آرٹیفشل انٹیلی جنس ، مستقبل کی دنیا یا دنیا کا مستقبل ؟
تحریر : فرحت عباس شاہ بشکریہ فیس بک

اب کوٸی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن اس کی گواہیاں آنی شروع ہوچکی ہیں کہ دنیا پر راج وہی قوتیں کریں گے جو آرٹیفشل انٹیلجنس میں آگے ہونگی ۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جاۓ گا انتہاٸی تیزرفتاری سے تعلیم سے لیکر انڈسٹری تک اور اقتصادیات سے لے کر جنگوں تک ایک ایک شعبہءزندگی میں انسانوں کی جگہ مصنوعی ذہانت رکھنے والی مشینیں نظر آنا شروع ہوجاٸیں گی ۔ حتی کہ روبوٹک انسان رشتوں کی جگہ لے لیں گے اور عام انسان اپنی معاشرت سمیت صحیح معنوں میں مشین کے قبضے میں چلا جاۓ گا ۔ جبکہ مشینوں کے مالکان اس تسلط کو پورے اعتماد سے ابجواۓ کر سکیں گے ۔
دنیا کا صاحب الراۓ طبقہ اگرچہ کلوننگ کی طرح مصنوعی ذہانت کے معاملے میں بھی تقسیم ہوچکا ہے لیکن جو قوتیں اسے اپنے لیے ضروری سمجھ رہی ہیں وہ ہزار دو ہزار ماہرین یا با اثر شخصیات کے دباٶ میں آۓ بغیر بڑی سرعت سے ریسرچ اینڈ ڈویلپمینٹ جاری رکھے ہوٸے ہیں ۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ خدشات ابھارنے والی تین باتیں ہر اعلیٰ سطح پر زیر بحث ہیں ۔ ایک تو ہیومن ریسورس کی ری پلیسمینٹ ، دوسری معاشرتی اخلاقی ویلیوز کی پوزیشن اور تیسری آرٹیفشل انٹیلیجنس کی ملیٹراٸزیشن کے خطرات کیونکہ اس میں کوٸی دو راٸے نہیں کہ آنے والے دنوں میں خاص طور پر وار انڈسٹری کا زیادہ تر انحصار آرٹیفشل انٹیلجنس پر بڑھتا دکھاٸی دے رہا ہے ۔
اس وقت مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر ریسرچ اینڈ ڈویلپمینٹ کا نتیجہ انسانی روبوٹس کو انسانوں سے زیادہ ایفیشینٹ بنانے کی کوشش میں ظاہر ہو رہا ہے خاص طور پر جنگی اور تجارتی روبوٹس تیزی سے مصنوعی ذہانت کے حامل بناٸے جا رہے ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت انہیں اپنے طور پر کام اور مشن انجام دینے کے قابل بنا سکتے ہیں۔
عسکری تناظر میں میں کی جانے والی پیش رفت جس بحث کو جنم دے رہی ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت کے حامل روبوٹس کو ایسے مشن انجام دینے کی اجازت دی جانی چاہیے جس میں کسی انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے کا امکان ہو۔ کیونکہ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی نٸی صورتحال میں علم ، تجزیے اور خصوصاً فیصلے کی ضرورت اور اس فیصلے کی ذمہ داری کے حوالے سے کیا انسان کی جگہ مصنوعی ذہانت پر انحصار کیا جا سکتا ہے ۔
تاریخی پس منظر
آرٹیفشل انٹیلیجنس یا مصنوعی ذہانت (AI)
کا آغاز 1940 کی دہائی میں ہوا جب ریاضیاتی استدلال یا لسان العداد
( Digital Language )
پر مبنی پروگرام کے مطابق چلنے والا ڈیجیٹل کمپیوٹر ایجاد ہوا۔ 1950 میں ایلن ٹورنگ نے ٹورنگ ٹیسٹ کی تجویز پیش کی تاکہ مشین کے ذہین رویے کو ظاہر کرنے کی صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکے جو انسان سے مختلف نہیں ہوتا۔
1956 میں ڈارٹ ماؤتھ کانفرنس کے دوران "مصنوعی ذہانت” کی اصطلاح وضع کی گئی، جہاں جان میک کارتھی، مارون منسکی، نتھینیئل روچیسٹر، اور کلاڈ شینن جیسے علمبرداروں نے انسانی ذہانت کی نقل کرنے کے لیے مشینوں کی صلاحیت پر بحث و مباحثہ اور تبادلہء خیال کیا۔
