے دو تین اور لوگ بھی سرگرم ہیں۔  حال ہی میں تحریک انصاف سے منحرف ہونے والے فیاض چوہان نےگزشتہ روز انکشاف کیاکہ شاہ محمود قریشی کے علاوہ ان کی اہلیہ بھی تحریک انصاف کی قیادت سنبھالنے کی خواہش مند ہیں ، جبکہ اس دوڑ میں عمران خان کی ہمشیرہ بھی شامل ہوگئی ہیں ۔ اس کے علاوہ جارحانہ سیاسی طرز عمل اختیار کرنے والے عمران خان کے بھانجے حسان نیازی بھی پارٹی کی قیادت کے امیدوار ہیں جو لاہور کے جناح ہاؤس پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کے کیس میں پولیس کو مطلوب اور روپوش ہپیں۔ تاہم فی الوقت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان میں سے کون اپنے خوابوں کو عملی تعبیر دے سکے گا البتہ موجودہ حالات میں شام محمود قریشی ہی اس عہدے کے لیے موزوں تصور کیے جا رہے ہیں بشرطیکہ عمران خان کسی وجہ سے قیادت سنبھالنے کے اہل نہ رہیں۔

شاہ محمود قریشی عدالتی حکم پر رہا

 

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمودقریشی کو فوری رہاکرنے کا حکم دے دیا جس کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں کیس کی سماعت کے سلسلے میں شاہ محمودقریشی کی جانب سے وکیل تیمور ملک اور ان کی بیٹی گوہربانو قریشی عدالت میں پیش ہوئے جبکہ سرکار کی طرف سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عابد عزیز راجوری پیش ہوئے۔

عدالت نے شاہ محمود کی فوری رہائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی اور ایم پی او آرڈرکے تحت گرفتار نہ کیا جائے۔عدالت نے ڈی سی راولپنڈی کے تھری ایم پی او آرڈر کالعدم قرار دے دیے اور شاہ محمود قریشی سے کسی قسم کا شورٹی بانڈ جمع کرانے کی ہدایت نہیں کی۔واضح رہےکہ شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے بعد تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر 23 مئی کو رہائی عمل میں آئی تھی لیکن اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد انہیں ایک بار پھر پولیس نے گرفتار کرلیا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481