مقبوضہ کشمیر:رمضان میں بیہودہ فیشن شو کا انعقاد

مقبوضہ کشمیر:رمضان میں بیہودہ فیشن شو کا انعقاد
مقبوضہ کشمیر کے علاقے بارہ مولا گلمرگ میں رمضان المبارک کے دوران نیم برہنہ ماڈلز کے فیشن شو کو مقبوضہ وادی کے عوام کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔متعدد سیاسی و مذہبی رہنمائوں کی جانب سے فیشن شو کی سخت الفاظ میں مذمت۔
رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں نیم برہنہ ماڈلز کے فیشن شو کو مقبوضہ وادی کے عوام کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔اخلاقی اقدار کے منافی فیشن شو کرنے پر کشمیر کے عوام سخت غصے میں ہیں۔یہ شو بڑے پیمانے پر غم و غصے کا باعث بنا اور مذہبی رہنماؤں، سیاسی شخصیات اور سول سوسائٹی نے اس پر شدید ردعمل دیا۔جموں و کشمیر کے گرینڈ مفتی ناصر الاسلام نے پیر کے روز گلمرگ میں رمضان المبارک کے دوران منعقدہ فیشن شو کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیر کی ثقافت کے خلاف قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ نیم برہنہ مرد اور خواتین ریمپ پر چل رہے تھے، جو بالکل ناقابل قبول ہے، یہ ہمارے روایتی اور مذہبی اقدار کے خلاف ہے، اس کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسے سنگین اعمال اسلام میں ناقابل قبول ہیں، ہمیں شدید دکھ پہنچا ہے اور مرکزی حکومت کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے تاکہ جموں و کشمیر کی سرزمین پر اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
مقبوضہ کشمیر کے سیاسی رہنما میر واعظ عمر فاروق نے اتوار کے روز ایکس پر ایک پوسٹ میں اس فیشن شو کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں گلمرگ میں ایک فحش فیشن شو منعقد کیا گیا، جس کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد عوام میں شدید صدمہ اور غصہ پایا جا رہا ہے۔انہوں نے لکھا کہ کیا یہ وادی، جو صوفی ازم اور روحانی اقدار کے لیے مشہور ہے، میں برداشت کیا جا سکتا ہے؟ اس میں ملوث افراد کو فوراً جوابدہ بنایا جانا چاہیے، سیاحت کے فروغ کے نام پر اس طرح کی بے حیائی کشمیر میں کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔سماجی کارکن راجہ مظفر بھٹ نے اس ایونٹ کو کشمیر کی اخلاقی، مذہبی اور ثقافتی اقدار پر حملہ قرار دیا۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق تنازعے کی شدت کے پیش نظر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا۔جب یہ معاملہ سیاسی طور پر مزید سنگین ہو گیا تو معروف ڈیزائنر جوڑی شیوان اینڈ نریش نے معافی نامہ جاری کیا اور کہا کہ انہیں اپنی پریزنٹیشن کی وجہ سے کسی کو پہنچنے والی تکلیف پر شدید افسوس ہے۔شیوان بھاٹیا اور نریش ککریجا، جو دہلی سے تعلق رکھنے والے فیشن ڈیزائنرز ہیں، انہوں نے 7 مارچ کو اپنی اسکی ویئر کلیکشن پیش کی تھی، جو ان کے برانڈ کی 15ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔انہوں نے اپنے معافی نامے میں کہا کہ ہمیں اپنی حالیہ پریزنٹیشن کی وجہ سے گلمرگ میں رمضان المبارک کے دوران پہنچنے والی کسی بھی تکلیف پر دلی افسوس ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم ہر ثقافت اور روایت کا احترام کرتے ہیں اور اٹھائے گئے خدشات کو تسلیم کرتے ہیں، ہم اپنی کمیونٹی کے تاثرات کی قدر کرتے ہیں اور آئندہ مزید محتاط اور حساس رہنے کا عزم رکھتے ہیں
وزیراعلی ٰعمر عبداللہ نے میر واعظ کی پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عوامی غصہ بالکل بجا ہے، ان کا کہنا تھا کہ جو تصاویر میں نے دیکھی ہیں، وہ مکمل طور پر مقامی حساسیت کو نظرانداز کرتی ہیں، وہ بھی اس مقدس مہینے میں، میری ٹیم مقامی حکام سے رابطے میں ہے اور میں نے 24 گھنٹوں کے اندر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دی ہے، اس رپورٹ کی بنیاد پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی اسمبلی میں پیر کے روز عمر عبداللہ نے گلمرگ فیشن شو کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نجی پارٹی تھی، ایک فیشن شو وہاں منعقد کیا گیا۔ جو کچھ میں نے دیکھا، اس کی اجازت سال کے کسی بھی وقت نہیں دی جا سکتی، خاص طور پر رمضان المبارک میں تو ہرگز نہیں۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ ایک نجی تقریب تھی، جسے بغیر کسی سرکاری اجازت کے منعقد کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ نجی پارٹی تھی، حکومت کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا اور ہم سے کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی۔ اگر اس میں کوئی غیر قانونی سرگرمی ہوئی ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی، اگر ضروری ہوا تو معاملہ پولیس کے حوالے کیا جائے گا اور پولیس اس کی تحقیقات کرے گی۔عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ ایونٹ کے منتظمین نے عوامی جذبات کا خیال نہیں رکھا ۔