1960-1970 کے دورانیے میں ابتدائی مصنوعی ذہانت پر ہونے ہوالی تحقیق علامات کی مدد سے وضع کیے جانے والے طریقوں کے زریعے مسئلہ حل کرنے پر مرکوز تھی۔ جس کے نتیجے میں ELIZA جیسے پروگرام ( ایک ابتدائی قدرتی لینگویج پروسیسنگ سسٹم) نے اور مختلف مہارتیں رکھنے والے سسٹمز نے نمایاں پیشرفت کی۔
آرٹیفشل انٹیلیجنس یا مصنوعی ذہانت AI کی اقسام
مصنوعی ذہانت کو اس کی صلاحیتوں کی بنیاد پر ابتداٸی تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
1. کمزور یا محدود ذہانت جو کہ مخصوص اور ابتداٸی نوعیت کے کاموں کے لیے ڈیزائن کی گٸی ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ مشین کی مصنوعی ذہانت کے خطوط پر تربیت کی گٸی ہے ۔
مثال کے طور پر صوتی معاونت ۔ جس طرح ہم گوگل کو بول کے کچھ کہتے ہیں یا جی پی ایس سسٹم جو ہمیں بول کے راستہ بتاتا ہے یا جیسے Siri اور Alexa، اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر سجیشن کا نظام اور ای میل میں اسپام فلٹرز وغیرہ ۔
2. طاقتور یا عمومی ذہانت جسے آپ آسانی سے سمجھنے کے لیے کامن سینس بھی کہہ سکتے ہیں ۔ یہ ایک طرح کا مصنوعی شعوری یا آرٹیفشل ادراکی نظام ہے جو کسی بھی ایسے فکری کام کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے جو انسان کر سکتا ہے۔ یعنی تھاٹ پراسیس کی طرح چلنے والا نظام جس طرح انسان کسی آواز کو سن کر اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ گھوڑے کے ہنہنانے یا گاڑی کے ہارن کی آواز ہے ۔
یہ بڑی حد تک غیر نظریاتی ہے، جس میں بظاہر ابھی تک تو کسی طرح کا نظریاتی جھکاٶ یا موٸقف کا نفاذ نہیں کیا گیا لیکن انٹرنیشنل افٸیرز اور پولیٹیکل اکانومی کے خصوصی معاملات پر تحقیق کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اتنا ہی غیر نظریاتی ہوگا جتنا کہ یوٹیوب اور فیسبک سمیت سوشل میڈیا ہے۔
3. تیسری قسم سپر انٹیلیجنس ہے
جو کہ انسانی ذہانت اور صلاحیتوں سے بالاتر مصنوعی ذہانت ہے اور یہ وہی مصنوعی ذہانت ہے ، اہل بصیرت جس کو انسان ، انسانیت اور دنیا کے لیے خطرے کا باعث قرار دے رہے ہیں ۔ سپر آرٹیفشل انٹیلیجنس سے ایسے ایسے کام لیے جاسکتے ہیں جن کے بارے میں اب تک صرف کہانیاں ہی لکھی گٸی ہیں ۔ یہ اب تک کے انسانی نظریات کے لیے بھی اتنا بڑا تھریٹ ثابت ہوسکتی ہے جتنا بڑا ساٸنسی ترقی میں پوری دنیا کے لیے ۔ میرے ذاتی خیال کے مطابق سپر آرٹیفشل انٹیلیجنس کے زریعے پوری دنیا اور دنیا کی مخلوقات کو کنٹرول کرنے کے خواب دیکھے جا رہے ہیں ۔ یہ انسانی وجودی اور اخلاقی ہر طرح کی حیثیت کے لیے چیلنج ثابت ہوسکتی ہے ۔ انسان کے لیے سب سے بڑا خطرہ اور خوف موت میں ہے ۔ یہ قیاس کیا جانا غلط نہیں ہوگا کہ آرٹیفشل انٹیلیجنس کے زریعے موت کو چکمہ دینے کا منصوبہ بنا سکتا ہے ۔
مصنوعی ذہانت کا کلیدی ٹیکنالوجیز میں عمل دخل
مشین لرننگ (ML) مصنوعی ذہانت کا ایک ایسا
