اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

فواد چوہدری رہا۔شیریں مزاری اور فلک ناز دوبارہ گرفتار

سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کے شوہر انتقال کر گئے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نےتحریک انصاف کے رہنما اور ترجمان  فواد چوہدری کو رہا کرنے کا حکم دے دیاجس کے بعد ان کی رہائی بھی عمل میں آ گئی،قبل ازیں پولیس نے انہیں دوبارہ پکڑنے کی کوشش کی تھی، جبکہ گرفتاری کے خوف سے فواد چوہدری کو میڈیا کیمروں کے سامنے بھجاگتے بھی دیکھا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی رہنما سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری اور فلک ناز کو اسلام آباد پولیس نے دوبارہ گرفتار کرلیا ہے۔ شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے ٹوئٹ میں بتایا کہ اسلام آباد پولیس نے ان کی والدہ  اور فلک ناز کو دوبارہ گرفتار کرلیا۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس اڈیالہ جیل کے باہر سے شیریں مزاری اور فلک ناز کو لے کر چلی گئی۔خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے شیریں مزاری اور سینیٹر فلک ناز کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ میں فواد چوہدری کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے فواد چوہدری کو عدالت میں پیش کرنےکا حکم دیا۔فواد چوہدری کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری بکتربند گاڑی میں موجود ہیں۔عدالتی  حکم پر فواد چوہدری کو عدالت میں پیش کردیا گیا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے ایک آرڈر جاری کیا جس پر عمل نہیں ہوا، آرڈر نہ آئی جی اسلام آباد اور نہ ہی کسی اور نے دیکھا، جب آپ نے انہیں پکڑا تو اس وقت آرڈر دکھایا گیا، آپ کے پاس آرڈر کی تصدیق کے کئی طریقے تھے، 9 مئی خوشگوار دن نہیں تھا، خدشات درست تھے۔عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست گزار رہائی کے بعد انڈر ٹیکنگ دیں کہ وہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی نہیں کریں گے، یہ بھی یقین دہانی کرائیں کہ قانون کی خلاف ورزی نہیں کریں گے، انڈر ٹیکنگ کی خلاف ورزی ہوئی تو ان ارکان پارلیمان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو گی، اس بنیاد پر ارکان پارلیمان نا اہل بھی ہوسکتے ہیں، عدالت وقت دے رہی ہےکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اورآئی جی اس معاملے کو دیکھیں۔

2333810 fawad 1654861013 754 640x480 1

۔ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری کو کسی مقدمے میں گرفتار نہیں کیا گیا، اگرکسی مقدمے میں گرفتاری ہوتی تو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہوتا، عدالت نے کسی بھی مقدمے میں گرفتاری سے روکا تھا، اگر مقدمے میں گرفتار کرتے تو میں بھی رہائی کا کہتا، عدالت نے جس پٹیشن پرگرفتاری سے روکا اس میں بھی ڈی سی فریق نہیں تھے، فواد چوہدری نے اپنے کنڈکٹ سے ثابت کرنا ہے کہ وہ پرامن شہری ہیں، 9 مئی کے واقعات میں قوم کا اربوں روپےکا نقصان ہوا۔جسٹس گل حسن اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ہم ان کے خلاف کارروائی سے تو نہیں روک رہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ میں پہلے سارا دن ہائی کورٹ میں تھا اور اگلے تمام دن سپریم کورٹ میں رہا۔ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ عمران خان کے کیس میں عدالت نے گرفتاری سے روکتے ہوئے ایم پی او کا الگ سے ذکرکیا، اگر وہ صرف مقدمات میں گرفتاری روکتے تو ایم پی اوکے تحت گرفتاری ہوسکتی تھی۔وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر کو اب تو ہائی کورٹ کے حکم سے متعلق معلوم ہوگیا، عدالت فواد چوہدری کی گرفتاری روکنےکے حکم میں توسیع کردے، فواد چوہدری کو متعلقہ عدالت سے رجوع کرنےکی مہلت دی جائے۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا پولیس کو فواد چوہدری کو گرفتاری سے روکنےکی کوئی دستاویز دکھائی گئی؟بابر اعوان کا کہنا تھا کہ آرڈر سنایا گیا تو پولیس افسر نےکہا کہ مجھے انگریزی نہیں آتی، فواد چوہدری کو جن خدشات پر گرفتار کیا گیا ان کا مواد موجود ہی نہیں۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481