کیا فلاحی کام سرمائے کے بغیر ممکن نہیں ہیں؟

کیا فلاحی کام سرمائے کے بغیر ممکن نہیں ہیں؟

مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
(میر تقی میر)

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

لَقَد خَلَقنَا الِانسَانَ فِی أَحسَنِ تَقوِیمٍ۔
(التین۔۔٤)
یقینا ہم نے انسان کو بہترین شکل میں پیدا کیا۔

انسان، جو اشرف المخلوقات ہے، روح اور جسم کا مرکب ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کے مادی وجود کی بقا کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے روحانی وجود کی صحت کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ناگزیر ہے۔ بدقسمتی سے آج کے انسان نے اپنے روحانی وجود کو یکسر فراموش کر دیا ہے۔  حال آنکہ جب انسان عرفان ذات کے مراحل طے کر لیتا ہے تو وہ عرفان کائنات سے ہوتا ہوا عرفان الٰہی کی منازل طے کرنے کے قابل ہو جاتا ہے ۔۔۔

جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پرِ رُوح الامیں پیدا
اقبال

آج کا انسان اپنے روحانی وجود کو یکسر نظر انداز کرنے کی وجہ سے مادیت پرستی کی دلدل میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ اس کی سوچ مال و اسباب اور سرمایہ و دولت کی اسیر ہو کر رہ گئی ہے۔ حال آنکہ انسان کی اصل طاقت تو روحانی وجود ہے۔ اگر انسان اپنی روحانی بالیدگی پر مکمل توجہ دے تو وہ اس درجہ پر فائز ہو سکتا ہے کہ یہ جہاں کیا چیز ہے، لوح و قلم اس کے ہو جائیں۔

انسان معاشرتی حیوان ہے۔ اس کو پیدا ہی درد دل کے واسطے کیا گیا ہے۔ اس لیے فلاح و رفاہ ہر انسان کے لیے کار ضروریہ ہے اور اس کا انحصار فقط مال و اسباب پر نہیں ہے۔  معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے والی کئی ایسی سرگرمیاں ہیں جن کے لیے بہت زیادہ وسائل کی ضرورت نہیں اور معاشرے کا ہر فرد اپنی بساط کے مطابق اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔

وقت
وقت اس کائنات میں سب سے قیمتی چیز ہے۔ جب تک سانسوں کی آمد و رفت جاری ہے یہ دولت بے بہا آپ کے پاس موجود ہے۔  آپ روزانہ کچھ منٹ، ہفتہ وار کچھ گھنٹے یا ماہانہ کچھ دن فلاح عامہ کے لیے وقف کر کے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔  آپ کسی فلاحی تنظیم میں شریک ہو کر بھی یہ کام کر سکتے ہیں اور ذاتی طور پر بھی۔ آپ آن لائن تدریسی خدمات سر انجام دے سکتے ہیں۔ سماجی مسائل پر وی لاگ بنا سکتے ہیں۔ اپنے تجربات شیئر کر سکتے ہیں۔

ماحول
ماحول کے حوالے سے آگاہی عام کرنا بہت بڑا کار خیر ہے۔ پھل دار پودوں کی شجر کاری اور پیوند کاری کی مہم چلا کر ہم نہ صرف ماحول دوستی کا ثبوت دے سکتے ہیں بلکہ اس سے قومی اور مقامی معیشت کو بھی مضبوط کیا جا سکتا ہے۔  مثلا زیتون کی شجر کاری و پیوند کاری سے جہاں زر مبادلہ کی بچت ہو گی وہیں یہ ماحول کی بہتری اور امراض میں کمی کا ذریعہ بنے گی۔ خاص بات یہ ہے کہ اس کی پیوند کاری پر اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