ایسا ذیلی سیٹ ہے جو الگورتھم کی ڈویلپمینٹ پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور مشینوں کو حاصل شدہ ڈیٹا سے سیکھنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ کسی نگران کی موجودگی اور غیرموجودگی دونوں صورتوں میں آموزش یعنی سیکھنے کے عمل کو جاری رکھتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس سے اگلی سٹیج مزید گہراٸی میں جا کر مشین کے سیکھنے کا پراسیس ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ مشین لرننگ کی ایک خصوصی شکل ہے جس میں کئی تہوں پر مبنی گہرے نیورل نیٹ ورکس کے اندر موجود نیورل نیٹ ورکس کی تعلیم شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت نے تصویر اور تقریر کی شناخت، قدرتی زبان کی پروسیسنگ، اور خود مختار ڈرائیونگ جیسے شعبوں میں انقلاب برپا کیا ہے۔
لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمینٹ کا کام اس سے اگلے پروگرام پر بھی فوکس کیے ہوۓ ہے جسے نیچرل لینگویج پروسیسنگ (NLP) کہا جاتا ہے ۔
انسانوں میں اعصابی اور حواس کے نظام کے زریعے دماغ کو جانے والے پیغامات اور اس کے مطابق دماغ کے ردعمل کو این ایل پی کہا جاتا ہے ۔ جس میں انسانی زبان کو سمجھنے، تشریح کرنے اور تخلیق کرنے کے خطوط پر مشینی اپلیکیشن کی زبان کا ترجمہ، جذبات کا تجزیہ کرنے جیسے ٹاسک یا صلاحیت شامل ہے اور اس کی مثال کے طور پر AI چیٹ بوٹس کو دیکھا جاسکتا ہے جو انتہاٸی تیزرفتاری سے سوال کو پراسس کرکے اس کا منطقی جواب دینے کی قابلیت حاصل کرچکے ہیں ۔
مزید یہ کہ یہ نظام بالکل انسانوں کے نیورو لنگوٸسٹک پروگرام کی طرح کام کرتا ہے ۔ مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی کٸی کمپنیاں ایسے روبوٹس بنا چکی ہیں جو انسانوں کو پہچاننے ان سے لاگ ان ( Login ) ہو کر پیشہ ورانہ اور دوستی کا رشتہ بنانے کی اہلیت رکھ سکتے ہیں ۔ اس وقت مصنوعی ذہانت کے ماہرین روبوٹس کے انسانوں کی طرح ردعمل اور ایکسپریشن پر کام کر رہے ہیں ۔ روبوٹکس کے ساتھ مصنوعی ذہانت کا انضمام دراصل ایسی ذہین مشینیں بنانے کے لیے بھی استعمال میں لایا جا رہا ہے جو انسانوں کی طرح جسمانی کام انجام دے سکیں۔ یہ ایپلیکیشنز انڈسٹریل آٹومیشن سے لے کر سروس روبوٹس اور خود مختار گاڑیوں تک پر مشتمل ہیں اور اسی طرح کمپیوٹر ویژن میں بھی مصنوعی ذہانت کے زریعے دنیا سے بصری معلومات کی کلیکشن ، تشریح اور سمجھنے کی مشینی صلاحیت میں بہت تیزی سے ترقی کی جا رہی ہے ۔ یہ اپلیکیشنز چہرے کی شناخت، آبجیکٹ کا پتہ لگانے، اور طبی تصویر کے تجزیہ میں بھی استعمال کی جا رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت تیزی سے مختلف صنعتوں اور روزمرہ کے معاملات کو تبدیل اور آسان بنا رہی ہے جس میں صحت کی دیکھ بھال کے لیے مصنوعی ذہانت رکھنے والی مشینوں کا استعمال ، بیماری کی تشخیص، ذاتی ادویات، منشیات کی دریافت، اور روبوٹک سرجری میں کیا جا رہا ہے۔ نتیجے کے طور پر دیکھا گیا ہے کہ مشین لرننگ الگورتھم بیماریوں کے پھیلنے سے روکنے کے لیے قبل از وقت انتباہ اور مریضوں کے نتائج کی پیشین گوئی کرنے کے لیے طبی ڈیٹا کا تجزیہ زیادہ تیزی اور قابلیت سے کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت اسی طرح فاٸنانس کے شعبوں میں فراڈ کا پتہ لگانے اور فنانشل اکاونٹس کے علاوہ ذاتی نوعیت کی تجارتی خدمات کو طاقت دے رہی ہے ۔ اسی طرح نقل و حمل کے شعبے میں بغیر ڈراٸیور کے گاڑیاں، ٹریفک مینجمنٹ سسٹم، اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی پیشین گوئی کی دیکھ بھال کا کام بھی سرانجام دے رہی ہے ۔ اسی طرح تفریح ، تعلیم اور کسٹمرسروس کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت نے وقت اور استعداد کے معاملات میں پیشوں کی معاونت کا کام بھی سنبھالنا شروع کر دیا ہے ۔
