انٹرنیٹ کے مسائل فورا حل کیے جائیں

تحریر : راشد عباسی

انٹرنیٹ کے مسائل فورا حل کیے جائیں

images 50

فری لانسنگ کا انحصار انٹر نیٹ پر ہے۔ اور صرف انٹر نیٹ نہیں اچھی رفتار کے حامل انٹر نیٹ پر۔ اگر انٹر نیٹ بند ہو جائے تو فری لانسرز دیئے گئے ٹائم فریم میں اپنے پروجیکٹ مکمل نہیں کر سکتے کیونکہ اکثر کاموں میں انٹر نیٹ کے ذریعے مواد کی تلاش اور اے آئی کے ذریعے تحقیقی کام اور تصاویر وغیرہ کی تیاری کام کا حصہ ہوتی ہے اور پھر کام بھیجنے کے لیے بھی انٹرنیٹ ناگزیر ہوتا ہے۔

images 49

پاکستان میں صنعتی شعبہ کب کا قصہ پارینہ ہو چکا ہے۔ اس لیے روزگار کے مواقع کم ہوتے ہوتے نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ کاروبار ٹھپ ہو چکے۔ اگر کوئی ملازمت کا موقع ہوتا بھی ہے تو ایک ہدایت واضح الفاظ میں لکھی ہوتی ہے کی فلاح ادارے سے ریٹائرڈ فلاں عہدے کے افسران کے علاوہ کوئی فرد خواہ کتنا ہی قابل، تجربہ کار اور تخلیقی ذہن اور صلاحیتوں کا مالک کیوں نہ ہو وہ درخواست بھیجنے کی زحمت نہ کرے۔

اس بے روزگاری اور معاشی بدحالی کی پریشان کن صورت حال میں آن لائن کاروبار اور فری لانسنگ ہی سہارے کا کام دے رہے تھے ورنہ کم پڑھے لکھے اور غیر ہنر افراد کی طرح پڑھا لکھا اور ہنر مند طبقہ بھی خود کشی پر مجبور ہوتا۔

images 48

گزشتہ کچھ برسوں میں پڑھے لکھے اور باہنر نوجوانوں کی پاکستان چھوڑ کر دوسرے ممالک میں جا بسنے کی شرح میں ہزاروں گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ انٹر نیٹ کے ان مسائل کے بعد اس شرح میں مزید کئی ہزار گنا اضافہ ہو جائے گا۔ آج کل آپ کوئی بھی فورم دیکھ لیں پاکستان میں انٹر نیٹ، آن لائن کاروبار اور فری لانسنگ کے علاوہ اور کچھ بھی زیر بحث نہیں ہے۔

پاکستان کے تمام ذمہ دار ادارے اس حوالے سے بالکل خاموش ہیں یا یوں کہیے کہ فیصلہ سازوں کے شدید دباؤ میں ہیں۔ آپ اگر کسی سے کچھ پوچھنے کی کوشش کریں تو وہ پتلی گلی سے اس تیز رفتاری سے نکل کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے کہ جیسے اس نے منہ کھولا تو یہ اس کا کلام آخری ہو گا۔ کئی ماہرین کہتے ہیں کہ ریاستی اداروں کی جانب سے انٹرنیٹ فائر وال لگانے کی وجہ سے یہ سارے گھمبیر مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

images 52

انٹرنیٹ فائر وال ہمارے مرکزی انٹرنیٹ گیٹ وے پر لگائی گئی ہے تاکہ انٹرنیٹ ٹریفک کی نگرانی ہو اور ویب سائٹس اور سوشل میڈیا مواد کو کنٹرول یا بلاک کیا جا سکے۔ نیز ایسے لوگوں اور تنظیموں/گروہوں کا بھی پتہ لگایا جا سکے جو دی گئی ہدایات کے خلاف ممنوعہ مواد شیئر کرتے ہیں۔

فری لانسرز کا کہنا ہے کہ فائیور اور اپ ورک پر اب پاکستانی فری لانسرز کا کام بہت کم ہو گیا ہے۔ اس سے جہاں انفرادی طور پر ان ہنرمند افراد کا کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہےٹھیک ہے وہیں ملک میں آنے والے زرمبادلہ میں بھی گھمبیر کمی آ رہی ہے۔ ارباب اختیار کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہماری معیشت پہلے ہی وینٹی لیٹر پر ہے اور اگر فری لانسنگ کے ذریعے ملنے والی زر مبادلہ کی آکسیجن بھی چھن گئی تو پھر مریض کا اللہ ہی حافظ ہے۔

 

ایک تبصرہ چھوڑ دو
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com