آلودگی ہمارے عہد کا بہت بڑا مسئلہ ہے اس کی کئی صورتیں اور سطحیں ہیں۔  ہمیں آلودگی میں کمی کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔  بچوں کو بھی اس ضمن میں تربیت دی جائے۔  پلاسٹک کی تھیلیاں، بوتلیں، ڈائپر اور دوسرا مواد بھی آلودگی کا ذریعہ ہیں۔ ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ ہوا کو آلودہ کرنے والی ساری سرگرمیاں اور جنگلات کی تباہی کرہ ارض پر انسانی وجود کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

آلودگی کی ایک بڑی قسم شور بھی ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اسے آلودگی ہی نہیں سمجھتے۔ گھر میں یا گاڑی میں ہوفر نصب کر کے کان پھاڑ دینے والی آواز میں موسیقی لگانا اکثر لوگوں کا وطیرہ ہے۔  ہمارے نوجوان موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال کر بھانت بھانت کے ہارن بجاتے ہوئے پوری رفتار سے گلیوں اور سڑکوں پر موٹر سائیکل چلانا کار ثواب سمجھتے ہیں۔  اسی طرح رکشوں اور سوزوکی گاڑیوں میں ٹرین کے ہارن نصب کیے گئے ہیں۔ سوزوکی گاڑیوں کے پائیدان کے ساتھ زنجیروں اور چادر کے پتروں کے ذریعے سجاوٹ کی جاتی ہے۔ جب سواریاں پائیدان پر گھڑی ہوں تو یہی پترے زمین سے ٹکراتے ہیں اور پھر شور کا وہ طوفان بدتہذیبی برپا ہوتا ہے کہ الحفیظ و والامان۔ اگر ہر علاقے کے باشعور لوگ پولیس کو درخواست پیش کر دیں اور میڈیا اور سوشل میڈیا پر مہم چلائی جائے تو چند دنوں میں یہ شور ختم نہ ہو تو بھی اس میں خاطر خواہ کمی ضرور آ سکتی ہے۔

عاجزی، محبت اور انسان دوستی
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اچھی بات اور مسکراہٹ بھی صدقہ ہے۔ آج ہم معاشرے میں رہتے ہوئے بھی تنہائی کا شکار ہیں۔ استاد گرامی جناب یوسف حسن نے فرمایا تھا۔۔۔

آج ہم آپس میں بھی ملتے نہیں، کھلتے نہیں
کس بلا کا خوف اپنے درمیاں رکھا گیا

یا پھر ندا فاضلی نے آج کے انسان کی تنہائی اور بیگانگی کا نقشہ یوں کھینچا ہے۔۔۔

ہر طرف، ہر جگہ، بے شمار آدمی
پھر بھی تنہائیوں کا شکار آدمی

غرور و تکبر تو ویسے بھی فانی مخلوق کو زیبا ہی نہیں۔ اس لیے انسان کے لیے عجز کا زیور ہی مناسب ہے۔ جو عاجزی اختیار کرتا ہے اور مخلوق سے محبت کرتا ہے وہ عزت و توقیر کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ بڑے لوگوں کا ایک مشترکہ وصف انسان دوستی ہے۔ سب انسان اللہ کا کنبہ ہیں۔ رب رحیم و کریم سب انسانوں سے محبت کرتا ہے۔۔۔

یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
اقبال

مثبت انداز فکر اور رویے
آج ہمارا سماج منفی سوچ اور رویوں کی وجہ سے شکست وریخت کا شکار ہے۔ کائنات کے بارے میں ایک فلسفہ یہ بھی ہے کہ یہ مقناطیسی شعاؤں کا مجموعہ ہے۔ جب کوئی دماغ سوچتا ہے تو کائنات میں مخصوص قسم کی شعائیں پھیلتی ہیں۔ اگر یہ شعائیں مثبت ہیں تو تمام مثبت انداز فکر رکھنے والے اذہان ان سے اجتماعی طور پر متاثر ہوتے اور استفادہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر مجموعی طور پر انداز فکر اور رویے منفی ہوں تو کائنات کا امن اور سکون تباہی سے دوچار ہو جاتا ہے۔ اس کی بدترین شکل جنگیں ہیں۔
سوچ اور رویوں کو مثبت رکھنے پر کوئی خرچ نہیں آتا۔ لوگوں سے مسکرا کر ملنے کے لیے کسی قسم کا کوئی مہنگا پیکج کروانے کی ضرورت نہیں۔  ہمارے عہد طالب علمی میں کئی میل پیدل چل کر سکول جانا پڑتا تھا۔ پھر پہاڑی علاقہ اور دشوار رستے۔ لیکن ہماری تربیت یوں کی گئی تھی کہ آپ سے عمر میں بڑا شخص کوئی پوٹلی یا سامان اٹھائے ہوئے اسی سمت میں چل رہا ہو جس میں آپ جا رہے ہیں تو اس کا سامان دیر اور دور تک اٹھا کر چلنے میں اس کی مدد کریں۔  آج تو بچے بڑوں کو سلام کرنا تک گوارا نہیں کرتے کیونکہ تعلیم سے تربیت کا عنصر نکال دیا گیا ہے۔  اس لیے مثبت انداز فکر عام کیجیے۔  اپنے اور اپنے اہل خانہ کے رویے مثبت بنائیے۔  دوسروں کو بھی متوجہ کیجیے تاکہ نئی نسلوں کو مہذب اور ذمہ دار انسان بنانے میں مدد مل سکے۔

قرآن فہمی

گر تو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بہ قرآں زیستن
اقبال

قرآن دستور حیات اور حکمت و دانش کا منبع ہے۔  من حیث الامت ہمارے زوال کی بڑی  وجہ کیا ہے؟

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
(جواب شکوہ ۔۔ علامہ اقبال)

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود بھی قرآن فہمی کے لیے سنجیدہ عملی کوشش کریں اور اسے اپنے گھر اور علاقے میں عام کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

مخلوق کے لیے نفع بخش بنیے
ہماری رہنمائی کی گئی ہے کہ بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں کے لیے نفع بخش ہو۔ آپ جہاں رہتے ہیں وہاں اس طرح رہیں کہ دوسروں کو آپ کی وجہ سے فیض پہنچے نہ کہ لوگوں کا جینا اجیرن ہو جائے۔ کسی کی مدد ہو سکتی ہے تو بہت اچھا ہے لیکن اگر ایسا ممکن نہیں تو کسی کو تکلیف دینے سے باز رہنے میں تو کسی مال اسباب اور سرمائے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے پاس علم ہے تو اسے عام کیجیے۔ کوئی ہنر جانتے ہیں تو اوروں کو سکھا دیجیے۔  کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کیجیے۔ ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کیجیے۔ اور ظالم کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے باز رہنے میں مدد کیجیے۔  اپنی فالتو کتابوں، کپڑوں، ادویات اور استعمال میں نہ آنے والے سامان سے سٹور بھرنے کے بجائے انھیں ضرورت مندوں میں تقسیم کر دینے سے آپ کے لیے سکون اور طمانیت کا سامان ہو گا۔