مصنوعی ذہانت کا عسکری استعمال
مصنوعی ذہانت کی ایک نئی لہر پوری دنیا کی فوجوں کی طرف سے کافی دلچسپی حاصل کر رہی ہے اور اس میں دلچسپی لینے والے ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد پہلے سے ہی فوجی صلاحیتوں کے لیے سرگرم عمل ہے اور اب تو یوں لگتا ہے کہ جس ملک کی ملٹری مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال میں پیچھے رہ گٸی اس کے لیے ملک کا دفاع کرنا مشکل ہوجاۓ گا ۔ اس حوالے سے معیشت کی طرح سب سے بڑا مقابلہ امریکہ اور چین کے درمیان ہے جبکہ باقی ممالک میں اسراٸیل ، روس ، فرانس ، جرمنی ، برطانیہ ، ایران ، پاکستان ، بھارت اور شمالی کوریا وغیرہ سر فہرست ہیں ۔
اگرچہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پاکستان نے فوج کے لیے معاونت حاصل کرنے کا کوٸی آفیشل اعلان نہیں کیا لیکن پاکستان کی وزارت ِ اطلاعات نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے اپنا پہلا مسودہ پیش کیا ہے لیکن اس میں بھی دفاع کے شعبے میں ایسی کسی پالیسی یا اقدامات کا اعلان نہیں کیا گیا ۔ البتہ بھارت ہمیشہ کی طرح اپنے ازلی و ابدی خوف کے باعث پاکستان پر نظر رکھے ہوۓ ہے ۔
AI INTEGRATION IN INDIAN MILITARY: APPRAISAL OF SECURITY APPREHENSIONS FOR SOUTH ASIA
Vol. 38 No. 1 (2024): NDU Journal
(Internet source )
کے مطابق پاکستان نےحالیہ برسوں میں
تکنیکی ترقی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور اپنے دفاعی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے انضمام کی جانب واضح قدم اٹھایا ہے ۔
فوجی ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت ایک ہی صفحے پر ہے، جس نے مصنوعی ذہانت کو فوجی طریقہء کار میں شامل کرنے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے ہیں۔
مزید برآں، پاکستان نے ابھی تک کوئی عوامی یا سرکاری دستاویز جاری نہیں کی ہے جس میں مصنوعی ذہانت کو اپنے دفاعی شعبے میں ضم کرنے کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر زور دیا ہو ۔ لیکن پاکستان کی سیاسی قیادت نے قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے ابھی تک ہونے والی حفاظتی پیش رفت کا میڈیا کے زریعیے اعلان کیا ہے ۔ بھارتی محققین نے یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ یہ کھوج لگانے میں ناکام رہے ہیں کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے فوجی میدان میں کتنا آگے نکل چکا ہے ۔ بھارتی خوف کے مطابق اگرچہ میڈیا میں ایسے منصوبوں کی صرف ایک محدود تعداد کا انکشاف ہوا ہے لیکن یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام سپر آرٹیفشل انٹیلیجنس کی سرویلنس اور حفاظت میں ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کے دفاعی شعبے سے منسلک انکشاف شدہ AI منصوبوں میں، نیشنل کمانڈ سینٹر (NCC) سب سے نمایاں ہے۔ این سی سی مکمل طور پر خودکار اسٹریٹجک کمانڈ اینڈ کنٹرول سپورٹ سسٹم (ایس سی سی ایس ایس) سے لیس ہے، جو این سی سی میں اعلیٰ کمان کو تمام اسٹریٹجک اثاثوں کا مسلسل ادراک رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ نیشنل سینٹر فار سائبر سیکیورٹی (NCCS) کو AI انٹیگریشن کے ذریعے سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں ترقی کو یقینی بنانے کا کام سونپا گیا ہے۔ مزید برآں، پاکستان نے نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس (NCAI) بنایا ہے جو نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) کے H-12 کیمپس میں واقع ہے۔ NCAI کو AI میں جدت، تحقیق اور ترقی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
2020 میں، پاکستان کے ائیر چیف نے سنٹر آف AI اینڈ کمپیوٹنگ (CENTRIC) کا افتتاح کیا، جو کہ AI کو پاک فضائیہ کے آپریشنل ماحول میں شامل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
سینٹرک پاکستان ایئر فورس کے لیے حسی فیوژن ٹیکنالوجی کی ترقی میں سہولت فراہم کرے گا جو کہ کیمروں اور ریڈارز سمیت متعدد ذرائع سے حسی ڈیٹا کو اکٹھا کرے گی، اس طرح پی اے ایف کو بڑی مقدار میں ڈیٹا کا تیزی سے تجزیہ کرنے کے قابل بنائے گا۔ سینٹرک مشین لرننگ، بگ ڈیٹا، پریڈیکٹیو اینلیسس، ڈیپ لرننگ اور نیچرل لینگویج پروسیسنگ (NLP) میں بھی تحقیق کرے گا۔ پاکستا ن میں ( UAVs) اور اس طرح کی ادارہ جاتی ترقی کے علاوہ AI پہلے سے ہی حفاظتی مقاصد کے لیے تقریباً تمام اسٹریٹجک اثاثوں میں کام کر رہا ہے، بشمول ڈیجیٹل ریٹینا اسکین، انگوٹھے کے نشانات اور چہرے کی شناخت کے سافٹ ویئر وغیرہ کا کام پہلے سے ہی شروع ہوچکا ہے ۔
پاکستان نے چین سے AI سے چلنے والے ملٹری سسٹمز بھی خریدے ہیں جن میں ونگ لانگ II UAV اور LY-80 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہیں۔ برسوں کے دوران، پاکستان نے UAVs میں نمایاں پیش رفت کی ہے، بشمول شاہپر، ابابیل، مخبر، عقاب اور براق، کیونکہ اس نے مقامی طور پر UAVs38 تیار کیے ہیں۔ نئی تکنیکی ترقی کو متعارف کروانے کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے، پاکستان نے شاہپر II کا تازہ ترین ورژن لانچ کیاہے جو ایک درمیانی اونچائی طویل فاصلے تک مار کرنے کی طاقت کا حامل نظام اور بغیر پائلٹ والی جنگی فضائی گاڑی (UCAV)39 ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان نے اپنے میزائل پروگرام میں AI کو شامل کرنے میں بھی پیش رفت حاصل کی ہے، جس کی نشاندہی اس کے حالیہ میزائل سسٹم، یعنی شاہین III اور ابابیل بیلسٹک میزائل اور رعد کروز میزائل سے ہوتی ہے۔ ان میزائلوں میں ایک سے زیادہ آزادانہ طور پر ری اینٹری وہیکلز (MIRVs) اور ٹرمینل گائیڈنس سسٹم جیسی قابل ذکر خصوصیات ہیں۔ بھارت کو افواج پاکستان سے سب سے بڑا خوف ہے ہی یہ کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ ایک مذاق ہے لیکن عسکری کارکردگی کو دیکھا جاۓ تو پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی فوجی پرفارمنس مذاق ہی لگتی ہے ۔ بھارتی اینیلسٹ لکھتے ہیں کہ اپنے محدود وسائل کے ساتھ، پاکستان نے گزشتہ چند سالوں میں اے آئی ملٹریائزیشن میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ بھی کمزور معیشت کے باوجود اور اب پاکستان کی فوج اس شعبے میں بھی بھارت سے سبقت لے جانے کی کوشش میں ہے ۔
جنگ اور ہتھیاروں میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال
1. خودمختار ہتھیار جو مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر اپنے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں ۔