مقامی روزگار کو فروغ دیں
آپ جہاں رہتے ہیں وہاں کے مقامی روزگار کو فروغ دے کر آپ مقامی لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس ایسے کاروباری آئیڈیاز ہیں جن سے مقامی آبادی استفادہ کر کے خوشحالی کی راہیں استوار کر سکتی ہے تو اس ضمن میں ان کی ضرور مدد کریں۔ میڈیا، سوشل میڈیا اور آئی ٹی کے اس ہوش ربا دور میں یہ کام اب دشوار بھی نہیں رہا۔  آپ جس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اس کی مصنوعات، سبزیوں، پھلوں، دستکاریوں اور خاص ہنر کو فروغ دینے میں بغیر کوئی سرمایہ لگائے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مادری زبانوں کی بقا اور فروغ
ہمارے ملک میں ستر سے زیادہ مادری زبانیں بولی جاتی ہیں۔ یہ لسانی تنوع ہمارے ملک کی دیگر خوبصورتیوں کی طرح ایک حسن اور امتیاز ہے۔ زبانیں چھوٹی بڑی نہیں ہوتیں۔ کسی زبان کو کسی دوسری زبان سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ آپ اگر ساری مادری زبانوں کے فروغ کے لیے کچھ نہیں کر سکتے تو جو لوگ یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں ان کے ساتھ تعاون کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ اپنی مادری زبان کی بقا اور فروغ کے لیے جدوجہد کا حصہ بنیں۔ اپنی مادری زبان کے حوالے سے کسی احساس کمتری کا شکار نہ ہو۔  مادری زبان ایک فرد کی پہچان کی بنیادی اکائی ہوتی ہے اس لیے اپنی نئی نسلوں کو ان کی پہچان سے محروم نہ کریں۔

تعلیم و تربیت
معیار تعلیم بہتر بنانے کے لیے اساتذہ اور والدین کی کمیٹیوں کو فعال بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔  سکول/کالج لائبریری کے ساتھ بچوں کو مربوط کرنے کے لیے ہفتے میں ایک دن لائبریری کلاس رکھی جائے۔ سکولوں میں بزم ادب کا احیاء وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فروغ فکر اقبال کے لیے بھی کسی قسم کے فنڈز کے بغیر بھی کام کیا جا سکتا ہے۔ مثلا سکولوں سے گزارش کی جائے کہ وہ ہر روز بچوں کو اقبال کا ایک شعر درست تلفظ و ادائیگی اور ترجمہ و تشریح کے ساتھ سکھا دیں۔ سال میں اقبال کے حوالے سے دو تقریبات منعقد کریں۔ سکول لائبریری میں اقبال کی اور اقبال کے بارے میں کتابیں ضرور رکھیں۔ اگر کسی لائبریری میں کتب نہ ہوں تو ان کے لیے بندوبست ہو سکتا ہے۔
ٹیچرز ٹریننگ کا اہتمام بھی ممکن ہے۔ جب کہ مختلف ورکشاپوں کا بھی انعقاد ہو سکتا ہے۔  اہل علم، شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں کے خطبات کا سلسلہ بھی شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی کے حوالے سے بھی مختلف ورکشاپوں کا بندوبست ممکن ہے۔ سکالرشپ کے حوالے سے بھی ایک گروپ تشکیل دے کر طلبا کی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔

مکالمہ
سماج میں مکالمہ مفقود ہونے سے شدت پسندی اور پولارائزیشن کا عفریت ہماری نئی نسل کی صلاحیتوں کو تباہ کر رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی اداروں کے علاوہ دوسرے پلیٹ فارمز سے بھی صحت مند مکالمہ عام کیا جائے۔

عملی سماجی سرگرمی
مختلف علاقوں میں عام لوگوں، خصوصا نوجوانوں، کے ذریعے چھوٹے چھوٹے عملی سماجی کام کیے جائیں۔ جیسے ہلال احمر یا دوسری تنظیموں کو بلا کر خون کے عطیات دیے جائیں۔ ماحول کے حوالے سے آگہی عام کرنے کے لیے واک کا اہتمام ہو۔ شجر کاری کے حوالے سے سکولوں کے ذریعے بچوں میں شعور اجاگر کیا جائے۔

موضوع بہت طویل ہے لیکن اگر ہم آج سے مثبت انداز فکر اپنانے کا تہیہ کر لیں اور فلاح انسانیت کے اپنے اوقات وقف کر دیں تو بہت جلد اس سعی کے ثمرات دیکھ سکتے ہیں۔

IMG 20241027 171141 060 scaled

راشد عباسی ۔۔۔ راولپنڈی

ایک تبصرہ چھوڑ دو
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com