2. پیش گوئی کرنے والے تجزیات ، یہ AI الگورتھم دشمن کی نقل و حرکت اور حکمت عملی کی پیش گوئی کرنے کے لیے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں اور فوجی حکمت عملی کو بڑھاتے ہیں۔
3. سائبر وارفیئر ۔ یہ جارحانہ اور دفاعی سائبر آپریشنز کے لیے AI سے چلنے والے ٹولز ہیں ۔
4. ڈرون سوارمز ، مصنوعی ذہانت کے زیر کنٹرول ڈرونز جو دشمن کے دفاع کو مغلوب کر سکتے ہیں۔
5. انٹیلی جنس اکٹھا کرنے والے پیٹرن اور ویژن کی شناخت کے لیے ڈیٹا کی وسیع مقدار کا تجزیہ کرنے والی مصنوعی ذہانت ۔
6. فیصلے کی معاونت کے نظام ، یہ AI سسٹم کمانڈروں کو فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے ڈیٹا پر مبنی بصیرت فراہم کرتا ہے۔
7. لاجسٹکس اور سپلائی چین مینجمنٹ ، AI وسائل کی تقسیم اور سپلائی چین کے انتظام کو بہتر بناتا ہے۔
8. مواصلاتی نیٹ ورک ، یہ محفوظ اور موثر معلومات کے تبادلے کے لیے AI سے چلنے والے مواصلاتی نیٹ ورکس کہلاتے ہیں۔
خدشات و خطرات
جہاں AI فوجی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے، وہیں اس کے بارے میں خدشات بھی پیدا ہوتے ہیں جیسا کہ
1. فیصلہ سازی میں تعصب
2. غیر ارادی نتائج
3. احتساب کا فقدان
4. تشدد میں اضافہ
5. سائبر سیکیورٹی کے خطرات
یہ بات اب بڑی طاقتوں سمیت تمام انسانی احساس ِ ذمہ داری رکھنے والے ادارے اور شخصیات پوری شدت سے محسوس کر رہے ہیں کہ جنگ میں AI کی ترقی اور استعمال کے لیے اخلاقی اور قانونی مضمرات پر احتیاط سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ذمہ دارانہ احساس اور انسانی اطلاق کو یقینی بنایا جا سکے۔
حفاظتی امور سے متعلق خطرات
یہ AI سسٹم سائبر حملوں کا شکار ہو سکتے ہیں، بشمول مخالفانہ حملے جو سسٹم کو دھوکہ دینے کے لیے ان پٹ ڈیٹا میں ہیرا پھیری کرتے ہیں۔

اخلاقی اور معاشرتی مضمرات
اس میں کوٸی شک نہیں کہ ڈیجیٹل لینگوٸج پر دسترس ہونے کے بعد انسان کے معلومات کے حصول سے لیکر ان معلومات سے فواٸد حاصل کرنے تک کے میدانوں میں مصنوعی ذہانت نے بے مثال ترقی کی ہے لیکن اس کی یہ تیز رفتار ترقی کئی اخلاقی اور معاشرتی خدشات کو جنم دے رہی ہے ۔ جس میں انسانوں سے روزگار کا چھن جانا اور تخلیق کاروں کی موجودگی میں محض ڈیٹا پراسیسنگ کی بنیاد پر تخلیق پارے سے ملتی جلتی چیز کی اینجینٸرنگ کرنا شامل ہیں ۔
تعصب اور انصاف
مصنوعی ذہانت کے کسی بھی نظام کی ڈویلپمینٹ کے وقت یہ ڈویلپر کے اختیار میں ہوتا ہے کہ سسٹمز کے تربیتی ڈیٹا میں موجود تعصبات کو برقرار رکھے یا بڑھا دے جس کے نتیجے میں غیر منصفانہ اور امتیازی نتائج برآمد ہونے لگیں ۔ آج ہم اپنے مشاعرے میں اخلاقی اور نفسیاتی بحران پیدا کرنے والا گھٹیا سے گھٹیا مواد کسی بھی سوشل میڈیا پر اپلوڈ کریں تو منٹوں میں واٸرل ہوجاۓ گا لیکن ہٹلر کا لفظ تک لکھیں تھے ان تمام اپلیکیشنز کا AI الگورتھم یا تو اسے لکھنے ہی نہیں دے گا یا پھر ڈیلیٹ کردے گا ۔ سو یہ کہنا کہ AI سسٹم تعصب سے پاک رکھا جاۓ گا یہ ایک واضح جھوٹ ہوگا ۔
رازداری
مصنوعی ذہانت رکھنے والے سسٹمز کے ذریعے ڈیٹا کی وسیع مقدار کو اکٹھا کرنا اور تجزیہ کرنا رازداری کے لیے خطرات کا باعث بنتا ہے۔جیسے کی فیسبک جیسے فورمز پر راٸویسی بریچ کے الزامات لگاۓ گٸے ہیں کہ انہوں نے صارفین سے متعلق معلومات کو ان کی اجازت کے بغیر استعمال کیا ہے ۔ اسی طرح کٸی دوسری سوشل میڈیا اپلیکیشنز سے ڈیٹا چراۓ جانے اور لیک کیے جانے کی خبریں آنا ابھی تک معمول کی بات ہے ۔
محنت مزدوری کرنے والے انسانوں کی ری پلیس مینٹ
مصنوعی ذاہنت کی طرف سے کاموں کی آٹومیشن سے سب بڑا خطرہ ہیومن ریسورس کو پیدا ہوا ہے اور فیکٹریوں سے لیکر سروسز کے شعبوں تک میں نسانوں کی جگہ روبوٹس کو لایا جا رہا ہے ۔ اگر اس کا سدباب نہ کیا گیا تو لاکھوں کی تعداد میں انسانوں کو بےروزگار ہونا پڑے گا اور دنیا بھر کے انسان اور انسانی معاشرے مصنوعی ذہانت کے باعث نٸے معاشی اور سماجی بحرانوں کا شکار ہوجاٸیں گے ۔
وجودی خطرہ
سپر انٹیلجنٹ AI کا نظریاتی امکان وجودی خطرات کا باعث بن سکتا ہے ۔ علمی ، ادبی اور تخلیقی سطح پر انسان ہی کے دیے گٸے علم ، معلومات اور ڈیٹا کو اکٹھا کرکے انسان کے آگے لا رکھنے سے انسانی عظمت کو نہ صرف نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے بلکہ نتیجے کے طور پر انسان کے ساتھ مشینی بدیانتی کے گلوبل ورلڈ پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اس کی سوچ بھی دہلا دینے کے لیے کافی ہے ۔ دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد پیدا ہونے والے اس سوال کا جواب ابھی تک نہیں دیا جاسکا کہ کیا انسان ایک دوسرے سے لڑ لڑ کر مرنے اور مارنے کے لیے پیدا ہوا ہے یا کیا چند گروہوں یا افراد کو یہ حق حاصل کہ وہ باقی تمام دنیا کے انسانوں کی تقدیر کا فیصلہ کریں ، کہ اب مصنوعی ذہانت کو حقیقی ذہانت کی جگہ دلانے کے لیے کوش کی جا رہی ہے ؟
اخلاقی خدشات:
اخلاقی ذمہ داری ،AI نظام کے ذریعے کیے گئے فیصلوں کے لیے جوابدہی اور ذمہ داری کا تعین کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ابھی تو انسان پوری طرح اپنی اخلاقی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا تو کیا مشین پر یقین کر لیا جاۓ کہ اس کے کسی فیصلے سے برپا ہوجانے والی تباہی کی ذمہ دار وہی ہے ۔ کیا مشین کو سزا کے طور پر جیل میں رکھا جاۓ گا یا سزاۓ موت دی جاۓ گی ۔ ایسی صورت میں سزا کا یہ عمل کیا دوسری مشینوں کے لیے کسی طرح کے سبق کا باعث ہوگا کہ نہیں ۔
ٹیکنالوجی پر انحصار:
مصنوعی ذہانت کے سسٹمز پر ضرورت سے زیادہ انحصار انسانی صلاحیتوں اور فیصلوں کے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
سسٹم کی ناکامیاں
مصنوعی ذہانت پر انحصار خطرناک ہو سکتا ہے اگر سسٹم ناکام ہو جاتے ہیں یا غلط نتائج پیدا کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں کیا کیا ہوسکتا ہے اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ کل کلاں آرٹیفشل انٹیلیجنس اور انسان دشمنوں کی طرح آمنے سامنے بھی آ سکتے ہیں ۔
مصنوعی ذہانت کے فوائد
کارکردگی اور پیداواری صلاحیت:
اے آئی سسٹمز اعلی کارکردگی کے ساتھ دہرائے جانے والے کام انجام دے سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر جس طرح پہلے پہلے آنے والی فوٹو کاپی مشین سے ایک ایک فوٹو کاپی نکالی جاتی تھی لیکن اب صرف ایک کمانڈ پر مرضی کی تعداد میں کاپیاں لی جاتی ہیں ۔ مصنوعی ذہانت کی حامل مشینیں بجا طور پر انسانی کارکنوں کو زیادہ پیچیدہ اور تخلیقی سرگرمیوں کے لیےآزاد کر سکتی ہیں۔مزید یہ کہ
انسانوں کے برعکس، AI نظام تھکاوٹ کے بغیر مسلسل کام کر سکتا ہے، جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
درستگی اور درستگی:
انسانی خرابی میں کمی لانے کے لیے جب AI سسٹمز کو مناسب طریقے سے پروگرام کیا جاتا ہے تو یہ نظام اعلی درستگی کے ساتھ کام انجام دے سکتا ہے اور دستی عمل سے وابستہ غلطیوں کو کم کرتا ہے۔
ڈیٹا کا تجزیہ
مصنوعی ذہانت سسٹم بڑی مقدار میں ڈیٹا پر تیزی سے اور درست طریقے سے کارروائی کر سکتا ہے۔ یہ نظام ایسی پرفیکشن فراہم کرتا ہے جو انسانی تجزیہ سے نظر انداز ہو سکتی ۔
لاگت کی بچت:
مزدوری کی لاگت میں کمی لانے اور منافع کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے AI کے ذریعے کاموں کی آٹومیشن مختلف صنعتوں میں مزدوری کے اخراجات کو کم کر سکتی ہے۔ اسی طرح آپریشنز ایفیشینسی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے جس سے توانائی اور مواد دونوں میں نمایاں بچت ہوتی ہے۔
بہتر فیصلہ سازی:
ڈیٹا سے چلنے والی مہارتوں کے ضمن میں AI الگورتھم قابل عمل بصیرت فراہم کرنے کے لیے ڈیٹا کا تجزیہ کر سکتی ہے جس سے آرگناٸزیشنز کو باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔
پیشین گوئی تجزیات کے ضمن میں بھی وسیع پیمانے پر حاصل شدہ ڈیٹا کے تجزیے کی بنیاد پر AI رجحانات اور نتائج کی پیشن گوئی کر سکتی ہے جس فعال فیصلہ سازی کے عمل کو ممکن بنایا جاسکتا ہے ۔
جدت اور نئے مواقع:
نئی مصنوعات اور خدمات کے میدان میں AI اختراعی مصنوعات اور خدمات کی تخلیق کو قابل بناتا ہے، جیسے کہ ذاتی نوعیت کی سفارشات اور ورچوئل معاونت وغیرہ جیسے کہ تصویر سازی اور ڈیزاٸننگ اور ویڈیو فوٹو کلر گریڈنگ جیسے شعبوں میں غیر تخلیقی اور کم مہارت رکھنے والے انسانوں کو
بہتر فنی صلاحیت کے ساتھ نئی آپشنز مہیا کرنے اور غیر جذباتی اور غیر قلبی انسانی فنکارانہ صلاحیتوں کو بڑھانے میں مدد کر سکتا ہے۔
صحت کی دیکھ بھال کی ترقی:
تشخیص اور علاج کے شعبے میں AI تشخیصی اور ذاتی نوعیت کے علاج کے منصوبوں کو بہتر بنا سکتا ہے جس سے مریض کے صحت یاب ہونے کے زیادہ بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
کسٹمر سروس
چھوٹے کاروبار کی سطح پر AI صارف کو بروقت اور بہترین ورچوٸل کسٹمر سپورٹ مہیا کرکے متعلقہ معلومات فراہم کرتے ہوۓ کسٹمر کے اطمینان اور بزنس کے ساتھ لاٸلٹی کو بڑھا سکتا ہے۔
نتیجہ
مصنوعی ذہانت ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا شعبہ ہے جس میں معاشرے کو گہرے طریقوں سے تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے۔ اگرچہ اس کی ایپلی کیشنز اہم فوائد کا یقین دلاتی ہیں لیکن اخلاقی اور معاشرتی چیلنجز سے نمٹنا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بہت ضروری ہے کہ AI کی ترقی انسانی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور بہتر کام کرے۔ جیسا کہ AI آگے بڑھ رہا ہے، اس کی صلاحیت کو ذمہ داری سے بروئے کار لانے کے لیے بین الضابطہ تعاون اور مضبوط گورننس فریم ورک بھی ضروری ہوگا اور انسانی احساس ِ ذمہ داری ناگزیر ہوگا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یا تو انسانوں پر مشینی تسلط قاٸم ہوجاۓ یا ناعاقبت اندیش انسانوں کے ہاتھ میں آ کر تباہی کا باعث بن جاۓ ۔